نگراں وزیراعظم کیلیے بیشتر سیاسی جماعتیں محمود اچکزئی پرمتفق

مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کا محمود اچکزئی پر تحفظات کا اظہار ، مخالفت کرنے کا فیصلہ


Numainda Express January 07, 2013
مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت کا محمود اچکزئی پر تحفظات کا اظہار ، مخالفت کرنے کا فیصلہ

ملک بھر کی بیشتر بڑی سیاسی جماعتوں نے بلوچستان سے تعلق رکھنے والے پختونخوا عوامی ملی پارٹی کے سربراہ محمود خان اچکزئی کا نام آئندہ نگراں وزیر اعظم کے طور پر سامنے آنے کے بعد ان پر اعتماد کا اظہار کردیا ہے۔

ایک اہم پیش رفت کے طور پر جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن اور ان کی جماعت نے متوقع طور پر محمود اچکزئی کو نگراں وزیر اعظم بنانے پر نہ صرف شدید تحفظات کا اظہار کر دیا ہے بلکہ اس کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ مسلم لیگ (ن)، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ (ق)، اے این پی، تحریک انصاف، ایم کیو ایم، جماعت اسلامی سمیت بڑی سیاسی جماعتوں کے قائدین درپردہ محمود اچکزئی کو ملک کا آئندہ نگراں وزیر اعظم بنانے کی تائید کر چکے ہیں۔

اہم حکومتی ذرائع نے ''ایکسپریس'' کو بتایا کہ وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے وفاقی وزرا قمر زمان کائرہ، سید خورشید شاہ، نذر گوندل، میاں منظور احمد وٹو اور سینیٹر رضا ربانی کو نگراں وزیر اعظم کے معاملے پر مکمل اتفاق رائے پیدا کرنے کے لیے سیاسی جماعتوں کے قائدین کے ساتھ رابطوں کا ٹاسک دے دیا ہے۔ یہ حکومتی شخصیات آئندہ چند روز کے اندر سیاسی جماعتوں کے سربراہان سے ملاقات کریں گی۔

13

معلوم ہوا ہے کہ مولانا فضل نے محمود اچکزئی کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے لیے صدرآصف زرداری سے جلد ملاقات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ جے یو آئی (ف) کے مرکزی رہنما اور سابق ایم این اے حافظ حسین احمد نے ''ایکسپریس'' سے گفتگو کے دوران کہا کہ نگراں وزیر اعظم کا غیر جانبدارانہ رول اہم ہوتا ہے، محمود اچکزئی ایک پارٹی کے سربراہ ہیں اور بلوچستان میں بیشتر نشستوں پر ان کی جماعت کے امیدواروں کا ہماری جماعت کے امیدواروں کے ساتھ ون آن ون مقابلہ ہے۔

حافظ حسین نے اس امر کی تصدیق کی کہ جب حکومت ہمارے ساتھ نگراں وزیر اعظم کے معاملے پر مذاکرات کرے گی تو ہم اپنے تحفظات اس معاملے پر حکومت کے سامنے رکھیں گے، ہم مشاورت کے بعد لائحہ عمل کا اعلان کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ جے یو آئی (ف) کا اصولی موقف یہ ہے کہ نگراں وزیر اعظم مکمل طور پر غیر جانبدار شخصیت ہونی چاہیے تاکہ آئندہ انتخابات کی شفافیت اور ساکھ پر کوئی انگلی نہ اٹھا سکے۔