جنوبی وزیرستان میں پھر ڈرون حملہ

سیاسی افراتفری اور خلفشار سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا تو اس کا فائدہ دہشت گردوں ہی کو پہنچے گا۔


Editorial January 07, 2013
ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر حرف آرہا ہے۔ فوٹو: فائل

جنوبی وزیرستان میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب ڈرون حملوں میں 17 افراد ہلاک اور 7 زخمی ہو گئے۔ اخباری اطلاعات کے مطابق یہ حملے کالعدم تحریک طالبان کے دو کمانڈروں کریم خان اور قاری عمران پنجابی کے مراکز پر کیے گئے۔ ان حملوں میں قاری عمران پنجابی اور طالبان کے فدائین گروپ کے کمانڈر ولی محمد الیاس عرف طوفان محسود کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔ جمعرات کو جنوبی وزیرستان میں انگور اڈہ کے قریب ہونے والے ڈرون حملے میں حکیم اللہ محسود گروپ کے مخالف طالبان کمانڈر ملا نذیر سمیت 16 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

2013ء کے آغاز سے یہ تیسرا بڑا ڈرون حملہ ہے۔ امریکا شمالی اور جنوبی وزیرستان میں ایک طویل عرصے سے مسلسل ڈرون حملے کر رہا ہے' جن میں اب تک سیکڑوں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔ امریکی موقف ہے کہ ان علاقوں میں طالبان اور القاعدہ کے افراد چھپے ہوئے ہیں جو وہاں سے نکل کر افغانستان میں حملے کرتے اور انھیں نقصان پہنچاتے ہیں لہٰذا وہ ان افراد کے ٹھکانوں پر حملے کر رہا ہے۔ اسی امر کو جواز بنا کر امریکا پاکستان پر بھی شمالی وزیرستان میں آپریشن کے لیے مسلسل دبائو ڈال رہا ہے۔

امریکا کے موقف سے قطع نظر یہ حقیقت ہے کہ ڈرون حملوں کی وجہ سے پاکستان کے اقتدار اعلیٰ پر حرف آرہا ہے۔پاکستان اس حوالے سے امریکا سے کئی بار احتجاج بھی کرچکا ہے۔یوں یہ ڈرون حملے پاکستان اور امریکا کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کا باعث بن رہے ہیں۔ان حملوں میں بے گناہ افراد کے مارے جانے کے باعث مقامی قبائل میں امریکا کے خلاف نفرت تو بڑھ ہی رہی ہے لیکن حکومت پاکستان کے لیے بھی مسائل بڑھ رہے ہیں۔

ادھر تصویر کا دوسرا رخ یہ ہے کہ جب کسی ڈرون حملے میں کوئی القاعدہ یا طالبان کا روپوش لیڈر مارا جاتا ہے تو عالمی سطح پر یہ تاثر پختہ ہوتا ہے کہ پاکستان کے زیر انتظام قبائلی علاقوں میں ایسے عناصر موجود ہیں جو دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہیں۔ یوں پاکستان کے لیے عالمی سطح پر مسائل پیدا ہورہے ہیں۔دوسری جانب پاکستان کے اندر جو دہشت گردی کی کارروائیاں ہو رہی ہیں، ان کے ڈانڈے بھی قبائلی علاقوں سے ملتے ہیں۔کالعدم تحریک طالبان اندرون پاکستان اپنی کارروائیاں جاری رکھنے کا عندیہ دے چکی ہے۔ صوبہ خیبر پختون خوا ان کے خاص نشانے پر ہے وہاں وہ مسلسل بم دھماکے اور خود کش حملے کر کے قتل و غارت گری کا بازار گرم رکھے ہوئے ہیں۔

صوبے کے سینئر وزیر بشیر احمد بلور کو ایک خود کش حملے میں شہید کرنے کے بعد وہ اے این پی کے رہنمائوں اور جمہوریت کے حامی سیاستدانوں کو قتل کرنے کی دھمکی دے چکے ہیں۔ انھوں نے خاصہ دار فورس کی چیک پوسٹ پر حملہ کر کے 22 اہلکاروں کو اغوا کر کے شہید کر دیا۔ پورا پاکستان دہشت گردی کے عفریت کی لپیٹ میں آیا ہوا ہے۔ کراچی میں قتل و غارت گری روز مرہ کا معمول ہے۔ بلوچستان میں روزانہ بے گناہ افراد کی لاشیں گر رہی ہیں۔ یہ امر اس پر دلالت کرتا ہے کہ دہشت گردوں کے مقابلے میں حکومتی اقدامات ناکافی ہیں اور دہشت گرد ریاستی اداروں سے زیادہ فعال اور متحرک ہیں اور وہ بڑے منظم انداز میں اپنی کارروائیاں کرکے سیکیورٹی اداروں کے لیے چیلنج بنے ہوئے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق جنوبی اور شمالی وزیرستان عسکریت پسندوںکی محفوظ پناہ گاہ ہیںاور ان علاقوں میں حکومتی رٹ بھی کافی کمزور ہے۔ یہی سبب ہے کہ ان علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان اور دیگر عسکریت پسند آزادانہ رہ رہے ہیں۔ دہشت گرد اب تک پولیس کے اور دیگر دفاعی اداروںکو نشانہ بنا چکے ہیں جن میں بڑی تعداد میں افسران اور جوان جام شہادت نوش کر چکے ہیں۔ دہشت گردوں کی ان بڑھتی ہوئی کارروائیوں کے نتیجے میں نہ صرف عوامی سطح پر ان کی مخالفت میں خاطر خواہ اضافہ ہوا ہے بلکہ حکومتی سطح پر بھی ان کے خلاف احتجاجی آوازیں بلند سے بلند تر ہونے لگیں۔ یہاں تک کہ جو کل تک عسکریت پسندوں کے بارے میں نرم گوشہ رکھتے تھے، وہ بھی اپنی رائے بدلنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔

اس تمام پس منظر میں اب یہ بات کھل کر سامنے آ گئی ہے کہ دہشت گردوں سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے کہ پوری قوم متحد ہو کر دفاعی قوتوں کا ساتھ دے تاکہ اس عفریت سے نجات مل سکے۔ سب سے زیادہ ضرورت سیاستدانوں، علماء کرام اور دانشوروں کا اس ایک نکتے پر یکجا ہونا ہے کہ عسکریت پسندوں کو کوئی رعایت نہ دی جائے ۔یہ تسلیم کرنا پڑے گا کہ بیشترسیاسی جماعتوں کی جانب سے کوئی بھی ایسا واضح اظہار سامنے نہیں آیا جس میں دہشت گردی کے امڈتے ہوئے خطرے کی سنگینی کو محسوس کیا گیا ہو۔ ایم کیو ایم اور اے این پی کا اسٹینڈ خاصا مضبوط ہے۔پیپلز پارٹی بھی عسکریت پسندوں کی برملا مخالف ہے۔ملک کی دیگر سیاسی اور مذہبی جماعتیں بھی اصولی طور پر عسکریت پسندوں کی مخالف ہیں لیکن ان کے موقف میں اگر اور مگر شامل ہونے سے صورتحال خاصی تبدیل ہوجاتی ہے۔

سیاسی اور مذہبی جماعتوں کو بھی اب اس امر کا ادراک کر لینا چاہیے کہ سیاسی افراتفری اور خلفشار سے ملکی سلامتی کو نقصان پہنچا تو اس کا بلاواسطہ یا بالواسطہ فائدہ دہشت گردوں ہی کو پہنچے گا اور وہ پہلے سے بھی زیادہ مضبوط اور منظم انداز میں ابھر کر سامنے آئیں گے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں خواہ ان کا تعلق کسی بھی نظریے سے ہو خواہ وہ دائیں بازو کی ہوں یا بائیں کی انھیں بھی پاکستان کی سلامتی اور مفادات کو ترجیح دے کر اپنے ڈاکٹرائن کو تبدیل کرتے ہوئے دہشت گردی کو سب سے بڑا خطرہ قرار دے کر متفقہ طور پر آگے بڑھنا ہو گا۔یہی وہ طریقہ ہے جس سے قبائلی علاقوں سے عسکریت پسندی کا خاتمہ ہوسکتاہے، اسی طریقے سے ڈرون حملوں کو بند کرایا جاسکتا ہے۔