الطاف حسین کا قابل قدر طرز عمل

عدلیہ کا احترام سب پر فرض ہے اور اس معاملے میں اگر مگر یا چونکہ چنانچہ کی گنجائش نہیں ہے۔


Editorial January 08, 2013
ایم کیو ایم کے قائد نے عدالت عظمیٰ سے معافی مانگ کر ملک کے حکمرانوں‘ بالادست اور با اختیار طبقوں اور عوام کے سامنے ایک مثال قائم کر دی ہے۔ فوٹو: فائل

متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے توہین عدالت کیس میں سپریم کورٹ آف پاکستان سے تحریری طور پر غیر مشروط معافی مانگ لی ہے۔ عدالت عظمیٰ نے غیر مشروط معافی کی درخواست منظور کرتے ہوئے انھیں جاری کردہ توہین عدالت کے معاملے پر اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کر دیا۔ یوں انتہائی حساس نوعیت کا یہ معاملہ خوش اسلوبی سے طے پا گیا۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین نے اس سارے معاملے میں دانشمندی اور تدبر کا مظاہرہ کیا۔

وہ خود جذبات میں آئے نہ کارکنوں کو جذباتی کیا حالانکہ یہ ایسا معاملہ تھا جس پر امن و امان کا مسئلہ پیدا کیا جا سکتا تھا۔ انھوں نے کارکنوں کو ہدایت کر رکھی تھی کہ وہ اس سارے معاملے میں پرسکون رہیں اور عدلیہ کے احترام کو یقینی بنائے رکھیں۔ ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنوں نے ان کی ہدایت پر پوری دلجمعی سے عمل کیا اور اس کا نتیجہ اظہار وجوہ کا نوٹس خارج ہونے کی شکل میں سامنے آ گیا ہے۔ متحدہ قومی موومنٹ کے قائد الطاف حسین نے عدالت عظمیٰ سے غیر مشروط معافی طلب کر کے ثابت کر دیا ہے کہ وہ خود اور ایم کیو ایم بطور ایک سیاسی جماعت آئین و قانون کی بالادستی پر یقین رکھتی ہے اور ملک کی اعلیٰ عدالتوں اور فاضل جج صاحبان کا مکمل احترام کرتے ہیں۔

ادھر یہ امر بھی خوش آیند ہے کہ عدالت عظمیٰ نے جناب الطاف حسین کی طرف سے پیش کردہ تحریری معافی نامہ قبول کیا اور اظہار وجوہ کا نوٹس خارج کرکے اس معاملے کو فوری طور پر طے کر دیا' یوں دونوں جانب سے انتہائی خوشگوار تاثر دیا گیا جس کے مستقبل میں اچھے اثرات مرتب ہوں گے۔ جب ایم کیو ایم کے قائد کی جانب سے تحریری معافی نامہ پیش کیا گیا تو اس موقعے پر چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیے کہ یہ اچھا جذبہ ہے' ہم اسے سراہتے ہیں' سیاسی لیڈر عدالتوں کا احترام کریں گے تو عوام کا اعتماد بڑھے گا۔

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے مزید ریمارکس دیے کہ جو عدالتوں کی عزت کرتے ہیں ہم بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔ یوں عدالت عظمیٰ نے واضح کیا کہ وہ کسی معاملے کو انا کا مسئلہ نہیں بناتی اور اس کا مقصد آئین اور قانون کی بالادستی کو یقینی بنانا ہے۔ عدالت عظمیٰ نے جناب الطاف حسین کو ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دے رکھا تھا' عدالت عظمیٰ تحریری معافی نامے کو مسترد کرنے کا اختیار رکھتی تھی اور وہ جناب الطاف حسین کو دوبارہ ذاتی طور پر حاضر ہونے کا حکم دے سکتی تھی لیکن فاضل جج صاحبان نے جناب الطاف کو پورا احترام دیا اور ان کی عزت و وقار کا خیال رکھتے ہوئے فوری طور پر اس معاملے کو خوش اسلوبی سے نمٹا دیا۔

ایم کیو ایم کے قائد نے عدالت عظمیٰ سے معافی مانگ کر ملک کے حکمرانوں' بالادست اور با اختیار طبقوں اور عوام کے سامنے ایک مثال قائم کر دی ہے کہ عدلیہ کا احترام سب پر فرض ہے اور اس معاملے میں اگر مگر یا چونکہ چنانچہ کی گنجائش نہیں ہے۔ جناب الطاف حسین ملک کی قد آور اور محترم سیاسی شخصیت ہیں' وہ ایم کیو ایم جیسی منظم ' ہر دل عزیز اور بڑی سیاسی جماعت کے قائد ہیں' عوام میں ان کی مقبولیت شک و شبے سے بالاتر ہے' وہ اگر چاہتے تو اس ایشو پر معاملات بگڑ سکتے تھے اور کراچی ہی نہیں ملک بھر میں گھیرائو جلائو کا سلسلہ شروع ہو سکتا تھا۔ جمہوریت کا بوریا بستر لپیٹنے کی خواہشمند قوتیں شاید ایسا ہی چاہتی تھیں۔ ان کا منصوبہ تھا کہ ایم کیو ایم اور عدلیہ میں ٹکرائو ہو جائے اور اس کے بعد معاملات کو پوائنٹ آف نو ریٹرن تک پہنچا دیا جائے کیونکہ ایسا ہونے میں ہی ان کا مفاد تھا۔

خدانخواستہ ایسا ہو جاتا تو ملک و قوم کو ناقابل تلافی نقصان پہنچنے کا اندیشہ تھا لیکن اس ساری صورتحال میں جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قیادت اور کارکنوں نے انتہائی صبروتحمل اور بردباری کا مظاہرہ کیا۔ انھوں نے سارے معاملات کا بغور جائزہ لیا اور اس کے بعد وہ راستہ اختیار کیا' جو آئینی' قانونی بھی تھا اور ملک و قوم کے بہترین مفاد میں بھی تھا۔ اب یہ معاملہ طے ہو چکا ہے اور جمہوریت مخالف قوتیں اپنا کھیل کھیلنے میں ناکام ہو گئی ہیں۔ ملک کی تمام سیاسی جماعتوں اور طاقتور شخصیات کو جناب الطاف حسین اور ایم کیو ایم کے اس مدبرانہ اور دور اندیشانہ طرز عمل سے سبق سیکھنا چاہیے۔

جمہوریت میں قابل احترام اور قد آور وہی ہوتا ہے جو آئین و قانون کی حکمرانی کو تسلیم کرنے کا زبانی کلامی دعویدار نہ ہو بلکہ عملاً ایسا کر کے بھی دکھائے۔پاکستان اب ایک ایسے دور میں داخل ہو گیا ہے جہاں آئین و قانون کی حکمرانی کے سوا کوئی اور نظام نہیں چل سکتا۔ الطاف حسین اور ایم کیو ایم کی قیادت نے اس معاملے میں بھی رہنما کردار ادا کیا ہے۔ ان کے طرز عمل سے پاکستان کے عوام تک یہ پیغام پہنچا ہے کہ ایم کیو ایم کے بارے میں جو منفی پراپیگنڈہ کیا جا رہا ہے' اس میں کوئی صداقت نہیں ہے۔ ایم کیو ایم اس ملک کی مین اسٹریم سیاسی پارٹی ہے اور وہ جمہوری نظام اور آئین و قانون کی بالادستی پر کامل یقین رکھتی ہے۔