عمران خان کوغیرملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہنا سوشل میڈیا پرمہنگا پڑگیا

ویب ڈیسک  منگل 7 مارچ 2017
عمراں خان کے بیان نے شائقین کرکٹ کو غم و غصہ میں مبتلا کردیا ہے۔

عمراں خان کے بیان نے شائقین کرکٹ کو غم و غصہ میں مبتلا کردیا ہے۔

پاکستان تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کی جانب سے پی ایس ایل فائنل کھیلنے کے لیے لاہور آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہنے پر سوشل میڈیا پر شدید تنقید نشانہ بنایا جارہا ہے۔

لاہور میں پی ایس ایل فائنل کا انعقاد انتہائی کامیابی کے ساتھ ہوا جس میں کئی نامورغیر ملکی کھلاڑیوں نے حصہ لیا، پی ایس ایل کے فائنل نے نہ صرف بین الاقوامی میڈیا میں جگہ بنائی بلکہ پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کی امید بھی ساتھ لائی ہے۔

اس خبر کو بھی پڑھیں : پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کے دروازے کھل گئے

گزشتہ روز آئی سی سی کے ٹاسک فورس کے سربراہ  جائلز کلارک نے پی ایس ایل کے کامیاب انعقاد پر مبارک باد بھی دی جب کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل نے بھی ورلڈ الیون پاکستان بھیجنے کی منصوبہ بندی شروع کردی لیکن تحریک انصاف کے چیرمین عمران خان کی جانب سے غیر ملکی کھلاڑیوں کو پھٹیچر کہنے کے بیان نے شائقین کرکٹ کو غم و غصہ میں مبتلا کردیا ہے اور سوشل میڈیا پر عمران خان کو شدید تنقید نشانہ بنایا جارہا ہے۔

ماہ نور شیخ کا کہنا تھا کہ پاکستان تحریک انصاف کی حمایتی ہوں لیکن عمران خان کی جانب سے اس طرح کا بیان دیکھ کر دکھ ہوا۔

حمزہ ناظم نے ٹوئٹ میں کہا کہ ڈیرن سیمی نے 2 ورلڈ کپ جیتے اور عمران خان نے صرف ایک، اگر سیمی پھٹیچر ہے تو پھر عمران خان کے بارے میں کیا کہیں گے۔

ٹوئٹر صارف اقصیٰ نے لاہور آنے والے غیر ملکی کھلاڑیوں کی تصویر شئیر کی اور کہا کہ وہ ان پھٹیچر کھلاڑیوں سے پیار کرتی ہیں۔

ایم کیو ایم پاکستان کے رہنما علی رضا عابدی نے ٹوئٹ میں کہا کہ پی ٹی آئی کو مائنس ون کا آپشن استعمال کرنا چاہیے کیونکہ اگر ایسا نہ ہوا تو 2018 کے الیکشن کا نتیجہ بھی پھٹیچر آئے گا۔

ایک اور ٹوئٹ میں صارف نے کہا کہ عمران خان ایسا کرکے اپنی ہی سیاست کا خاتمہ کررہے ہیں۔

ثوبان جاوید نے کہا کہ غیر ملکی کھلاڑی ہماری کرکٹ کو مظبوط کرنے کے لیے سیکیورٹی خدشات کے باوجود پاکستان آئے لیکن ہمارے لیڈرز کی جانب سے ایسےبیانات افسوس ناک ہیں۔

احمد قریشی نے کہا کہ عمران خان کو پی ایس ایل میں شامل تمام غیر ملکی کھلاڑیوں کی عزت کرنی چاہیے کیونکہ وہ ایک ایسے وقت میں پاکستان آئے جب کوئی بھی ٹیم ملک میں آنے کے لیے تیار نہیں تھی۔

 

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔