عرفان کا ’’لمبا‘‘ کیریئر فکسنگ کیس کی دھند میں گم

اسپورٹس رپورٹر  جمعـء 10 مارچ 2017
سلیکٹرز نے کامران اکمل کی صورت میں ’’نوجوان‘‘ ٹیلنٹ تلاش کرلیا، محمد رضوان باہر،احمد شہزاد کی واپسی ہوگئی۔ فوٹو: فائل

سلیکٹرز نے کامران اکمل کی صورت میں ’’نوجوان‘‘ ٹیلنٹ تلاش کرلیا، محمد رضوان باہر،احمد شہزاد کی واپسی ہوگئی۔ فوٹو: فائل

 لاہور:  محمد عرفان کا لمبا ’’کیریئر‘‘ فکسنگ کیس کی دھند میں گم ہونے لگا، بکیز کے رابطے کی رپورٹ نہ کرنے والے پیسر پی ایس ایل کھیلتے رہے، مگر اب انھیں ویسٹ انڈیز سے سیریز کے ممکنہ پلیئرز میں شامل نہیں کیا گیا ہے، بورڈ نے پریس ریلیز میں ان کے اخراج کی وجہ بتانے سے گریز کیا۔

انضمام الحق کی زیرسربراہی کام کرنے والی قومی کرکٹ سلیکشن کمیٹی نے دورئہ ویسٹ انڈیزکیلیے31 ممکنہ کھلاڑیوں کا اعلان کردیا ہے۔ پی ایس ایل کے آغاز میں فکسنگ شکوک کی زد میں آنے والے طویل القامت پیسر محمد عرفان کو نظر انداز کردیا گیا۔

ان پر سٹے بازوں کی آفر کا اینٹی کرپشن حکام کو نہ بتانے کا الزام ہے، دلچسپ بات یہ ہے کہ اس کے باوجود وہ سپر لیگ کھیلتے رہے مگر اب کیمپ تک انہیں نہیں بلایا جا رہا، گوکہ بورڈ نے عرفان کے اخراج کی کوئی وجہ نہیں بتائی مگر ذرائع نے تصدیق کی کہ فکسنگ کیس ہی سبب بنا۔ ڈومیسٹک کرکٹ کے بعد پاکستان سپر لیگ میں اچھی کارکردگی دکھانے والے کامران اکمل اور احمد شہزاد کیلیے قومی ٹیم کے دروازے کھلنے لگے، دونوں کو ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل کرلیا گیا،انھیں محدود اوورز کی کرکٹ میں گرین شرٹ زیب تن کرنے کا موقع دیے جانے کا بھی قوی امکان ہے۔

یاد رہے کہ کامران اکمل نے پاکستان کیلیے آخری ون ڈے2013 جبکہ ٹوئنٹی 20اپریل 2014میں کھیلا تھا، وکٹ کیپر بیٹسمین نے گوکہ ڈومیسٹک کرکٹ اور پی ایس ایل میں عمدہ پرفارم کیا، مگر35سال میں سلیکٹرز نے ان کا انتخاب کرکے مستقبل کیلیے نیا ٹیلنٹ تلاش کرنے کی اپنی پالیسی کی نفی کردی ہے۔ وکٹ کیپر بیٹسمین محمد رضوان کو نظر انداز کردیا گیا جبکہ احمد شہزاد کو گذشتہ سال بھارت میں ورلڈ ٹوئنٹی20 کے بعد ڈراپ کردیا گیا تھا، ہیڈ کوچ وقار یونس نے اپنی رپورٹ میں اوپنر کے ساتھ عمر اکمل پر بھی ڈسپلن کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا۔

علاوہ ازیں احمد شہزاد قومی ون ڈے کپ میں 653رنز کے ساتھ ٹاپ اسکورر رہے،انھوں نے پی ایس ایل میں 3ففٹیز بھی اسکور کرکے سلیکٹرز کی توجہ حاصل کرلی،اسی ایونٹ میں عمدہ کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فخر زمان، رومان رئیس، اسامہ میر، عثمان شنواری اور شاداب خان کو تربیتی کیمپ میں مدعو کرلیا گیا ہے۔ قائد اعظم ٹرافی میں 71 وکٹوں کے ساتھ سب سے کامیاب بولر محمد عباس، متاثر کن بیٹنگ فارم دکھانے والے آصف ذاکر بھی ٹریننگ کیلیے منتخب ہوئے،آل راؤنڈر فہیم اشرف، حسین طلعت، عماد بٹ اور سعد علی بھی شامل ہونگے۔

پی ایس ایل میں اوسط درجے کی کارکردگی کے باوجود جنید خان کو کیمپ کیلیے طلب کیا گیا، قومی ون ڈے ٹیم میں جگہ غیر محفوظ ہونے کے باوجود سابق کپتان اظہر علی بھی ممکنہ کھلاڑیوں کی فہرست میں شامل ہیں،ناقص کارکردگی کے بعد ٹیسٹ اسکواڈ سے ڈراپ کیے جانے والے شان مسعود کو بھی ایک بار پھر توجہ کا مستحق سمجھا گیا،ڈومیسٹک کرکٹ میں بہترکارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے فواد عالم کی جگہ نہیں بن سکی۔

منتخب کھلاڑیوں میں سرفراز احمد، احمد شہزاد، محمد حفیظ، فخر زمان، اظہر علی، شان مسعود، بابر اعظم، شعیب ملک، عمر اکمل، آصف ذاکر، سعد علی، کامران اکمل، فہیم اشرف، حسین طلعت، عماد بٹ، محمد عامر، حسن علی، وہاب ریاض، راحت علی، رومان رئیس، سہیل خان، جنید خان، سہیل تنویر، محمد عباس، عثمان شنواری، اسامہ میر، عماد وسیم، محمد اصغر، شاداب خان، محمد نواز اور یاسر شاہ شامل ہیں۔

منتخب پلیئرز ویسٹ انڈیز کیخلاف ٹوئنٹی 20 اور ون ڈے میچز کی تیاری کیلیے11مارچ کو لاہور میں شروع ہونے والے کیمپ میں شریک ہوں گے جبکہ ہیڈ کوچ مکی آرتھر اور معاون اسٹاف رہنمائی کیلیے موجود رہیں گے۔ محدود اوورز کی کرکٹ کے دونوں فارمیٹ کیلیے اسکواڈز کا اعلان ایک ہفتے کی ٹریننگ میں فارم اور فٹنس دیکھ کر17مارچ کو کیا جائے گا، 22اپریل سے شروع ہونے والی ٹیسٹ سیریز کیلیے تربیتی کیمپ کا اعلان بعد میں ہوگا۔

واضح رہے کہ قومی ٹیم کیریبیئن جزائر کے ٹور کا آغاز 4 ٹوئنٹی20 میچز سے کرے گی، پہلا مقابلہ 26مارچ کو ہوگا، اس سیریز کے بعد 3 ون ڈے اوراتنے ہی ٹیسٹ بھی ہونے ہیں۔

ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔