اب موبائل انٹرنیٹ سگنل کی طرح بیٹری کا تبادلہ بھی کریں گے

ویب ڈیسک  جمعـء 17 مارچ 2017
جاپانی کمپنی نے پاور یوزنگ سسٹم اسمارٹ فون میں متعارف کرایا ہے جو بالکل وائی فائی ہاٹ اسپاٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ فوٹو: فائل

جاپانی کمپنی نے پاور یوزنگ سسٹم اسمارٹ فون میں متعارف کرایا ہے جو بالکل وائی فائی ہاٹ اسپاٹ کی طرح کام کرتا ہے۔ فوٹو: فائل

 لندن: گزرتے وقت کے ساتھ اسمارٹ فون زندگی کا اہم حصہ بنتا جا رہا ہے جس کے بغیر وقت گزارنا انسان کے لئے مشکل دیکھائی دیتا ہے لیکن موبائل کی سب سے بڑی مشکل بیٹری کا جلد ختم ہونا ہے تاہم جاپانی کمپنی نے اس کا بھی حل نکال لیا ہے۔

جاپانی کمپنی سونی نے اسمارٹ فون کی بیٹری جلد ختم ہونے کا حل نکال لیا اور ایسے پروجیکٹ پر کام شروع کردیا جسے استعمال کرتے ہوئے صارفین اپنے ارد گرد لوگوں کے موبائل فون سے کسی بھی تار کے بغیر اپنا موبائل فون چارج کرسکتے ہیں۔ آسان الفاظ میں یوں کہا جاسکتا ہے کہ اب آپ موبائل کی بیٹری ختم ہونے کی صورت میں کسی بھی شخص کے موبائل کی بیٹری کی طاقت چوری کر کے اپنا موبائل چارج کرسکتے ہیں۔

جاپانی کمپنی نے پاور یوزنگ سسٹم اسمارٹ فون میں متعارف کرایا ہے جو بالکل وائی فائی ہاٹ اسپاٹ کی طرح کام کرتا ہے، جس طرح ایک موبائل صارف وائی فائی آن کرنے کے بعد انٹرنیٹ سگنل حاصل کرتا ہے ٹھیک اسی طرح پاور یوزنگ سسٹم آن کر کے ایک صارف دوسرے کو اپنے موبائل کی بیٹری استعمال کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ کمپنی کے مطابق موبائل بیٹری کے تبادلے کی نئی ٹیکنالوجی پر کام جاری ہے تاہم اب تک مارکیٹ میں اس قسم کے موبائل متعارف نہیں کرائے گئے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ نئی ٹیکنالوجی کو استعمال کرنے کے لئے موبائل میں ایک چپ لگانی ہوگی جو نیئر فیلڈ کمیونی کیشن سے لیس ہوگی جو محدود حد تک ڈیٹا ٹرانسفر کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جب کہ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے وقتوں میں اس چپ کی مدد سے واشنگ مشین، ٹی وی اور فرج سے بغیر کسی تار کی مدد سے موبائل چارج کئے جاسکتے ہیں۔

کمپنی کے مطابق این ایف سی چپ 4 سینٹی میٹر لمبی ہے اور بیٹری پاور کی تقسیم کے لئے ضروری ہے کہ دونوں آلات میں این ایف سی چپ موجود ہو اور دونوں موبائل فون یا ڈیوائسز ہاٹ اسپاٹ کی مدد سے بیٹری پاور کا تبادلہ کرسکتے ہیں۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ پہلے مرحلے میں اس کی آزمائش موبائل فون میں کی جائے گی جس کے بعد اسے دیگر آلات میں بھی استعمال کیا جائے گا۔

دوسری جانب ڈزنی ریسرچ کے سائنسدان الینسن سیمپل کا کہنا ہے کہ موبائل بیٹری کو چارج کرنے کا یہ نیا ایجار کردہ طریقہ کار مسقبل میں وائی فائی کی طرح ہوگا جو چھوٹے موبائل فونز سمیت روبوٹ میں بھی استعمال کیا جاسکتا ہے جو بیٹری اور تاروں کا متبادل بھی ہوسکتا ہے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔