قراردادِ پاکستان ۔۔۔ محض ایک چھٹی نہیں

کیا تم نے جوان بہنوں کو صرف اِس لیے اپنے خوبصورت چہرے داغتے دیکھا ہے کہ وہ وحشی جانوروں کی حوس کا نشانہ نہ بن سکیں؟


مظفر نقوی March 23, 2017
ابا جان یہ سب باتیں تو ٹھیک ہیں، مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ 1940ء سے 1947ء تک ہم نے صدیوں کا سفر اتنے کم عرصے میں حاصل کرلیا لیکن ہم 70 سال میں چند قدم بھی آگے کیوں نہ بڑھ سکے؟

KARACHI: میں ہمیشہ کی طرح بیزار اور تھکا ہوا دفتر سے گھر لوٹا۔ ٹی وی لاؤنج میں بیٹھے گھر والوں کو سلام کیا اور خود ہی بڑبڑانے لگا۔ امی نے حسبِ عادت پوچھ ہی لیا کہ کیا معاملہ ہے؟ اور میں جیسے کہ پھٹ پڑا۔ یہ دفتر والوں کو بھلا کیا مسئلہ ہے؟ اِس بار شاید 23 مارچ کی چھٹی نہ ملے، اگر ہمیں قومی دنوں پر بھی چھٹی نہیں ملے گی تو کب ملے گی؟

دیکھیے نا ابا جان بندہ چھٹی کو ذہن میں رکھ کر کتنے پلان بناتا ہے۔ نئی بالی ووڈ فلم بدری ناتھ کی دلہنیا اور دوستوں کے ساتھ بار بی کیو کا پلان تھا۔ اِس ملک کا کچھ نہیں ہوسکتا۔ ابھی میں یہ باتیں کر ہی رہا تھا کہ اِس دوران امی تسلی دیتے ہوئے کہنے لگی کہ پریشان نہیں ہو اور جلدی سے ہاتھ منہ دھو کر آجاو بہت لذیذ دال پکائی ہے۔ دال کا سن کر تو جیسے میں بھنّا سا گیا۔

آپ نے تو دال پکا کر گھر میں ہی دو قومی نظریے کی مخالفت کردی، اب بندہ دفتر والوں کو کیا کہے۔ امی جان ایک مشرقی ماں کی طرح کوئی جواب دیے بغیر کچن میں چلی گئیں۔

اِس دوران ابا جان نے مجھے اپنے پاس بیٹھنے کا اشارہ کیا اور میں کسی بچے کی طرح اُن کے گھٹنے پر سر رکھ کر لپٹ گیا۔

ابا جان آپ لوگ اگر پاکستان نہ بناتے تو آج ہم اتنے بڑے انڈیا کا حصہ ہوتے۔ بالی ووڈ، IPL، اتنی بڑی سوفٹ ویئر انڈسٹری اور اتنے خوبصورت اور پُر فضا مقامات کا حصہ ہوتے۔ وہاں بھی تو مسلمان ہیں جو ترقی کررہے ہیں۔ ابا جان نے بڑے پیار سے پوچھا کہ بھارت میں کتنے مسلمان بالی ووڈ ایکٹر ہیں؟ میں نے کہا سلمان خان، شاہ رخ خان، عامرخان اور دو تین دوسرے بھی ہیں، پھر اسی طرح IPL میں بھی چند مسلمان کھلاڑی شامل ہیں۔ 25 کروڑ مسلمانوں میں یہ نمائندگی کتنے فیصد بنتی ہے؟ کیا وہ شیوسینا کے دباؤ سے پاک ہیں؟ ابا جان کا یہ جواب سن کر میں خاموش ہی ہوگیا۔

ابا جان نے بالوں میں ہاتھ پھیرتے کہا بیٹا کیا تم نے اپنی آنکھوں سے کٹی، سربریدہ لاشیں دیکھیں ہیں؟ کیا تم نے جوان بہنوں کو صرف اِس لیے اپنے خوبصورت چہرے داغتے دیکھا ہے کہ وہ وحشی جانوروں کی حوس کا نشانہ نہ بن سکیں؟ میں ابا جان کے سوالات سن کر پریشان ہوگیا۔ کیا تم نے جوان اور بوڑھی عورتوں کو مجمعے میں درندگی کا نشانہ بنتے دیکھا ہے؟ میں ابا جان کے غیر ضروری سوالوں پر تلملا اُٹھا۔ کیا تم اپنے گھر میں اپنے چاہنے والوں کے لئے غور و کفن لاشے چھوڑ کے ہجرت کرنے پر مجبور ہوئے؟ میں فوراً سے اُٹھ بیٹھا۔ ابا جان یہ دیکھنا تو دور یہ سب سوچ کر ہی مجھ پر لرزا طاری ہورہا ہے۔ بیٹا یہ ہے پاکستان کا اصل مقصد اور حاصل۔ پاکستان کے حصول کے لیے ہمارے بزرگوں نے سب کچھ قربان ہی اِس لیے کیا کہ جو تکالیف انہوں نے اُٹھائیں، جو دکھ انہوں نے جھیلے وہ مشکلات آنے والی نسلوں کا نہ برداشت کرنی پڑیں۔

پاکستان کے قیام کا مقصد ہی یہ ہے کہ ایک ایسا ملک معرض وجود میں لایا جائے جہاں آنے والی نسل آزادی سے رہ سکے۔ اپنی زندگی، اپنی تہذیب وتمدن، ثقافت اورمذہب کے مطابق نہ صرف گزار سکیں بلکہ اُسے فروغ بھی دے سکیں اور ہندوؤں کے زیرِ اثر رہ کر اپنی ثقافت کا چہرہ مسخ ہونے سے بچا سکیں۔

آل انڈیا مسلم لیگ کے اجلاس میں جب ہم نے قراردادِ لاہور پیش کی تھی تو لوگوں نے اُس وقت تمسخر اُڑایا تھا۔ اُن کو کیا معلوم کہ اُن کا یہ تمسخر عظیم اسلامی ایٹمی ریاست کی ابتداء ہے۔ قائداعظم کا خطبہ آج بھی جیسے کانوں میں گونج رہا ہو، آپ نے 23 مارچ 1940ء کو فرمایا
'مسلمان ہر لحاظ سے ایک قوم ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ مسلمان روحانی، ثقافتی، معاشی، سماجی اور سیاسی حوالے سے اپنے بہترین مثالی اُصولوں کےمطابق مکمل طور پر ترقی کرسکیں اور انکی تخلیقی صلاحیتیں پروان چڑھ سکیں۔'

ابا جان یہ سب باتیں تو ٹھیک ہیں، مگر مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ 1940ء سے 1947ء تک ہم نے صدیوں کا سفر اتنے کم عرصے میں حاصل کرلیا لیکن ہم 70 سال میں چند قدم بھی آگے کیوں نہ بڑھ سکے؟ بیٹا لوگ منتشر ہجوم کی شکل میں ہوتے ہیں، اُن کو ایک راستے کی طرف لے کر جانا اور منزل کا تعین کرنا ایک لیڈر کا کام ہوتا ہے۔ افسوس ہمیں قائداعظم کے بعد سیاستدان تو بہت ملے مگر لیڈر میسر نہ ہوسکا۔
نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔



اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔