برآمدات کو فروغ دینے کیلئے روڈ میپ تشکیل دیا جائے صدر ایف پی سی سی آئی

معیشت شدیددبائوسے دوچارہے،اسٹیٹ بینک شرح سود سنگل ہندسے میں لائے،شیرانی


Business Reporter July 31, 2012
توانائی بحران وبدامنی نے تجارت،سرمایہ کاری اورصنعتکاری کو نقصان پہنچایا، معیشت شدیددبائوسے دوچارہے،اسٹیٹ بینک شرح سود سنگل ہندسے میں لائے،شیرانی

KARACHI: وفاق ایوانہائے تجارت وصنعت پاکستان کے صدر فضل قادر شیرانی نے مطالبہ کیا ہے کہ ملکی برآمدات کو فروغ دینے کیلیے روڈ میپ تشکیل دیا جائے، توانائی بحران کے باعث گیس اور بجلی کی عدم فراہمی سے 2 ملین ڈالر سے زائد تجارتی خسارے کا سامنا ہوا جبکہ امن وامان کی ابترصورتحال نے ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتکاری کو نقصان پہنچایا

لہٰذا ایف پی سی سی آئی کے وزارت تجارت کو پیش کیے جانے والے ایک نکاتی ایجنڈے پر عمل درآمد کو یقینی بناتے ہوئے برآمدی سرگرمیوں کو فروغ دیا جائے۔ یہ بات انہوں نے گزشتہ روز ایف پی سی سی آئی کی قائمہ کمیٹی برائے برآمدات کے چیئرمین ڈاکٹر مرزا اختیاربیگ کی جانب سے منعقدکیے گئے اجلاس کے دوران کہی، اس موقع پر ڈاکٹر مرزااختیاربیگ،نائب صدر ایف پی سی سی آئی شکیل احمد ڈھینگرا، سابق نائب صدرزبیر طفیل اور بیگم سلمیٰ احمد نے بھی تجاویز پیش کیں۔

فضل قادر شیرانی نے کہا کہ پاکستانی معیشت شدید دبائوسے دوچار ہے لہذا اسٹیٹ بینک آف پاکستان فوری طور پرشرح سود کو سنگل ہندسے میں لاتے ہوئے معاشی سرگرمیوں کو فروغ دینے میں اپنا کرداراداکرے۔ ڈاکٹرمرزااختیاربیگ نے کہا کہ ایف پی سی سی آئی کی جانب سے وزارت تجارت کو ملکی برآمدات میںاضافے کیلیے ایک نکاتی ایجنڈہ پیش کیا جائیگا کیونکہ اسوقت ملکی ٹیکسٹائل سیکٹر کی برآمدات میں 10فیصد تک کمی رونما ہوچکی ہے

جبکہ دوسری جانب ملکی برآمدات میں 23فیصد سے زائد کمی کے خدشات موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امن وامان کی مخدوش صورتحال، کراچی میں بھتہ خوری اور ملک کے دیگر حصوں میں اغوا برائے تاوان کے واقعات نے سرمایہ کاری کو بری طرح متاثر کیا ہے جبکہ دوسری جانب موجودہ صورتحال سے پاکستان ٹریڈنگ کنٹری بننے کی جانب گامزن ہے لہٰذا قومی ٹیکسٹائل اور صنعتی پالیسی پرعمل درآمد کو یقینی بنایاجائے اور وزارت خزانہ کی جانب سے ری بیٹ سمیت دیگر فنڈز کی فراہمی یقینی بنائی جائے۔

اس موقع پر نائب صدر شکیل احمد ڈھینگرانے کہا کہ ملکی برآمدات کو 25 ارب ڈالر سے بڑھا کر 40 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے تجارتی وکاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینا ہوگا اور ملکی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ مشاورتی پہلو کو اپنانا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ دنیا بھر میں گیس سب سے پہلے صنعتوں کو فراہم کی جاتی ہے لیکن پاکستان میں صورتحال اس کے برعکس ہے لہٰذا ایف پی سی سی آئی کی جانب سے گھریلو صارفین کے بعد صنعتوں کو گیس کی فراہمی کا مطالبہ بھی کیا جائے گا۔