آصف زرداری کا ایمانداری پر لیکچر دینا قیامت کی نشانی ہے، چوہدری نثار

ویب ڈیسک  جمعـء 21 اپريل 2017
عجب کرپشن کی غضب کہانی والے لوگ وزیراعظم کو مستعفیٰ ہونے کا کہہ رہے ہیں، وفاقی وزیرداخلہ- فوٹو؛ فائل

عجب کرپشن کی غضب کہانی والے لوگ وزیراعظم کو مستعفیٰ ہونے کا کہہ رہے ہیں، وفاقی وزیرداخلہ- فوٹو؛ فائل

ٹیکسلا: وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کی جانب سے قوم کو ایمانداری پر لیکچر اور لوگوں کو 62،63 پر سرٹیفکیٹ بانٹنا قیامت کی نشانیاں ہیں جب کہ عجب کرپشن کی غضب کہانی والے لوگ وزیراعظم کو مستعفیٰ ہونے کا کہہ رہے ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ قومی اسمبلی اور سینیٹ میں اپوزیشن جماعتوں کا وزیراعظم سے استعفے کا مطالبہ

ٹیکسلا میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے وفاقی وزیرداخلہ چوہدری نثار علی کا کہنا تھا کہ عدالتی فیصلے کو سیاست کی بھینٹ نہیں چڑھنا چاہیے اور نہ اس کے لیے مزید عدالتیں لگنی چاہیے مگر یہاں عدالتوں کے اوپر عدالتیں لگ رہی ہیں اور لوگ اپنی خواہشات کے مطابق عجیب عجیب منطق دے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 2 ججوں نے اپنی الگ رائے کا اظہار ضرور کیا لیکن جے آئی ٹی بنانے میں پانچوں ججوں کے دستخط موجود ہیں جب کہ کوئی بھی جج اکثریت کے فیصلے سے اختلاف کرکے الگ بھی ہوسکتا ہے لیکن یہاں ایسا کچھ نہیں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ عدالتی فیصلہ کسی کی خواہش کے مطابق نہیں ہوسکتا، قانون اور آئین کے مطابق ہوگا اور یہ اس وقت تک ہے جب تک جے آئی ٹی رپورٹ نہیں آجاتی لیکن لوگ عدالتی فیصلوں کے خلاف آوازیں اٹھارہے ہیں اور کچھ ججوں کے خلاف باتیں کی جارہی ہیں۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ پاناما کیس کے فیصلے میں وزیراعظم کو نااہل قرارنہیں دیا گیا

وزیرداخلہ کا کہنا تھا کہ آصف زرداری کی جانب سے قوم کو ایمانداری پر لیکچر اور لوگوں کو 62،63 پر سرٹیفکیٹ بانٹنا قیامت کی نشانیاں ہیں جب کہ جس پارٹی کے دور اقتدار میں عجب کرپشن کی غضب کہانیاں بنیں وہ لوگ وزیراعظم کو مستعفیٰ ہونے کا کہہ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاناما کیس کسی ڈائمنڈ کی چوری کا کیس یا کرپشن کیس نہیں بلکہ کچھ فلیٹس کا معاملہ ہے جو وزیراعظم اور ان کی فیملی نے خریدے، کہ ان کے پیسے کہاں سے آئے اور کس نے دیے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن رہنما شروع سے جے آئی ٹی بنانے کا کہہ رہے تھے مگر آج جب سپریم کورٹ نے خود حکم دیا جے آئی ٹی کا تو شور ہورہا ہے، خدارا اس ملک پر رحم کریں اور اس کیس کا فیصلہ سپریم کورٹ پر ہی چھوڑ دیں جب کہ فیصلہ صرف الزامات نہیں بلکہ شواہد کی بنیاد پر ہی ہوگا۔

اس خبر کو بھی پڑھیں؛ عمران خان کا وزیراعظم سے استعفیٰ کے لئے سڑکوں پر آنے کا اعلان

ڈان لیکس کے معاملے  پر بات کرتے ہوئے چوہدری نثار کا کہنا تھا کہ نیوز لیکس کی رپورٹ پاناما کیس کی وجہ سے تاخیر کا شکار ہوئی جو منگل تک وزیراعظم کو پیش کردی جائے گی جب کہ میں صرف اللہ کے سامنے جواب دہ ہوں، نوازشریف یا عدالت کے سامنے نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت جس دن سے آئی ہے اس کو کام نہیں کرنے دیا جارہا ہے، تحریک انصاف کی تجویز سے چیف الیکشن کمشنر آئے اور 4 میں سے 3 ممبر الیکشن کمیشن پیپلزپارٹی کی  مرضی سے آئے اور تمام صوبوں اور وفاق میں نگراں سیٹ اپ پیپلزپارٹی کی مرضی سے بنا تھا، نجم سیٹھی کی میں نے ،شہبازشریف نے نگران سیٹ اپ میں لانے کی مخالفت کی تھی تو وہ کیسے ہمارے لیے کام کرسکتا تھا لیکن پھر بھی ہم پر اعتراض کیا جاتا ہے، ہمیں برا بھلا کہا جاتا ہے تاہم ہمارا موازنہ فرشتوں سے کرنے کے بجائے پچھلی حکومت کی کارکردگی سے کیا جائے۔

دوسری جانب وزیر مملکت برائے اطلاعات مریم اور نگزیب نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نے آنے والی نسلوں کو سی پیک کا تحفہ دیا اور اس منصوبے کو دنیا خطے کے لئے گیم چینجر کا نام دے رہی ہے جب کہ پاکستانی صنعت تیزی سے ترقی کر رہی ہے، پاکستان اس وقت عالمی سرمایہ کاروں کے لیے پرکشش ملک بن چکا ہے، پونے 4 سالوں میں بجلی کےجتنے پراجیکٹ لگے اتنے ماضی میں کبھی نہیں لگے اور آج صنعتی زون میں زیرو لوڈ شیڈنگ ہے، ملک میں خوشحالی اور ترقی آئی تو پاکستان کا دشمن بے چین ہوگیا۔

مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ سیاسی مخالفین ملک دشمنوں کی طرح پاکستان کو اندھیروں میں دھکیلنا چاہتے ہیں اور انہیں انتخابی اصلاحات سے کوئی سروکار نہیں، مسلم لیگ (ن) کے پاس مینڈیٹ عوام کی امانت ہے اور نوازشریف کو عوام نے ہی وزیراعظم بنایا، عوام کے علاوہ کوئی بھی وزیراعظم سے استعفیٰ نہیں مانگ سکتا، عوام کو یقین اور اعتماد ہے کہ نوازشریف کی قیادت میں پاکستان مزید ترقی کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ عمران خان جھوٹے الزامات لے کر سپریم کورٹ گئے تھے لیکن  وزیراعظم نے عدالت میں تین نسلوں کا حساب دے کر منفرد مثال قائم کی، اداروں کی تضحیک کرنے والوں کو گزشتہ روز جواب مل گیا اور نوازشریف ایک بار پھر عدالتوں میں  سرخرو ہوئے، اب اپوزیشن جماعتیں سپریم کورٹ کے فیصلے کو نہیں مان رہیں اور جے آئی ٹی کو مسترد کرنے کی باتیں کررہی ہیں لیکن انہیں علم ہونا چاہیئے کہ جے آئی ٹی کو مسترد کرنا عدالت عظمیٰ کی توہین ہے۔

ادھر قومی اسمبلی کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے وزیرمملکت برائے پانی وبجلی عابد شیرعلی نے كہا كہ 20 اپریل كو حق اور سچ كا فیصلہ آیا اور ہماری بہن مریم نواز كو كلین چٹ مل گئی جس سے ثابت ہوگیا كہ ان كا دامن صاف ہے۔ انہوں نے كہا كہ پاناما فیصلے كے بعد سفید ٹوپی والے مولوی نے پیپلزپارٹی اور تحریك انصاف میں نكاح پڑھا دیا ہے، پاناما كیس نے ایك دوسرے كے دشمن پیپلزپارٹی، تحریك انصاف اور جماعت اسلامی كو آپس میں جوڑ دیا اور سب مل كر ہمارے خلاف ہوگئے ہیں لیكن اپوزیشن جماعتیں كچھ بھی كرلیں، 2018 كے انتخابات میں (ن) لیگ ہی كامیاب ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پیپلزپارٹی سر سے پاؤں تک كرپشن میں ڈوبی ہوئی ہے، پیپلزپارٹی نے ملک كی سب سے بڑی عدالت كی جانب سے جے آئی ٹی فیصلے كو بھی ماننے سے انكار كردیا ہے، اب پیپلزپارٹی اپنی جے آئی ٹی تشكیل دے جس کا سربراہ آصف زرداری كو بنا كر ایان علی اور شرجیل میمن كو اس كا ممبر بنا دیں۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور سینیٹ میں قائد ایوان راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ سینیٹ میں اکثریتی اپوزیشن نے اپنے ہی منتخب کردہ چئیرمین سینیٹ کی بات سننے سے انکار کردیا اوران کے احکامات کو ہوا میں اڑایا جس پر چئیرمین سینیٹ کو مجبوراً اجلاس ملتوی کرنا پڑا۔ ان کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا عدم برداشت کا رویہ آج کی بات نہیں اور نا ہی اس کا تعلق سپریم کورٹ کے فیصلے سے ہے بلکہ 2013 کے عام انتخابات میں بھی ان کا یہی رویہ ان کی کامیابی کی راہ میں رکاوٹ اوران کی شکست کا باعث بنا۔

راجہ ظفر الحق کا کہنا تھا کہ اپوزیشن کا مؤقف ہے کہ جب سپریم کورٹ نے ان کی مرضی اور منشا کے مطابق ان کا من پسند فیصلہ نہیں کیا تو جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم ان کی مرضی کے مطابق کیسے فیصلہ کرے گی، لیکن سپریم کورٹ کے اکثریتی ججز نے جو فیصلہ دیا ہے اس میں ان کا کہنا ہے کہ آئین کے اندرآرٹیکل184/3 کے تحت عدالت عظمیٰ کو بھی یہ اختیارات حاصل نہیں کہ وہ کسی کو اس کے عہدے سے ہٹا سکے یا اس کی رکنیت ختم کرسکے، اس لئے ضروری ہے اس کی تحقیقات ہوں اور معاملہ آگے بڑھ سکے، لیکن اپوزیشن جماعتوں نے عدالت عظمیٰ کے اس فیصلے کو ماننے بھی انکار کردیا ہے اور ایک اپوزیشن رہنما نے یہ بھی کہا ہے کہ میں نے شروع دن سے کہہ دیا تھا کہ سپریم کورٹ نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف فیصلہ نہیں دے گی، اس کا مطلب یہ ہوا  کہ اپوزیشن جماعت کے ارکان اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ  گزشتہ روز کا فیصلہ نوازشریف کے خلاف نہیں آیا۔

قائد ایوان نے کہا کہ اپوزیشن جماعتوں کو یقین ہے کہ ان کی جانب سے نوازشریف اور ان کے خاندان پر لگائے جانے والے الزامات سپریم کورٹ کے بعد جے آئی ٹی میں بھی ثابت نہیں ہوسکتے اس لئے وہ مایوسی کا شکار ہوگئے ہیں اور ناکامی میں گھرے ہوئے ہیں۔ اپوزیشن نے ایک تہیہ کررکھا تھا کہ وہ پارلیمنٹ اور سینیٹ میں آئیں گے اور شور شرابا کرتے رہیں گے اور کسی حکومتی رکن کو بولنے کا موقع نہیں دیں گے اور اس طرح یہ فیصلہ یک طرفہ ہوجائے گا لیکن ایسا نہ ہوسکا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم نے پہلے بھی کہا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن قبول کریں گے اور اب جے آئی ٹی میں کیس جانے کے بعد ہماری قیادت قانونی ماہرینسےمشاورت کرے گی اور آئین اور قانون میں رہتے ہوئے آئندہ کا لائحہ عمل تیار کریں گے۔ ہم اپوزیشن کی طرح  نا ہی سپریم کورٹ کے ججز کو گالیاں دیتے ہیں اور ناہی کسی ادارے کی تضحیک کرتے ہیں، نوازشریف سپریم کورٹ کے سامنے بھی سرخرو ہوئے اور 2018 کے انتخابات میں بھی کامیاب ہوں گے۔



ایکسپریس میڈیا گروپ اور اس کی پالیسی کا کمنٹس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔