سینیٹ کا اجلاس گورنر راج کیخلاف جے یو آئی بی این پی کا واک آؤٹ

بشیربلورکانام نوبل انعام کیلیے نامزدکرنے اوربجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے مالی آڈٹ کی قراردادیں منظور


Numainda Express January 22, 2013
ارکان کاسی آئی اے کوپاکستان میں ڈرون حملوں کے لیے چھوٹ دینے پرتشویش کااظہار،فاٹاارکان کا باڑہ ہلاکتوں کیخلاف احتجاج. فوٹو: فائل

سینیٹ نے پیر کوخیبر پختونخوا کے سینئر وزیر بشیر بلور کا نام نوبل امن انعام کے لیے نامزدکرنے کی قرارداد اتفا ق رائے سے منظور کرلی، قرارداد قائد ایوان جہانگیر بدرسمیت 20 سے زائد ارکان نے پیش کی۔

ایوان نے جماعت اسلامی کے سابق امیرقاضی حسین احمد کی وفات پرتعزیتی قرارداد کی بھی اتفاق رائے سے منظوری دی اور ان کی روح کے ایصال ثواب کے لیے فاتحہ خوانی کی، ارکان نے قاضی حسین احمد کو خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ ان کی موت قومی سانحہ ہے، قرارداد کی کاپی پسماندگان کو بھجوادی گئی۔ اجلاس میں بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کے مالی آڈٹ کے لیے ن لیگ کی بیگم نزہت صادق کی قرار داد بھی منظور کرلی گئی ۔ وفاقی وزیر پانی و بجلی چوہدری احمد مختار نے قرارداد پر اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ حکومت متبادل ذرائع سے بجلی کی پیداوار کے لیے اقدامات کررہی ہے،بجلی کی تقسیم کارکمپنیوں کو منافع بخش بناکر گردشی قرضہ ختم کیاجا سکتا ہے، 25 سومیگاواٹ بجلی جلد سسٹم میں آجائے گی ۔



ایوان نے اسلام آباد میں لاوارث بچوں کی پرورش کیلیے ادارے کے قیام سے متعلق قراردادکی بھی منظوری دی ، قرارداد سینیٹر کریم احمد خواجہ نے پیش کی ۔ دریں اثنا بلوچستان سے تعلق رکھنے والے جے یوآئی (ف) کے سینیٹر مولانا محمد خان شیرانی اور بی این پی عوامی کی سینیٹر کلثوم پروین نے صوبے میں گورنر راج کے نفاذ اور فاٹا سے تعلق رکھنے والے ارکان نے باڑہ میں 18 افراد کے قتل اور گورنر ہائوس کے سامنے مظاہرین پر تشدد کیخلاف واک آئوٹ کیا۔

اجلاس میں ارکان نے امریکا کی اس نئی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا جس میں سی آئی اے کو ڈرون حملے جاری رکھنے کی کھلی اجازت دی گئی ہے۔ن لیگ کے راجہ ظفرالحق نے کہا کہ حکومت کو امریکی کانگریس میں ڈرون حملوں سے متعلق قانون سازی کا معاملہ اٹھانا چاہیے۔ قبل ازیں سینیٹ کی ہائوس بزنس ایڈوائزری کمیٹی نے رواں سیشن کے ایجنڈے کی منظوری دی، اجلاس دوہفتے جاری رہے گا۔