پاکستان سے تعلقات پر افغان رہنماؤں کے خیالات

وفود کا تبادلہ اور پاک افغان تعلقات میں بہتری خطے کے عظیم تر مفاد میں ہے


May 09, 2017
وفود کا تبادلہ اور پاک افغان تعلقات میں بہتری خطے کے عظیم تر مفاد میں ہے ۔ فوٹو: فائل

افغان دارالحکومت کابل میں پاکستانی صحافیوں کے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے دو افغان رہنماؤں نے دوطرفہ معاملات پر خیر سگالی پر مبنی جذبات کا اظہار کیاہے۔افغان حکومت کے چیف ایگزیکٹو ڈاکٹر عبداللہ عبداللہ نے کہا افغانستان میں مفاہمتی عمل کے لیے پاکستان سے زیادہ کوئی کردار ادا نہیں کرسکتا، یہ تاثر غلط ہے کہ ہم افغانستان میں ہونے والی ہر کارروائی کا الزام پاکستان پر لگاتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ہم پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور نہ ایسا کوئی ارادہ ہے، دوسری جانب سابق افغان صدر حامد کرزئی نے کہا ہے کہ وہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان مفاہمتی کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں ، دونوں نے پاکستان کا دورہ کرنے کا عندیہ دیا۔

وفود کا تبادلہ اور پاک افغان تعلقات میں بہتری خطے کے عظیم تر مفاد میں ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اگر افغان حکام پاکستان کی خدمات اور اس کے خطے میں قیام امن کے کرادر کے معترف ہیں تو پھربلیم گیم کی ضرورت ہی کیا ہے، پاکستان آج بھی اپنے اس اصولی موقف پر قائم ہے کہ مستحکم افغانستان پاکستان کے مفاد میں ہے،عبداللہ کی اس وضاحت سے اہل پاکستان کو خوشی ہوگی کہ انھوں نے پاکستان کے مفادات کے خلاف کبھی کوئی ہدایت جاری نہیں کی، تاہم اس تاثر کو دور کرنا افغان حکومت کی ذمے داری ہے کیونکہ پاکستان سے مخاصمت کے لیے بھارتی لابی سرگرم ہے، اور بھارتی اثرونفوذ پاک افغان تعلقات میں سرد مہری کا بدیہی نتیجہ ہے ، اگر ٹی ٹی پی کے خلاف کارروائی سے بھی بڑے مسائل کا افغانستان کو سامنا ہے تو صدر غنی انتظامیہ کھلے دل سے پاکستان کو خوش آمدید کہے ، سرحد پر کشیدگی اور چمن میں افسوسناک ہلاکتوںسے امن کاز کو جتنا نقصان پہنچا ہے اس کا کوئی تصور نہیں کرسکتا، دونوں طرف سے خیر سگالی کا ماحول خطے میں امن سے مشروط ہے، ڈاکٹر عبداللہ نے پاکستان سے جنگ کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت ملک میں پاکستان مخالف طالبان کے خلاف کارروائی کررہی ہے اور پاکستان کو بھی ایسا ہی کرنا چاہیے۔

ان کے لیے عرض ہے کہ پاکستان نے آپریشن ضرب عضب سے طالبان کی کمر توڑ کے رکھ دی ہے ،ان کے کمانڈر افغانستان میں پناہ لیے ہوئے ہیں۔حامد کرزئی نے پاکستانی میڈیا کے وفد سے ملاقات کے موقعے پر افغان مہاجرین کی میزبانی پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے ، یہ ان کا ثرف ہے، انھوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ پاکستان کو افغانستان ساتھ تعلقات نئی سوچ کے ساتھ استوارکرنے چاہئیں، ایک دوسرے پر الزام تراشی کے بغیر آگے بڑھنا ہوگا، بہر حال یہی مشن دوطرفہ خیر سگالی کے ساتھ شروع ہو تواس کے یقیناً مفید نتائج جلد برآمد ہوں گے۔