ملکی حالات میں بہتری لائی جائے

اس امر کی ہے کہ حکومت ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دے جن میں سب سے اہم ملک میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے


Editorial August 01, 2012
لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام دہائی دیتے باہر نکل آئے، کئی مقامات پر پولیس کی فائرنگ اور مظاہرین کے پتھرائو. فوٹو پی پی ائی

KARACHI: ملکی سیاسی حالات میں مسلسل ہلچل کی سی کیفیت ہے' دو روز قبل صدر آصف علی زرداری اور وزیر اعظم راجہ پرویز اشرف نے واضح کیا کہ آیندہ عام انتخابات' جو ممکنہ طور پر اگلے سال کے آغاز یا وسط میں ہو سکتے ہیں' بروقت اور شفاف ہوں گے یعنی کسی کو دھاندلی نہیں کرنے دی جائے گی جو ظاہر ہے ایک اچھی سوچ ہے'

یہ بھی پتہ چلا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان حتمی ووٹر فہرستیں جاری کر رہا ہے' یہ وہ لسٹیں ہیں جن پر آیندہ عام انتخابات ہونے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ ملک میں عام انتخابات کے لیے فضا بن رہی ہے اور سبھی سیاسی پارٹیاں ایک طرح سے اپنی اپنی انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔ پیر کو پبلک اکائونٹس کمیٹی کو سیکریٹری الیکشن کمیشن اشتیاق احمد خان نے بتایا کہ آیندہ عام انتخابات پرانی حلقہ بندیوں پر ہوں گے کیونکہ مردم شماری نہ ہونے کی وجہ سے نئی حلقہ بندیاں نہیں ہوئیں،

مردم شماری کی سمری مشترکہ مفادات کونسل کے پاس پڑی ہے جس کا ابھی تک کوئی فیصلہ نہیں ہوا، اگر مردم شماری ہوئی بھی تو اس کی رپورٹ دسمبر 2013 میں آئے گی۔ فی الحال تو مجبوری ہے کہ انتخابات سر پر ہیں لہٰذا ہمیں آیندہ الیکشن پُرانی حلقہ بندیوں پر ہی کرانا پڑیں گے تاہم ان انتخابات کے نتیجے میں جو حکومت بھی تشکیل پائے اس پر لازم ہو جائے گا کہ وہ دیگر معاملات کے ساتھ ساتھ ملک میں ایک نئی مردم شماری کرانے پر بھی توجہ مبذول کرے

تاکہ ملکی آبادی کا ٹھیک ٹھیک اندازہ لگا کر مستقبل کی بالکل درست منصوبہ بندی کی جا سکے۔ ایک حقیقی جمہوری حکومت قائم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے کہ رائے دیہی کی عمر کو پہنچنے والے افراد کے نام ووٹر لسٹوں میں شامل ہوں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ رائے کا اظہار کر سکیں اور اپنے نمایندے منتخب کر سکیں۔ مردم شماری سے ظاہر ہے کہ نئی حلقہ بندیوں میں بھی مدد ملے گی

جو مقامی سطح پر ترقیاتی کام کرانے کے لیے بہت ضروری ہیں۔ بہرحال امید کی جاتی ہے کہ اگلے سال ہونے والے عام انتخابات کے بعد والے الیکشن نئی مردم شماری' نئی ووٹر لسٹوں اور نئی حلقہ بندیوں کے تحت کرانے کے لیے ٹھوس کوششیں کی جائیں گی۔ اس سے جمہوری نظام کو پنپنے اور مستحکم ہونے کا موقع میسر آئے گا۔ دوسری جانب چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چوہدری نے ریمارکس دیے ہیں کہ پارلیمنٹ اور عدلیہ اٹھارہ کروڑ عوام کے لیے ہیں، کسی کو خصوصی سلوک کا مستحق ٹھہرایا جائے تو نظام نہیں چلے گا،

کیس کا منطقی انجام جو کچھ ہو ملک میں جمہوری نظام مضبوط ہو گا۔ جب کہ جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ عدلیہ اور پارلیمنٹ کے درمیان کوئی محاذ آرائی نہیں ہو رہی' ہم سب ایک ہیں' ایسے معاملات میں کوئی کسی کا مخالف نہیں ہوتا۔ ان ریمارکس سے حکومت اور عدلیہ کے مابین اختلافات کے موجود ہونے کا تاثر زائل ہوا ہے۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت ملک و قوم کو درپیش مسائل کے حل پر توجہ دے جن میں سب سے اہم ملک بھر میں بجلی کی بدترین لوڈشیڈنگ ہے جس کے خلاف ملک کے مختلف شہروں میں پیر کو بھی پُرتشدد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا،

لوڈ شیڈنگ کے ستائے عوام دہائی دیتے باہر نکل آئے، کئی مقامات پر پولیس کی فائرنگ اور مظاہرین کے پتھرائو سے ڈی پی او سرگودھا سمیت کئی افراد زخمی ہو گئے، ایبٹ آباد اور خیبر پختونخوا کے کئی شہروں میں مظاہرین جلائو، گھیرائو کرتے رہے، پشاور، سرگودھا موٹر وے اور مری آزاد کشمیر روڈ بند کر دی گئی، پولیس سے جھڑپیں بھی ہوئیں۔ لاہور' اسلام آباد کے علاقے بہارہ کہو' راولپنڈی' سرگودھا' پھلروان' سلطان پور' ننکانہ' حافظ آباد، بھلوال' منڈی بہائوالدین' مانگٹ' ملتان' فیصل آباد' بہاولپور کے علاقے مبارکپور' بوریوالا' لاڑکانہ' ہنگو' پشاور' ٹل' سرک دانہ' چارسدہ تنگی' صوابی' اجنیانوالہ' سید والا' رانا ٹائون، کالا شاہ کاکو اور شامکے میں پیر کو احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری رہا۔

ایک خبر کے مطابق مظاہرے اور توڑ پھوڑ گزشتہ روز یعنی منگل کو بھی جاری رہی۔ اگرچہ ایک خبر میں بتایا گیا ہے کہ صدر نے بجلی کی غیرعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ رمضان المبارک کے دوران اس مسئلہ پر قابو پایا جائے تاہم یہ بھی تو ایک حقیقت ہے کہ ایسی ہدایات اس سے پہلے کئی بار جاری کی جا چکی ہیں۔ ایسی ہر ہدایت کے بعد چند روز صورتحال بہتر رہتی ہے اور پھر حالات پہلے جیسے ہو جاتے ہیں اس لیے ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ مسئلہ مستقل طور پر حل کرنے کے لیے کوششیں تیز کی جائیں۔ بجلی کی قلت اس ملک اور اس کے عوام کا ایک حقیقی مسئلہ ہے اس لیے اس کو حل کرنے کی سنجیدہ کوششیں ہونا چاہئیں اور کسی کو اس ایشو کو بنیاد بنا کر سیاست نہیں کرنا چاہیے

بلکہ اس حل کے سلسلے میں حکومت کی جتنا ممکن ہو مدد کرنا چاہیے۔ اس مسئلے کی شدت کا اندازہ اس امر سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ قبل ازیں صرف اپوزیشن یا عوام کی جانب سے بجلی کی طویل بندشوں پر احتجاج کیا جاتا تھا لیکن اب تو حکومت کے اتحادی بھی واویلا کر رہے ہیں۔ ایک خبر کے مطابق سینیٹ کے اجلاس میں لوڈ شیڈنگ کے خلاف حکومت کی اتحادی و اپوزیشن جماعتوں نے شدید احتجاج کیا

جب کہ مسلم لیگ ق کے سولہ وفاقی وزراء نے ترقیاتی فنڈز نہ ملنے اور بجلی کا بحران دور نہ ہونے پر حکومت سے علیحدہ ہونے کے لیے اپنے استعفے پارٹی قیادت کو پیش کر دیے۔ اس حوالے سے اگر مزید کوئی پیش رفت ہوئی تو اس سے مسائل بڑھیں گے اس لیے حکومت کو وقت رہتے بجلی کی پیداوار بڑھانے کا انتظام کرنا چاہیے۔