پاکستان اور بھارت میں جبری مذہبی تبدیلی کے واقعات

بھارت اور پاکستان کو تمام مذہبی اقلیتوں کے مذہبی اور انسانی حقوق کا خیال رکھنا اور احترام کرنا ہوگا۔


آصف محمود May 24, 2017
بھارت میں موجودہ ہندو انتہا پسند مودی حکومت کے برسر اقتدار آنے کے بعد اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ فوٹو: فائل

کئی دوستوں نے میری فیس بک پوسٹ پر مجھے تنقید کا نشانہ بنایا تھا۔ اِس سے قبل کہ یہ سلسلہ حد سے تجاوز کرجاتا اور فیس بکی فرینڈ گالیوں اور غیر ملکی ایجنٹ قرار دینے پر آجاتے میں نے بہتر جانا کہ وہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی جائے۔ وہ پوسٹ اصل میں بھارتی اخبارات میں شائع ہونیوالی ایک خبر تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ بھارتی ریاست اتر پردیش کے شہر فیض آباد میں 22 مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کرلیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق مذہب تبدیل کرنیوالوں کا کہنا ہے کہ انہیں نہ کوئی لالچ دیا گیا اور نہ اُن کے ساتھ کوئی زور زبردستی ہوئی ہے۔ اُن کے مطابق اُن کے گھر والے تقریباً 25 سال پہلے مسلمان ہوگئے تھے اور اب وہ اپنی مرضی سے دوبارہ ہندو مذہب میں داخل ہوگئے ہیں۔

بی بی سی اردو کے مطابق مذہب تبدیل کرنے والوں میں سے ایک لال محمد ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اُن کے والد ہندو مذہب پر عمل کرتے تھے لیکن کسی وجہ سے بہکاوے میں آکر وہ مسلمان ہوگئے اور اُن کا نام لال محمد رکھ دیا گیا۔ اب وہ اُسی مذہب میں دوبارہ شامل ہوگئے ہیں جسے ہمارے والد پہلے مانتے تھے اور اب ہم نے اپنا نام لال من رکھ لیا ہے۔

میری اِس پوسٹ پر کمنٹس کرنے والوں کا کہنا تھا کہ میں نے اِس اقدام پر ہندوستان کو گالیاں کیوں نہیں دیں؟ میں نے یہ کیوں نہیں لکھا کہ وہاں مسلمانوں اور اقلیتوں کو زبردستی تبدیلی مذہب پر مجبور کیا جارہا ہے۔ کئی لوگوں نے کئی قسم کے فتوے لگائے۔ اِسی وجہ سے میں نے وہ پوسٹ ڈیلیٹ کردی۔

مسلمانوں کی تبدیلیِ مذہب کے اِس عمل کے بارے میں بھارت کی انتہاپسند تنظیم راشٹریہ سوائم سیونک سنگھ اور دیگر قوم پرست تنظیموں کا موقف یہ ہے کہ ہندوستان میں تلوار کے زور پر لوگوں کو مسلمان بنایا گیا۔ اب وہ دوبارہ واپس اپنے گھر آگئے ہیں۔ اِس سے پہلے آگرہ میں بھی کچھ مسلمانوں نے ہندو مذہب اختیار کیا تھا لیکن اُس وقت کافی تنازعہ ہوا تھا اور علاقے میں کشیدگی پھیل گئی تھی۔ اِسی طرح کچھ عرصہ قبل بھارتی ریاست گجرات میں 2 سو مسیحوں کو ہندو بنادیا گیا تھا۔ اب آگرہ کے قریب واقع علی گڑھ میں تقریباً دو ہزار دلتوں نے دھمکی دی ہے کہ اونچی ذات کے ہندوؤں نے اُن کے ساتھ زیادتیاں بند نہیں کیں تو وہ اسلام قبول کرلیں گے۔

اتر پردیش میں دلتوں اور اونچی ذاتوں کے درمیان ٹکراؤ چل رہا ہے جس نے چند روز قبل تشدد کی شکل اختیار کرلی تھی۔ بھارت میں گزشتہ کچھ عرصے سے مسلمانوں اور عیسائیوں کو زبردستی تبدیلیِ مذہب پرمجبور کیا جارہا ہے، اپوزیشن اور اقلیتی جماعتوں کے احتجاج کے باوجود بھارتی سرکار اقلیتوں کے ساتھ ہونیوالے اِن مظالم کو روکنے میں ناکام دکھائی دیتی ہے۔

ہندوستان میں مسلمانوں کو زبردستی ہندو بنانے جانے کی بات کوئی نئی نہیں ہے، میں آپ کو تھوڑا ماضی میں لے کر جاتا ہوں۔ تقسیمِ ہند سے قبل 1920ء میں متعصب ہندو سوامی دیانند سرسوتی نے شدھی تحریک شروع کی تاکہ مسلمانوں کو زبردستی ہندو دھرم اپنانے پر مجبور کیا جائے یعنی انہیں شدھی کیا جائے۔ ہندو سوامی کا اُس وقت یہی موقف تھا جو آج اُس کے چیلوں یعنی آر ایس ایس اور دیگر انتہا پسندوں کا ہے کہ مسلمان اور اُن سے پہلےعیسائی اِس خطے میں آئے۔ اُس سے قبل سارے لوگ ہند وہی تھے لہٰذا اِن سب کو ہندو بنانا ضروری ہے۔

حالانکہ ہندوستان پر 11 سو سال تک مسلمانوں نے حکومت کی، اور کبھی بھی ہندووں نے اِس زمین پر مسلمانوں کے وجود کو تسلیم ہی نہیں کیا۔ 1857ء کی جنگ آزادی کے بعد اِن کی نفرت کھل کر سامنے آگئی۔ ہندوستان کو مکمل طور پر ہندو بنانے اور مسلمانوں کو یہاں سے نکالنے کے لئے سنگھٹن جیسی پُرتشدد تحریک کا آغاز بھی ہوا۔ پہلے مسلمانوں کو ہندو (شدھی) بنایا جاتا اگر وہ نہ مانتے تو اُنہیں سنگھٹن یعنی قتل کردیا جاتا۔

شردھانند نے بھارتیہ ہندو مہاسبھا نامی تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد مسلمانوں کو ہندو مذہب میں داخل کرنا تھا۔ جسے 23 دسمبر 1926ء کو عبدالرشید نامی ایک غیرت مند مسلم نوجوان نے قتل کردیا تھا۔ اِسی ملعون سوامی کا شمار آج بھارت کے قومی ہیروز میں ہوتا ہے۔ ہندو مہاسبھا تنظیم کا مقصد وہی تھا جو شدھی تحریک کا تھا۔ اِس کے مطابق مسلمان غیر ملکی ہیں اور اِن کا ہندوستان سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔ اگر مسلمان ہندوستان میں رہنا چاہتے ہیں تو اُن کو ہندو معاشرے میں جذب ہونا پڑے گا۔

سنگھٹن تحریک کا بانی انتہا پسند پنڈت مدہن مالویہ کھلم کھلا ہندو نوجوانوں کو مسلمانوں سے لڑنے کی ترغیب دیتا تھا اور وہ ہندووٴں سے کہتا تھا کہ تمہیں اپنے دشمن مسلمانوں سے لڑنا ہے، اُن سے مقابلہ کرنا ہے اور آج بی جے پی کے دورِ حکومت میں ہندو سوامی شردھا نند اور دیانند کے چیلوں نے ایک بار پھر شدھی تحریک کا آغاز کردیا ہے۔ زبردستی نہ صرف مسلمانوں بلکہ عیسائیوں کو بھی ہندودھرم اپنانے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

بھارت کی دیکھا دیکھی پاکستان میں بھی یہ روش چل پڑی ہے، اور یہاں بھی جبری مذہب تبدیلی کے واقعات رونما ہونے لگے بلکہ آج تک ہورہے ہیں۔ پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب کے جنوبی علاقوں میں بسنے والے ہندوؤں اور مسیحیوں کو شکایت ہے کہ زبردستی اُن کے مذہب تبدیل کروائے جاتے ہیں۔ بالخصوص نوجوان لڑکیوں کو مسلمان کرکے اُن سے نکاح کرلیا جاتا ہے۔ پاکستان کی قومی اسمبلی میں کئی اراکین اسمبلی بالخصوص ہندو کونسل کے چیئرمین ڈاکٹر رمیش کماریہ آواز اُٹھا چکے ہیں کہ غیر مسلموں بالخصوص ہندوؤں کو اُن کی مرضی کے بغیر مسلمان کرکے اُن سے شادیاں کی جا رہی ہیں جبکہ ذمہ داروں کے خلاف صرف اِس لیے کارروائی نہیں ہورہی کہ اِس بارے میں کوئی قانون موجود نہیں ہے۔

پاکستان کے قانون کے تحت ہر شہری کو مذہب تبدیل کرنے کی آزادی ہے۔ تاہم پاکستان میں تبدیلیِ مذہب سے مراد کسی دیگر مذہب کو ترک کرکے اسلام کو قبول کرنا ہے۔ قانون کے تحت کسی مسلمان کو مذہب تبدیل کرنے کی آزادی حاصل ہے لیکن یہ عملی طور پر ناممکن ہے کیونکہ مسلمان مذہبی رہنما اِس بات پر متفق ہیں کہ اسلام چھوڑ کر دیگر مذہب اختیار کرنے والا شخص مرتد کہلاتا ہے جس کی شرعی سزا موت ہے۔ چنانچہ سماجی طور پر ایک مسلمان شہری کا اسلام قبول کرنے کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوتا ہے۔

بھارت میں موجودہ ہندو انتہا پسند مودی حکومت کے برسرِ اقتدار آنے کے بعد اقلیتوں کی زندگی اجیرن بنی ہوئی ہے۔ متعدد انتہا پسند تنظیمیں جن میں وشوا ہندو پریشد سرفہرست ہے وہاں کے دیگر مذاہب کے ماننے والوں کو جبراً ہندو بنانے کے در پے ہے، جس کا مظاہرہ مسلمان اور عیسائی برادری کے غریب لوگوں کو زبردستی ہندو بنا کر کیا جارہا ہے۔ جبری مذہب کی تبدیلی کی اِس لہر سے سیکولر بھارت کا اصل چہرہ دنیا کے سامنے آگیا ہے۔ اب اگر "شدھی" کی اِس جدید تحریک کے جواب میں بھارت میں موجود کروڑوں مسلمان اور عیسائی بھی متحد ہوکر "ہندوتوا" کے خلاف صف آراء ہوگئے تو اِس کا انجام بھارت کے کئی مزید ٹکڑوں کی صورت میں سامنے آسکتا ہے۔

اِس سنگین مسئلے کے پیش نظر عالمی برادری کو کسی ایسی خطرناک صورتحال کا پہلے ہی سے ادراک کرتے ہوئے اِس کا نوٹس لینا چاہیئے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں کا فرض ہے کہ وہ بھارت میں مذہبی اقلیتوں کی جانب سے انسانی حقوق کی پامالی کا نوٹس لیتے ہوئے وہاں جبری طور پر مذہب کی تبدیلی کی اِس مہم کو فوری روکے۔

اگر مودی سرکار واقعی سیکولر بھارت پر یقین رکھتی ہے تو اِسے بھارت میں آباد تمام مذہبی اقلیتوں کے مذہبی اور انسانی حقوق کا خیال رکھنا اور احترام کرنا ہوگا اور جبری مذہب کی تبدیلی کی یہ مہم روکنا ہوگی۔ دوسری طرف پاکستان میں بھی ایسے اقدامات کو روکنے کی ضرورت ہے کیونکہ مذہبی آزادی ہر انسان کا حق ہے۔

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا لکھاری کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔

اگر آپ بھی ہمارے لیے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 سے 800 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اوراپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کریں۔ بلاگ کے ساتھ تصاویر اورویڈیو لنکس بھی۔

مقبول خبریں