صورتحال خطرناک ہے کراچی سے بدامنی ختم کی جائے غیر ملکی سرمایہ کار

ملک میںپہلے ہی غیرملکی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے،بدامنی پر اپنی تشویش سے گورنراوروزیر اعلیٰ کو آگاہ کردیا


Business Reporter August 03, 2012
ملک میںپہلے ہی غیرملکی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر ہے، بدامنی پر اپنی تشویش سے گورنراوروزیر اعلیٰ کو آگاہ کردیا،صدراوورسیزچیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری

SINGAPORE: پاکستان میں سرما یہ کاری کرنیوالی غیرملکی سرمایہ کارکمپنیوں نے کراچی میں امن و امان کی صورتحال کو سرمایہ کاری کے لیے خطرناک قرار دیتے ہوئے حکومت اور سیاسی جماعتوںسے صورتحال کی بہتری کا مطالبہ کردیا،اوورسیز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہمایوں بشیر کا کہنا ہے کہ غیرملکی سرمایہ کار سیکیورٹی مسائل اور ان کے حل کیلیے نامناسب اقدامات سے تنگ آکر پاکستان سے کنارہ کشی اختیارکرلیں گے۔

مزید سرمایہ کاری بھی ممکن نہیں رہے گی، انھوں نے بتایا کہ ملک میںپہلے ہی غیرملکی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین ترین سطح پر ہے، بدامنی پر اپنی تشویش سے گورنر اوروزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کردیا ہے، غیرملکی سرمایہ کارکمپنیوں پرمشتمل اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے اعلامیے کے مطابق کراچی میں جاری بدامنی سے غیرملکی سرمایہ کار بھی بری طرح متا ثر ہورہے ہیں،چیمبر کے 80فیصد اراکین کراچی میں سکونت پذیر ہیں جوکراچی کی صورتحال سے متا ثر ہورہے ہیں۔

اوورسیز چیمبرکی منیجنگ کمیٹی نے کراچی میں بدامنی پر اپنی تشویش سے گورنر اوروزیر اعلیٰ سندھ کو آگاہ کردیا،سندھ کی سیاسی قیادت کو بھی کراچی میں امن اور سرمایہ کاری کیلیے اپنے اراکین سے ملاقات کے لیے مدعو کیا ہے، اوورسیز چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے صدر ہمایوں بشیر کے مطابق اوورسیز چیمبر ملکی محصولات میں 20 فیصد کا حصہ دار ہے اورپاکستان کے امیج کو بہتر بنانے کے لیے اپنا فعال کردار ادا کررہا ہے، اس حوالے سے چیمبر نے متعدد غیرملکی وفود کو پاکستان آنے کی دعوت دی۔

بالخصوص غیرملکی سرمایہ کاروںکوکراچی مدعو کرکے سرمایہ کاری کے فروغ کیلیے اپنی ذمے داری ادا کرنے کی کوشش کی تاہم کراچی میں جاری بدامنی سے چیمبر کی ان کوششوں کو بھی دھچکا لگاہے، چیمبر کے صدرکے مطابق متعلقہ اداروں نے کراچی میں امن کے قیام اور صورتحال کنٹرول نہ کی تو ملک میں سرمایہ کاری کیلیے کی جانے والی تمام کوششوں پر پانی پھر جائے گا،اوورسیز چیمبر نے اسٹیٹ بینک کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں پہلے ہی غیرملکی سرمایہ کاری تاریخ کی کم ترین سطح پر پہنچ چکی ہے۔

مالی سال 2011-12میں براہ راست غیرملکی سرمایہ کاری ایک سال میں 65فیصدکم ہوکر680.4ملین ڈالر رہی، اس صورتحال میں بھی اوورسیز انویسٹرز نے پاکستان میں اپنے منافع سے ایک ارب ڈالرکی سرمایہ کاری کی تاہم کراچی میں بدامنی اورلاقانونیت کا خاتمہ نہ ہوا تو اوورسیز انویسٹرزکا پاکستان میں سرمایہ کاری کے لیے پختہ عزم متا ثرہوگا ، غیرملکی سرمایہ کار سیکیورٹی مسائل اور ان کے حل کے لیے نامناسب اقدامات سے تنگ آکر پاکستان سے کنارہ کشی اختیار کرلیں گے۔