پاک بھارت مقابلوں میں لفظی جنگیں چھڑتی رہیں

ورلڈکپ 1992میں میانداد نے غیر ضروری اپیلزکرنے پر مورے کا تمسخر اڑایا


Sports Reporter June 17, 2017
عامر سہیل اور وینکٹ پرساد میں تلخ کلامی ہوئی،آفریدی اورگھمبیر بھی لڑچکے۔ فوٹو : کرک انفو

پاک بھارت مقابلوں میں لفظی جنگیں بھی چھڑتی رہیں۔

پاک بھارت مقابلے کسی بھی میدان میں ہوں، دونوں ملکوں کے شائقین و کھلاڑیوں کے جذبات عروج پر نظر آتے ہیں، تناؤ سے بھرپور اس ماحول میں لفظی جنگیں بھی چھڑتی رہی ہیں،ورلڈکپ 1992میں جاوید میانداد نے غیر ضروری اپیلیز کرنے والے کرن مورے کا تمسخر اڑیا، بھارتی وکٹ کیپر کی حرکتوں سے تنگ آئے پاکستانی اسٹار نے رن آؤٹ کی ناجائز اپیل کے ردعمل میں کریز پر اچھلنا شروع کردیا،ان کے اس انداز میں احتجاج کو کرکٹ کے مزاحیہ ترین لمحات میں شمار کیا جاتا ہے، بعد میں تلخ کلامی بھی ہوئی، پاکستان میچ تو ہار گیا لیکن پھر ٹائٹل اپنے نام کرلیا۔ اگلا میگاایونٹ بھارت میں تھا۔

کانپور میں کھیلے جانے والے کوارٹرفائنل میں عامر سہیل نے جارحانہ آغاز کیا۔ انھوں نے وینکٹ پرساد کی گیند پر اسٹروک کھیل کر بیٹ سے اشارہ کیا کہ جاؤ گیند اٹھاکر لاؤ، بھارتی بولر نے بھی ان کی وکٹ حاصل کرتے ہی گالیاں دینا شروع کردیں۔

پاکستان ٹیم کے دورئہ بھارت 2007 میں گوتم گھمبیر نے شاہدآفریدی کی گیند پرچوکا لگایا، اگلی بال پر سنگل لیتے ہوئے دونوں آپس میں ٹکرا گئے، گالیوں کا تبادلہ ہونے کے بعد ہاتھاپائی پر اتر آئے تھے کہ بیچ بچاؤ کرادیا گیا جبکہ گھمبیر ایشیا کپ 2010میں کامران اکمل سے الجھ پڑے تھے، پانی کے وقفے میں ہاتھا پائی ہونے والی تھی کہ بھارتی کپتان مہندرا دھونی اپنے اوپنر کو ایک طرف لے گئے، اسی ایونٹ میں شعیب اختر اور بھارتی اسپنر ہربھجن سنگھ ایک دوسرے کو پنجابی میں گالیاں دیتے رہے۔