کراچی دینی و سیاسی شخصیات کا مقتل بن گیا مذہبی رہنما

علما کا قتل بد ترین دہشت گردی ہے، جماعت اہلسنت، شہر فوج کے حوالے کرنیکا مطالبہ


Numainda Express February 02, 2013
جے یو آئی س ضلع حیدرآباد کے رابطہ سیکریٹری قاری سعد اﷲ جان حیدری نے کہا ہے کہ کراچی میں علما حق کا قتل پوری قوم کا نقصان ہے۔ فوٹو: فائل

کراچی میں جامعہ بنوری ٹائون کے عالم دین مفتی عبدالمجید دین پوری، مفتی محمد صا لح اور مولانا حسان علی شاہ سمیت دیگر علما کرام کی ٹارگٹ کلنگ کے خلاف حیدرآباد میں مذہبی جماعتوں کے رہنمائوں نے شدید رد عمل کا اظہار کیا ہے۔

اہلسنت و الجماعت تعلقہ لطیف آباد کے عہدیداران مولانا عبدالرحمن صدیقی، حافظ عمیر حیدری، نصیب گل حنفی نے کہا کہ کراچی دینی و سیاسی شخصیات کا مقتل بن چکا ہے، حکومت لوگوں کے جان و مال کو تحفظ فراہم کرنے میں مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے، دن دیہاڑے پولیس، رینجرز کی موجودگی میں علمائے کرام کو باآسانی قتل کر کے دہشتگرد فرار ہو رہے ہیں، کراچی میں جنازے اٹھانے کے باوجود جماعت اہلسنت نے ملکی سالمیت اور بقاء کی خاطر صبر کا دامن ہاتھ سے نہیں چھوڑا۔

انھوں نے کہا کہ کراچی میں مفتی عبدالمجید دین پوری، مفتی صالح محمد اور مولانا احسان علی کا قتل بدترین دہشت گردی ہے حکومت کراچی کو فوراً فوج کے حوالے کر کے قاتلوں کو گرفتار کرے۔ انھوں نے کہا کہ وفاقی وزیر داخلہ نے اہلسنت و الجماعت کو دیوار سے لگانے کی روش نہ چھوڑی اور علماء کرام کا قتل کا سلسلہ بند نہ ہوا تو عوام اہلسنت کے ضبط کا بندھن ٹوٹ جائے گا۔

1

جمعیت علماء اسلام ضلع حیدرآباد کے امیر مولانا تاج محمد ناہیوں، جنرل سیکریٹری حافظ خالد حسن دھامرہ ودیگرنے کراچی میں جید علمااور چنگ چی رکشہ میں تبلیغی جماعت کے کارکنوں کی دہشت گردوں کے حملوں میں شہادت پر کہا ہے کہ حکمرانوں نے اپنے مقاصد کیلیے کراچی کو بیروت بنا دیا ، کراچی میں بلاتفریق آپریشن کر کے دہشتگردوں کو عبرتناک سزا دی جائے۔

جے یو آئی س ضلع حیدرآباد کے رابطہ سیکریٹری قاری سعد اﷲ جان حیدری نے کہا ہے کہ کراچی میں علما حق کا قتل پوری قوم کا نقصان ہے۔ سنی ایکشن کمیٹی صوبہ سندھ کے اطلاعات سیکریٹری عاصم علی شاہ نے کہا ہے کہ جامعہ بنوریہ سے تعلق رکھنے والے جید علما کرام کی شہادت، امت مسلمہ کیلیے لمحہ فکریہ ہے۔