سندھ اسمبلی کراچی کے حالات پر اظہار تشویش ہم محفوظ ہیں عوام نہیں ارکان

3 ماہ میں صرف اورنگی ٹائون میں متحدہ کے 50 کارکن شہید کیے گئے،سیف اللہ خالد


Staff Reporter February 05, 2013
ہر رکن اسمبلی500 مسلح افرادجمع کرے، رانا عبدالستار،منظر امام کو زبردست خراج عقیدت دیگر کیلیے بھی فاتحہ، پی پی کے سرفراز شاہ نے حلف اٹھایا فوٹو: ایکسپریس/فائل

سندھ اسمبلی کے حکومتی اور اپوزیشن ارکان نے کراچی میں امن و امان کی صورت حال پر سخت تشویش کا اظہار کیا اور حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ دہشت گردوں کے خلاف سخت کارروائی کرے ۔

پیر کو سندھ اسمبلی کا اجلاس شروع ہونے سے پہلے صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے پیپلز پارٹی کی خاتون رکن حمیرا علوانی نے کہا کہ حالات ایسے ہیں کہ خود کو غیر محفوظ تصور کرتی ہوں ۔ میں ایک ماں ہوں بچوں کو اسکول بھیجتے ہوئے بھی ڈر لگتا ہے ۔ وزیر خوراک میر نادر مگسی نے کہا کہ کراچی کے حالات بہت خراب ہیں۔ اگرچہ میں خود کو محفوظ تصور کرتا ہوں لیکن عوام غیر محفوظ ہیں۔ بعدازاں سندھ اسمبلی کے اجلاس میں ایم کیو ایم کے رکن سیف اللہ خالد نے کہا کہ گذشتہ دو 3 ماہ کے دوران صرف اورنگی ٹائون میں ہمارے50 سے زائد ذمے داران اور کارکنان شہید کیے گئے ہیں ۔

وزیراعلیٰ سندھ اورنگی ٹائون میں امن و امان کا مسئلہ حل کرنیپر خصوصی توجہ دیں ۔ مسلم لیگ (فنکشنل) کی خاتون رکن نصرت سحر عباسی نے کہا کہ گذشتہ5 سال کے دوران کراچی میں 6000 افراد ٹارگٹ کلنگ کا شکار ہوئے ہیں ۔ سندھ اسمبلی میں تقریر اور قبل ازیں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے مسلم لیگ (فنکشنل) کے رکن سندھ اسمبلی رانا عبدالستار نے تجویز دی ہے کہ ہر رکن اسمبلی5 سومسلح افرادجمع کرے اور ان مسلح افراد کی ایک ایسی فوج بنائی جائے جو کراچی سمیت سندھ بھر میں دہشتگردوں کے خلاف اور اسلحہ کی بازیابی کے لیے آپریشن میں حصہ لے کیونکہ ان کے بقول حکومت دہشت گردی روکنے میں ناکام ہوگئی ہے ۔ سندھ اسمبلی میں فاتحہ خوانی کے دوران تقریر کرتے ہوئے رانا عبدالستار نے کہا کہ کراچی میں روزانہ نہتے لوگ مارے جا رہے ہیں لیکن حکومت کچھ نہیں کررہی ہے۔

ہم عوام کے منتخب نمائندے ہیں۔ عوام ہم سے یہ پوچھتے ہیں کہ ہم دہشت گردوں کا ہاتھ کیوں نہیں روکتے ۔ میر نادر مگسی جیسے لوگ ایک ہزار مسلح افراد دے سکتے ہیں ۔25 ،30 ہزار کی مسلح فورس کے ذریعے ہم وزیراعلیٰ سندھ قائم علی شاہ کی مدد کرسکتے ہیں ۔ وزیر قانون ایاز سومرو نے کہا کہ اگر معزز رکن کو تقریر کرنا ہے تو وہ امن و امان کے مسئلے پر قرارداد لائیں ۔ اسی دوران قائم مقام اسپیکر شہلا رضا نے رانا عبدالستار کا مائیک بند کرادیا اور کہا کہ ہمارے بھی یہی جذبات ہیں ، جو آپ کے ہیں۔ سندھ اسمبلی کا اجلاس پیر کو قائم مقام اسپیکر سندھ اسمبلی شہلا رضا کی صدارت میں صبح11 بجکر45 منٹ پر شروع ہوا۔ تلاوت قرآن اور نعت خوانی کے بعد پیپلز پارٹی کے نوشہرو فیروز سے نو منتخب رکن سید فراز حسین شاہ نے حلف اٹھایا ۔ قائم مقام اسپیکر نے ان سے حلف لیا ۔

رواں اجلاس کے لیے پینل آف چیئرمین کا اعلان کیاگیا ، جس میں ڈاکٹر سکندر میندھرو ، شمع عارف مٹھانی ، خالد بن ولایت اور شہریار خان مہر شامل ہوں گے ۔ بعدازاں متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کے رکن سید منظر امام کے قتل پر متعدد ارکان اسمبلی نے اپنے سخت رنج و غم کا اظہار کیا اور منظر امام کو زبردست خراج عقیدت پیش کیا ۔ارکان نے حکومت پر زور دیا کہ وہ امن و امان کو کنٹرول کرنے کے لیے اقدامات کرے اور کہا کہ ہم کب تک دہشت گردوں کے ہاتھوں شہید ہونے والوں کی فاتحہ خوانی کرتے رہیں گے ۔

اجلاس میں مقتول ایم پی اے سید منظر امام ، خیبر پختونخواہ کے سنیئر وزیر بشیراحمد بلور، سابق وزیراعلیٰ بلوچستان جام محمد یوسف، جماعت اسلامی کے سابق امیر قاضی حسین احمد، جماعت اسلامی کے رہنما پروفیسر غفور احمد ، ممتاز ادیب و دانشور سراج الحق میمن ، ممتاز گلوکارہ مہناز ، آرٹس کونسل کراچی کے سیف الرحمان گرامی ، رکن سندھ اسمبلی شاہد تھہیم کے بھائی آصف تھہیم، کوئٹہ میں علمدار روڈ پر بم دھماکے میں شہید ہونے والوں،کراچی میں عائشہ منزل پر بم دھماکے کے شہداء اور کراچی سمیت ملک بھر میں دہشت گردی کا شکار ہونے والے دیگر افراد کے لیے فاتحہ خوانی کی گئی۔ ایم کیو ایم کے قائد الطاف حسین، صوبائی وزراء پیر مظہر الحق، زبیر احمد اور شعیب احمد بخاری، سابق صوبائی وزیر محمد علی شاہ کیلیے دعائے صحت بھی کی گئی۔ جس کے بعد قائم مقام اسپیکر نے سید منظر امام کے سوگ میں اجلاس بدھ کی صبح 10 بجے تک ملتوی کردیا ۔