برہان وانی کی برسی مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوجی قافلے پر حملہ

پلوامہ میں سیکڑوں نوجوان کرفیو توڑ کر باہر نکل آئے اور برہان وانی کی قبر تک مارچ کرنے کی کوشش کی


ویب ڈیسک July 08, 2017
قابض فوج نے مقبوضہ وادی میں احتجاج کرنے والے مظاہرین کو گولی مارنے کی دھمکی دی ہے۔ فوٹو: فائل

مقبوضہ کشمیر میں حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر شہید برہان وانی کی پہلی برسی پر مکمل کرفیو نافذ رہا، جب کہ بھارتی فوجی قافلے پر حملے میں 3 اہلکار زخمی ہوگئے۔

برہان وانی کی برسی کے موقع پر حریت کانفرنس کی جانب سے ہڑتال کی اپیل پر پوری وادی میں کاروبار زندگی بند رہا جب کہ فوج نے کشمیریوں کو شہید کی برسی منانے اور احتجاجی مظاہروں سے روکنے کے لیے کرفیو نافذ کردیا، یہاں تک کہ قرآن خوانی کرنے اور تعزیتی تقریب کے انعقاد کی بھی اجازت نہیں دی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: برہان وانی کی برسی پر مقبوضہ وادی میں کرفیو، انٹر نیٹ اور موبائل فون سروس بھی بند

ضلع پلوامہ کے علاقے ترال میں شہید برہان وانی کی قبر تک کو سیل کردیا گیا اور قابض افواج نے کشمیریوں کو مظاہرہ کرنے پر گولی مارنے کی دھمکی دی تاہم سیکڑوں نوجوان کرفیو توڑ کر باہر نکل آئے اور اکٹھے ہوکر برہان وانی کی قبر تک مارچ کرنے کی کوشش کی۔ بھارتی فوج نے مظاہرین پر پیلٹ گنز سے فائرنگ اور آنسو گیس کی شیلنگ شروع کردی، جس کے جواب میں نہتے نوجوانوں نے پتھراؤ کیا۔ جھڑپوں میں متعدد نوجوان زخمی ہوگئے ہیں۔



کشمیر کی کٹھ پتلی حکومت نے عوام کو ایک دوسرے سے رابطہ کرنے سے روکنے کے لیے انٹرنیٹ اور موبائل فون سروسز معطل کردی اور سید علی گیلانی سمیت تمام حریت قیادت کو گھروں میں نظر بند کردیا گیا۔ بھارتی فوج کا نہتے کشمیریوں سے ڈر کا یہ عالم تھا کہ 21 ہزار اضافی نفری تعینات کی گئی۔

یہ بھی پڑھیں: والد نے حکومتی سودے بازی ٹھکرا دی

ادھر ضلع بانڈی پورہ میں بھارتی فوجی قافلے پر حملے میں کیپٹن سمیت 3 فوجی زخمی ہوگئے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق عسکریت پسندوں نے حاجن کے علاقے میں گھات لگاکر بھارتی فوج کی گشتی پارٹی کو نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد بھارتی فون نے علاقے کا محاصرہ کرکے سرچ آپریشن کیا۔

یہ بھی پڑھیں: برہان وانی کے ساتھی سمیت 11 کشمیری شہید

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق آرمی چیف جنرل قمرجاوید باجوہ نے شہید برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر اپنے پیغام میں کہا کہ کشمیریوں کو حق خوداردیت حاصل ہے جب کہ برہان وانی اور دیگر کشمیریوں کی قربانیاں ان کے کشمیر سے متعلق عزم کا منہ بولتا ثبوت ہے۔


دوسری جانب وزیر اعظم نوازشریف نے اپنے پیغام میں کہا کہ برہان مظفر وانی تحریک آزادی کشمیر کے ایک نئے باب کا عنوان ہے، ایک سال پہلے اس جواں سال شہادت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنے لہو سے جو چراغ روشن کیا، اس سے آج پوری وادی میں چراغاں ہے، برہان وانی کی شہادت نے ثابت کردیا کشمیر کا بچہ بچہ آزادی کے جذبے سے سرشار ہے۔


نوازشریف کا کہنا تھا کہ برہان وانی کا یوم شہادت ساری دنیا کو یہ پیغام دے رہا ہے کہ اگر مقبوضہ کشمیر میں ظلم کا یہ بازار گرم رہا تو پھر دنیا میں امن کی ضمانت نہیں دی جا سکتی۔ یہ شہادت عالمی برادری اور اور قوتوں کو بھی متوجہ کرتی ہے کہ وہ مقبوضہ کشمیرمیں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی سے آنکھیں نہیں چرا سکتے۔


وزیراعظم نے کہا کہ وزیر اعظم نے مزید کہا کہ اسلحہ کے زور پر قوموں کے جذبہ آزادی کو نہیں کچلا جا سکتا۔ کوئی بھی بھارت کے غاصبانہ قبضے کو قبول کرنے کے لئے آمادہ نہیں، بھارت کو یہ حقیقت بھی سمجھ لینی چاہیے کہ تاریخ کو اندھا نہیں کیا جا سکتا، برہان وانی کی شہادت نے بھارتی پروپیگنڈے کو بھی بے نقاب کر دیا کہ آزادی کشمیر کی تحریک کسی خارجی مداخلت کے زیر اثر ہے، مقبوضہ کشمیر کی یہ تحریک آزادی مقامی اور ہر طرح کی بیرونی مداخلت کے بغیر آگے بڑھ رہی ہے۔


دریں اثنا غیر ملکی خبر رساں ایجنسی نے مقامی پولیس حکام کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ لائن آف کنٹرول پر بھارتی فائرنگ سے 5 شہری شہید اور 10 زخمی ہوگئے جب کہ ترجمان پاک فوج نے اپنے بیان میں کہا کہ بھارتی فورسز نے چڑی کوٹ اور ستوال سیکٹر میں جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بلااشتعال فائرنگ کی اور شہری آبادی کو نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں ایک لڑکی سمیت 2 شہری شہید ہوئے۔
واضح رہے بھارتی فوج نے 22 سالہ برہان وانی اور ان کے دو ساتھیوں کو 8 جولائی 2016 کو فائرنگ کرکے شہید کردیا تھا اور اس واقعے کے خلاف احتجاج کرنے پر بھارتی فوج کے ہاتھوں اب تک 156 کشمیری جام شہادت نوش کرچکے ہیں۔