ویمنز کرکٹ شکستوں کے بعد اب تبدیلیوں کی آندھی چلے گی

مسلسل 6 میچز ہارنے والی ٹیم کے کوچ اور بعض سینئر پلیئرزکوباہر کر دیا جائے گا، ذرائع


Sports Reporter July 15, 2017
پلیئرزکوچ سے خوش نہیں،نیا ٹیلنٹ تلاش کرنا ہوگا،کسی کی اجارہ داری ہے تو اسے ضرور ختم کریں گے، بورڈ چیف۔ فوٹو: اے ایف پی/فائل

ورلڈکپ میں مسلسل شکستوں کے بعد اب ویمنز کرکٹ میں تبدیلیوں کی آندھی چلے گی، تاہم کوچ اور بعض سینئر پلیئرز کو فارغ کر دیا جائے گا۔

انگلینڈ میں جاری ویمنز ورلڈکپ میں قومی ٹیم مسلسل6میچز ہار چکی، اس صورتحال پر بورڈ حکام سخت ناخوش ہیں، ذرائع کے مطابق کوچ صبیح اظہر اور بعض سینئر کرکٹرز کو باہرکر دیا جائیگا۔

دوسری جانب چیئرمین پی سی بی شہریارخان نے بی بی سی کو انٹرویو میں کہا کہ ویمنز ورلڈکپ کیلیے ٹیم کو خاصی تیاری کرائی گئی تھی لیکن کارکردگی سے بہت زیادہ مایوسی ہوئی۔ انھوں نے کہا کہ صبیح اظہر کو آخری لمحات میں کوچ بنانے کا فیصلہ کامیاب نہیں رہا اور یہ بھی محسوس ہوا کہ کھلاڑی بھی ان سے خوش نہیں۔

شہریارخان نے کہا کہ اگر پاکستان میں ویمنز کرکٹ کا معیار بلند کرنا ہے تو اس کیلیے پلیئرز کی تعداد میں اضافہ اور نیا ٹیلنٹ تلاش کرنا ہوگا،اگر خواتین کرکٹ میں کسی کی اجارہ داری ہے تو اسے ضرور ختم کرینگے کیونکہ یہ صحیح نہیں ہے، چاہیں گے کہ نیا ٹیلنٹ سامنے آئے۔ انھوں نے کہا کہ یہ بات خوش آئند ہے کہ اب بلوچستان اور گلگت جیسی جگہوں سے بھی پلیئرز ٹیم میں آئی ہیں۔ اس سے نوجوان اور نئی کرکٹرز کی حوصلہ افزائی ہوگی لیکن معاشرتی مسائل بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں، والدین اپنی بچیوں کو کرکٹ کھیلنے کی اجازت نہیں دیتے۔

ویمنز ٹیم کے سابق کوچ باسط علی نے کہا کہ پاکستانی خواتین کرکٹ کا سب سے بڑا مسئلہ دھڑے بندی ہے، یہاں پسند ناپسند بہت ہے، چند ڈپارٹمنٹس کی جانب سے خواتین ٹیمیں بنانے کے بعد سیاست شروع ہوگئی جس کا اندازہ مجھے نیوزی لینڈ کے دورے میں ہوا، میں نے کھلاڑیوں پر واضح کردیا تھا کہ گروپنگ نہیں ہوگی جسے یہ کرنا ہے وہ وطن واپس چلی جائے۔

باسط علی نے کہا کہ کھلاڑیوں کی توجہ میچ سے زیادہ معاوضے پر ہوتی ہے کہ45 ہزار روپے تو ملنے ہی ملنے ہیں جب یہ سوچ ہوگی تو ٹیم کیسے جیتے گی۔ سینٹرل کنٹریکٹ کی مد میں ماہانہ ایک لاکھ روپے کا معاوضہ اس کے علاوہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان میں خواتین کرکٹ کا دائرہ صرف 25، 30پلیئرز تک محدود ہے، سینئرز پر کارکردگی میں بہتری لانے کا دباؤ ڈالنے کیلیے نئی کھلاڑیوں کو ٹیم میں لانا ہوگا۔

باسط علی نے کہا کہ پاکستانی ٹیم کو اپنے پیروں پر کھڑا کرنے میں کوچ محتشم رشید کا بڑا ہاتھ ہے، وہ بہت اچھے کوچ ہیں لیکن ان کی سب سے بڑی کمزوری یہ تھی کہ وہ اپنے فیصلے سینئر کھلاڑیوں سے نہیں منوا سکے جس کی وجہ سے سینئرزکی اجارہ داری قائم ہوگئی۔ انھوں نے سوال کیا کہ ریجنل کوچز آخر کیا کررہے ہیں؟ وہ اسکولز اور کالجز میں جا کر نیا ٹیلنٹ تلاش کریں۔

پہلی پاکستانی ویمنز ٹیم کی رکن کرن بلوچ نے کہاکہ خوشی ہے کہ ہماری شروع کی گئی خواتین کرکٹ آج بھی جاری ہے،اب کھلاڑیوں کو ہر طرح کی سہولتیں حاصل لیکن کارکردگی مایوس کن ہے حالانکہ ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں۔انھوں نے کہا کہ پی سی بی نے آج خواتین کرکٹ کو اسی مقام پر لا کھڑا کردیا جہاں 1996میں شروع ہوئی تھی، پسند ناپسند کی پالیسی کو ختم کیے بغیر ملک میں ویمن کرکٹ آگے نہیں بڑھ سکتی۔