ایف بی آر نے کمشنرز ان لینڈ ریونیو کے اختیارات میں اضافہ کردیا فیلڈ آفسز کو اختیارات کی منتقلی شروع

نوٹیفکیشنز میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آر ٹی اوز کے متعلقہ کمشنرز ان لینڈ ریونیو اپنے اپنے آر ٹی او کی حدود میں ٹیکس۔۔۔


Numainda Express February 09, 2013
نوٹیفکیشنز میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آر ٹی اوز کے متعلقہ کمشنرز ان لینڈ ریونیو اپنے اپنے آر ٹی او کی حدود میں ٹیکس دہندگان کا فیزیکل اور الیکٹرانک ریکارڈ رکھیں گے۔ فوٹو: فائل

ATHENS: فیڈرل بورڈ آف ریونیو(ایف بی آر) نے ملک میں قائم 18 ریجنل ٹیکس آفسز(آر ٹی اوز) کے کمشنرز ان لینڈ ریونیو کی حدود کا تعین کرکے اختیارات میں اضافہ کردیا ہے جبکہ ایف بی آر نے ٹیکس وصولیاں بڑھانے اور ادارے کی کارکردگی بہتر بنانے کیلیے فیلڈ آفسز کو اختیارات منتقل کرنا شروع کردیے ہیں۔

اس ضمن میں ایف بی آر کی طرف سے گزشتہ روز 18 نوٹیفکیشن جاری کردیے گئے ہیں، جن میں ریجنل ٹیکس آفس اسلام آباد، راولپنڈی، کراچی، لاہور،فیصل آباد، سکھر، کوئٹہ، ایبٹ آباد، پشاور، سرگودھا، ایبٹ آباد ،بہاولپور،حیدر آباد، گوجرانوالہ اور سیالکوٹ سمیت دیگر آر ٹی اوز کی حدود اور اختیارات کا تعین کیا گیا ہے۔

ان نوٹیفکیشنز میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ آر ٹی اوز کے متعلقہ کمشنرز ان لینڈ ریونیو اپنے اپنے آر ٹی او کی حدود میں ٹیکس دہندگان کا فیزیکل اور الیکٹرانک ریکارڈ رکھیں گے اور ٹیکس فسیلیٹیشن ڈویژن سمیت دیگر ان لینڈ ریونیو اتھارٹیز کی طرف سے موصول ہونے والی کمیونیکیشن کے بارے میں رسیدیں فراہم کریں گے تاکہ انکا ریکارڈ رہے کہ کس اتھارٹی کی طرف سے کیا ڈاک موصول ہوئی تھی اور کیا ہدایات و احکامات جاری ہوئے تھے۔

اس کے علاوہ ٹیکس دہندگان سے حاصل کردہ معلومات کی دوسرے ذرائع سے حاصل ہونیوالی معلومات کے ساتھ کراس میچنگ کی جائیگی اور کراس میچنگ کے دوران اگر ریکارڈ میں کوئی فرق پایا جاتا ہے تو متعلقہ کمشنرز ان لینڈ ریونیو کو اس بارے میں رپورٹ تیار کرکے متعلقہ ان لینڈ ریونیو اتھارٹیز کو بھجوانا ہوگی اور اگر متعلقہ ان لینڈ ریونیو اتھارٹی کی طرف سے مذکورہ رپورٹ کی ہارڈ کاپی طلب کی جاتی ہے تو اسکی فراہمی کو یقینی بنانا بھی کمشنرز ان لینڈ ریونیو ہی کہ ذمہ داری ہوگی۔

نوٹیفکیشنز میں مزید کہا گیا ہے کہ تمام آر ٹی اوز کے کمشنرز ان لینڈ ریونیو ود ہولڈنگ ٹیکس کو اپنے اپنے ادارے کی حدود میں ود ہولڈنگ ٹیکسوں کی مانیٹرنگ اور انفورسمنٹ کے بھی اختیارات دے دیے گئے ہیں اور یہ کمشنرز ان لینڈ ریونیو ود ہولڈنگ ٹیکس اپنی اپنی حدود میں واقع تمام ود ہولڈنگ ایجنٹس کے ڈیٹا کا اینالسز کریں گے۔ علاوہ ازیں یہ کمشنرز ود ہولڈنگ ایجنٹس کی طرف سے کی جانے والی ود ہولڈنگ ٹیکس کی کٹوتی اور اس کٹوتی کردہ ٹیکس کی ایف بی آر کو جمع کروانے کی بھی مانیٹرنگ کریں گے۔

نوٹیفکیشنز میں مزید کہا گیا ہے کہ جو ود ہولڈنگ ایجنٹس ڈیفالٹ کریں گے، ان پر جرمانے اور سرچارج عائد کرنا بھی کمشنرز ان لینڈ ریونیو ود ہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داری ہوگی۔