دہشت گردی و فرقہ واریت کیخلاف مقننہ عدلیہ اور انتظامیہ ملکر کام کریں چیف جسٹس

ملک امن و امان کے حوالے سے مشکل ترین دورسے گزررہاہے، مزیداقدامات ہونے چاہئیں،عدلیہ کوآئین کی تشریح کااختیار ہے


Numainda Express February 10, 2013
تمام ادارے جمہوریت کے تحفظ کیلیے کرداراداکریں،آئین کی حفاظت عدلیہ کی ذمے داری ہے،لاہور میںوکلا کی تقریب سے خطاب۔ فوٹو: فائل

چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے کہاہے کہ پاکستان امن و امان کے حوالے سے مشکل ترین دورسے گزر رہا ہے۔

دہشتگردی، انتہا پسندی،فرقہ واریت اورماورائے عدالت قتل کے خاتمے اور بنیادی حقوق کے تحفظ کیلیے ریاست کے تینوں ستون مقننہ، عدلیہ اورانتظامیہ کا باہم مل جل کرکام کرناوقت کی اہم ضرورت ہے۔عدلیہ آئین کی محافظ ہے جو اپنی آئینی حدود میں رہتے ہوئے فرائض سرانجام دے رہی ہے ۔ان خیالات کا اظہار انھوں نے ہفتے کو سپریم کورٹ لاہوررجسٹری میں وکلاء کو سپریم کورٹ میں پریکٹس کے لائسنس جاری کرنے کی تقریب سے خطاب کے دوران کیا ۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جمہوریت کے تحفظ اور قانون کی حکمرانی کیلیے پاکستان کے تمام ادارے آئین کی پاسداری کرتے ہیںجبکہ ایک مہذب معاشرے کی تشکیل کیلیے قانون کی حکمرانی سب سے اہم عنصر ہے ۔پاکستان اس وقت امن و امان کے حوالے سے مشکل ترین دور سے گزر رہا ہے جس میں دہشت گردی،انتہا پسندی،فرقہ واریت اورماورائے عدالت قتل کے کلچرکو فروغ مل رہا ہے جس میں ہزاروں افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو چکے ہیں اور سینکڑوں خاندان متاثر ہوئے ہیں۔

10

انھوں نے کہا کہ ریاست کے تینوں ستون مقننہ،عدلیہ اور انتظامیہ کو شہریوں کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور دہشت گردی، انتہاء پسندی،فرقہ واریت اورماورائے عدالت قتل کے اقدامات کے خاتمے کیلیے مل جل کرکام کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جبکہ مقننہ اور انتظامیہ کو اس کیلیے اپنا کردار بھر پور انداز میں ادا کرنا چاہیے ۔ انھوں نے کہا کہ یہ قابل فخر بات ہے کہ ہمارا عدالتی نظام ریاستی ستونوں میں مضبوط ترین ستون ہے جسے دیگر اداروں اور عوام الناس کا اعتماد بھی حاصل ہے ۔ عدلیہ کی یہ آئینی ذمے داری ہے کہ وہ بنیادی حقو ق کے تحفظ اورصاف و شفاف اور فعال گورننس سسٹم اورآئینی اصولوں کیلیے سیف گارڈ مہیا کرتے ہیں ۔