خالد لطیف کو گواہوں کے بیانات کی ویڈیو دینے سے انکار

مزیدجرح کی بھی اجازت نہیں ملے گی،حتمی تحریری دلائل 9 اگست تک جمع ہونگے


Sports Reporter August 02, 2017
مزیدجرح کی بھی اجازت نہیں ملے گی،حتمی تحریری دلائل9اگست تک جمع ہونگے۔ فوٹو: فائل

پی سی بی اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے خالد لطیف کی چاروں درخواستوں کا فیصلہ کردیا تاہم گواہوں کے بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ فراہم کرنے سے انکار کردیا گیا۔

پی ایس ایل اسپاٹ فکسنگ اسکینڈل میں ملوث خالد لطیف اور پی سی بی کو 26جولائی کو تحریری دلائل جمع کرانا تھے لیکن اوپنر نے 4درخواستیں بذریعہ کوریئر ارسال کرتے ہوئے سوالات اٹھا دیے، ان پر بورڈ نے اپنا موقف پیش کردیا ہے۔

گزشتہ روز ٹریبیونل کی پریس ریلیز میں بتایا گیاکہ اوپنر نے گواہوں کے بیانات کی ویڈیو ریکارڈنگ فراہم کرنے کی درخواست کی تھی جو تاخیری حربہ قرار دیتے ہوئے مسترد کردی گئی، خالد لطیف نے قبل ازیں خود ہی ٹریبیونل کی کارروائی کیلیے پیش ہونے سے گریز کیا، وہ خود ساختہ بائیکاٹ کرتے رہے، اب مزید جرح کے خواہش مند ہیں لیکن اینٹی کرپشن کوڈ کے مطابق اس کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔

اوپنر کی ایک درخواست یہ تھی کہ ٹریبیونل کی کارروائی کے دوران پیش کیے جانے والے پی سی بی کے شواہد اور تحریری دلائل کی مصدقہ کاپیز فراہم کی جائیں،اس درخواست کو قبول کرتے ہوئے متعلقہ دستاویزات کرکٹر کو بذریعہ کوریئر بھجوا دی گئی ہیں،مختلف امور کی تکمیل تک کارروائی ملتوی کرنے کی درخواست منظور کرتے ہوئے خالد لطیف کو ہدایت دی گئی کہ 9اگست تک تحریری دلائل جمع کرا دیں، اگر تاخیر ہوئی توپہلے سے موجود شواہد کی بنیاد پر 30 دن کے مقررہ وقت میں یکطرفہ فیصلہ سنا دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ خالد لطیف پر فکسنگ کے ساتھ ساتھی کرکٹرز کو اکسانے کا بھی الزام ہے، انھیں تاحیات پابندی کی سزا سنائی جا سکتی ہے۔