بچی بازیاب نہ کرنے پر ایس ایس پی کو ملازمت سے نکالنے کی وارننگ

عدالت نے خاتون کی درخواست پر جاوید جسکانی کو گذشتہ رات 12بجے تک کی مہلت دی


Numainda Express February 12, 2013
فاضل عدالت میں ہیرآباد کی رہائشی سیماں سولنگی نے اپنی بچی کی بازیابی کے لیے آئینی درخواست داخل کی تھی۔ فوٹو: فائل

سندھ ہائی کورٹ سرکٹ بینچ حیدرآباد نے9 سالہ بچی نور فاطمہ کی عدم بازیابی پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ایس ایس پی لاڑکانہ جاوید جسکانی کو حکم دیا ہے کہ وہ پیر کی رات 12 بجے تک نور فاطمہ کو بازیاب کرائیں بصورت دیگر خود کو ملازمت سے فارغ سمجھیں۔

فاضل عدالت میں ہیرآباد کی رہائشی سیماں سولنگی نے اپنی بچی کی بازیابی کے لیے آئینی درخواست داخل کی تھی۔ جس پر فاضل عدالت نے ایس ایس پی لاڑکانہ کو نور فاطمہ کو بازیاب کراکر عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا تھا، عدالت نے جاوید جسکانی کو شوکاز نوٹس جاری کیا تھا ۔



جس پر وہ 28 جنوری کو انھوں نیزبانی معافی طلب کرکے بازیابی کے لیے مہلت طلب کی، عدالت نے خاتون کے سابق شوہر نذیر اختربھٹی کے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے تھے۔ عدالت میں مقدمے کی دوبارہ سماعت ہوئی تو جاوید جسکانی اکیلے عدالت میں پیش ہوئے جس پر عدالت نے انہیں حکم دیا کہ وہ پیر کی شب 12 بجے تک نورفاطمہ کو بازیاب کرائیں بصورت دیگر خود کو ملازمت سے فارغ سمجھیں۔