او ایس ڈی کیس پاکستان میں بادشاہت ختم ہو گئی مگر نظام اب بھی وہی ہے سپریم کورٹ

گیلانی نے تبادلے کا زبانی حکم دیا تھا، حسن وسیم، وزیراعظم بادشاہ نہیں جو مرضی کرتا رہے، قانونی حیثیت دیکھنی ہوگی،عدالت


Numainda Express February 12, 2013
گیلانی نے تبادلے کا زبانی حکم دیا تھا، حسن وسیم، وزیراعظم بادشاہ نہیں جو مرضی کرتا رہے، قانونی حیثیت دیکھنی ہوگی،عدالت فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے سرکاری افسران کو اوایس ڈی بنانے کے بارے مقدمے کی سماعت کے دوران آبزرویشن دی ہے کہ وزیر اعظم کی زبانی ہدایت پرکسی افسرکا تبادلہ نہیں کیاجاسکتا۔

گزشتہ روزبیورو کریٹ حسن وسیم افضل کواو ایس ڈی بنانے کے مقدمے کی سماعت کے دوران سابق سیکریٹری اسٹیبلشمنٹ ڈویژن غیاث الدین نے جواب جمع کرایا کہ حسن وسیم افضل کو سابق وزیراعظم یوسف گیلانی کے زبانی آرڈر پراوایس ڈی بنایا گیا۔ وزیراعظم کے کہنے پر خدمات حکومت پنجاب سے واپس لیکر اوایس ڈی بنایا گیا۔



جسٹس جواد ایس خواجہ نے ریمارکس دیے پاکستان میں بادشاہت ختم ہوگئی لیکن نظام ابھی تک بادشاہوں والا ہے کہ وزیر اعظم جوچاہے کرتا رہے، فاضل جج نے کہا من مانی اب نہیں چلے گی، یہ نہیں ہوسکتا کہ سرکاری ملازمین کی تعیناتی وزیراعظم کی مرضی اور خواہش کے مطابق ہو۔۔ وسیم افضل کے وکیل اکرم شیخ نے عدالت کوبتایا کہ زبانی آرڈرکی تصدیق لازمی ہوتی ہے۔

حسن وسیم افضل نے عدالت کو بتایا کہ وہ سابق گورنر پنجاب سلمان تاثیرکے پرنسپل سیکریٹری تھے ،ایک روز آصف زرداری نے بطور شریک چیئرمین پیپلز پارٹی گورنر ہائوس کا دورہ کیا اور اسی شام ان کا تبادلہ ہوا۔آن لائن کے مطابق جسٹس جواد ایس خواجہ نے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہے کہ وزیراعظم کی زبانی حکم کی قانونی حیثیت کیا ہے، بادشاہت توکب کی ختم ہوگئی ہے، وزیراعظم بادشاہ نہیں کہ جو مرضی کرتا رہے۔ عدالت نے مزیدسماعت غیرمعینہ مدت تک ملتوی کردی۔