2 تعلیمی اداروں کویونیورسٹی کا درجہ دینے کیلیے قانون سازی نہ ہوسکی

جناح میڈیکل یونیورسٹی اورکے ایم ڈی سی کویونیورسٹی بنانے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا.


Staff Reporter February 17, 2013
جناح میڈیکل یونیورسٹی اورکے ایم ڈی سی کویونیورسٹی بنانے کے فیصلے پر عملدرآمد نہ ہوا. فوٹو: فائل

کراچی میں2کالجوں کو یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق قانون سازی نہیں کی جا سکی۔

ان میں جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی اور کراچی میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج یونیورسٹی شامل ہے،سندھ میڈیکل کالج کوجناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کادرجہ دیے جانے سے متعلق یکم جون 2012کو آرڈینس جاری کیاتھاجس کی مدت 30اگست کوختم ہوگئی تھی تاہم جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کابل دو باراسمبلی اجلاس میں متعارف کرایاگیاتھا۔

تاہم تکنیکی وجوہ کی بناء پر بل آئندہ سیشن کیلیے موخرکردیاگیا تھا ، 7ماہ گزرنے کے بعد بھی سندھ میڈیکل یونیورسٹی کی قانونی حیثیت بحال نہ ہوسکی جبکہ مجوزہ یونیورسٹی کی انتظامیہ نے 350طالب علموں کوپہلے ایم بی بی ایس بیج میں داخلے بھی مکمل کرلیے اورآئندہ ماہ 5مارچ سے ان کے امتحانات کا شیڈول بھی جاری کردیا گیا۔

لیکن یونیورسٹی کی قانونی حیثیت نہ ہونے کی وجہ سے طالب علم بھی تذبدب کاشکار ہوگئے ، اسی طرح کراچی میڈیکل اینڈڈینٹل کالج کو یونیورسٹی بنانے کے اعلان پرعملدرآمد نہیں کیاجاسکا جبکہ گورنر سندھ ڈاکٹر عشرت العبادخان نے کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے کا اعلان کالج کے کاونوکیشن میں کیاتھا اورگذشتہ سال کالج کویونیورسٹی کادرجہ دیے جانے سے متعلق گورنر سندھ وچانسلرڈاکٹرعشرت العبادخان نے27اپریل کوگورنرہاؤس میں اعلیٰ سطح اجلاس بھی طلب کیا تھا ۔

ذرائع کے مطابق گورنرسندھ نے کالج کومجوزہ سٹی یونیورسٹی بنانے کے حوالے سے سابقہ اجلاس کے کمنٹس بھی طلب کرلیے ہیں، واضح رہے کہ سابقہ سٹی کونسل کراچی نے کالج کو یونیورسٹی کا درجہ دیے جانے سے متعلق 2006میں قرارداد بھی منظورکی تھی لیکن کالج کویونیورسٹی بنانے کیلیے متعدد تیکنیکی مسائل کے باعث عملی اقدامات نہیںکیے گئے۔