اسپاٹ فکسنگ کا عفریت پاکستانی ٹیلنٹ نگلنے لگا

10سال انتظار کے بعدٹیم کو وارنرجیسا اوپنر ملا تھا،کرپشن کی وجہ سے ضائع ہوگیا، توقیر ضیا


Sports Reporter September 02, 2017
ڈاٹ گیندوں کا مشاہدہ کرنے کے ساتھ ماہرین سے رائے بھی طلب کی،ناقابل تردید ثبوتوں پر سزا سنائی۔ فوٹو : فائل

اسپاٹ فکسنگ کا عفریت پاکستانی ٹیلنٹ نگلنے لگا، شرجیل خان کا کیریئر داغدار ہونے پر اینٹی کرپشن ٹریبیونل بھی افسردہ ہے۔

رواں سال پی ایس ایل ٹو کے آغاز پر سامنے آنے والے اسپاٹ فکسنگ کیس میں اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے پہلا فیصلہ کرتے ہوئے شرجیل خان پر ڈھائی سال معطل سمیت5 سالہ پابندی عائد کردی تھی،خالد لطیف، شاہ زیب حسن اورسہولت کاری کے ملزم ناصر جمشید کے مستقبل کا فیصلہ بھی جلد ہونے والا ہے، بکی سے رابطے کی اطلاع کا جرم تسلیم کرنے والے محمد عرفان کو پی سی بی کی ڈسپلنری کمیٹی نے ہی ایک سال کیلیے معطل کردیا تھا،اس لیے ان کا کیس ٹریبیونل میں لے جانے کی ضرورت پیش نہیں آئی۔

شرجیل خان کا کیریئر داغدار ہونے پر اینٹی کرپشن ٹریبیونل نے بھی افسوس کا اظہار کیا ہے، جسٹس(ر) اصغر حیدر کی سربراہی میں کام کرنے والے ٹریبیونل کے ایک رکن سابق چیئرمین پی سی بی توقیر ضیا نے کہاکہ سچ پوچھا جائے تو مجھے شرجیل خان سے پیار تھا۔ 10سال انتظار کے بعد پاکستان کو ایک ایسا اوپنر ملا جو ڈیوڈ وارنر کی طرح جارحانہ انداز میں کھیلتے ہوئے ٹیم کو اچھا آغاز فراہم کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا تھا لیکن کرپشن کے عفریت کی وجہ سے ملک کا ٹیلنٹ ضائع ہوگیا۔

ایک انٹرویو میں توقیر ضیا نے کہا کہ یہ کوئی پاگلوں کا ٹریبیونل نہیں تھا جس نے آنکھیں بند کرکے فیصلہ کردیا، کیس کے تمام پہلوؤں اور معاملات کا کئی روز تک بغور جائزہ لیا گیا، ڈاٹ بال ہر کرکٹ میچ اور کبھی بہت زیادہ بھی ہوتے ہیں لیکن ہمیں یہ دیکھنا تھا کہ کیا شرجیل خان نے دانستہ ان گیندوں پر رنز بنانے سے گریز کیا، کسی نتیجے تک پہنچنے سے قبل پوری تسلی کرنے کیلیے شرجیل خان کے ماضی میں کھیلے جانے والے 12کے قریب میچز بار بار دیکھے، ڈاٹ گیندوں کا بھی بغور مشاہدہ کیا، ان کے بارے میں ماہرین سے رائے بھی طلب کی، ناقابل تردید ثبوتوں کی موجودگی میں سزا دینے کے سوا کوئی چارہ نہیں تھا۔

توقیر ضیا نے کہا کہ عام حالات میں بھی کسی شخص پر ذرا سا شک بھی پڑ جائے تو کوئی بات تک نہیں کرتا، اسپاٹ فکسنگ میں ملوث کرکٹر تو ہوٹل میں بکی یوسف سے ملاقات کیلیے گئے، بیٹھے بھی رہے، ان کے آپس میں پیغامات بھی تصدیق کرتے ہیں کہ منصوبہ کیا تھا، بعد ازاں اسی طے شدہ پلان پر عمل درآمد بھی کیا کیا، تمام واقعات کی کڑیاں آپس میں ملتی ہیں۔

ایک سوال پر توقیر ضیا نے کہا کہ گواہی کیلیے بلایا جانے والا عمر امین بھی بکی یوسف کو 2014سے جانتا تھا، انگلینڈ میں کرکٹرز کی جانب سے ایجنٹ کی خدمات حاصل کرنا کوئی خلاف معمول بات نہیں لیکن یوسف نے نوجوان بیٹسمین کو فکسنگ کیلیے پیشکش کی تو انھوں نے اپنے کپتان کو آگاہ کردیا،انھیں بتایا گیا کہ یہ رپورٹ پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو کرنا ہوتی ہے، انھوں نے کرنل(ر) اعظم کو پیغام بھجوا دیا، اگر ملوث نہ ہونا چاہتے تو یہی کام شرجیل خان اور خالد لطیف بھی کرکے بچ جاتے۔

توقیر ضیا نے کہا کہ پرستار کرکٹرز کو ملنے کیلیے آتے ہیں،کھلاڑی ملاقات کیلیے چل کر ہوٹل میں نہیں چلے جاتے،خالد لطیف پر بیٹ کی گرپ لینے کا الزام چیک کرنے کیلیے ان کے بھی ماضی کے کئی میچز دیکھے،شرجیل خان کی ڈاٹ بالز سے قبل طے شدہ اشارے بھی میچ کی فوٹیج میں ثابت ہوگئے۔