مسابقتی کمیشن نے پرانی گاڑیوں کی تجارتی درآمد کی سفارش کردی

گاڑیوں کی فروخت پراون منی وصولی کے خلاف سخت قانون بنایا جائے، رپورٹ جاری


Numainda Express February 20, 2013
انڈسٹری کا انتظامی تحفظ اورنئے مینوفیکچررز کیلیے ٹیرف رکاوٹیں ختم۔ فوٹو: فائل

مسابقتی کمیشن آف پاکستان نے آٹوموبائل سیکٹر میں مسابقت کو فروغ دینے کے لیے حکومت کو معقول ڈیوٹی اور ٹیکسوں پر استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت، آٹو انڈسٹری کو دیے جانے والے انتظامی تحفظ کو ختم اور نئے آٹومینوفیکچررز کے لیے عائد کردہ ٹیرف بیریئرز ختم کرنے کی تجاویز دی ہیں۔

مسابقتی کمیشن سے آٹو موبائل سیکٹر کے حوالے سے منگل کو جاری رپورٹ کے مطابق پاکستان میں صرف گفٹ، پرسنل اور بیگیج اسکیم کے تحت استعمال شدہ گاڑیاں درآمد کرنے کی اجازت حاصل ہے جس سے آٹوموبائل سیکٹر میں مسابقت کا رجحان متاثر ہوا اور حال ہی میں مذکورہ اسکیموں کے تحت درآمد کیلیے پرانی گاڑی کی عمر5 سال سے 3 سال کرکے آٹومینوفیکچررز کو تحفظ دیا گیا۔



رپورٹ کے مطابق اس شعبے میں مسابقت کے فروغ کے لیے استعمال شدہ گاڑیاں معقول ڈیوٹی اور ٹیکسوں پر درآمد کرنے کی اجازت دی جائے، نئے آٹو مینوفیکچررز کو لانے کیلیے نیشنل ٹیرف کمیشن کی مشاورت سے ٹیرف اسٹرکچر تیار کیا جائے۔ رپورٹ میں تجویز دی گئی ہے کہ استعمال شدہ کاروں کیلیے شکست و ریخت الائونس میں حالیہ کمی پر بھی نظر ثانی کی ضرورت ہے۔

رپورٹ میں گاڑیوں کی رجسٹریشن کیلیے ایمیشن اور روڈ قابلیت ٹیسٹ کو لازمی کرنے کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق آٹو مینوفیکچررز اور ڈیلرز کوعوام سے پریمیم اور اون منی کی مد میں بھاری رقوم کی وصولی روکنے کیلیے سخت قانون سازی کی ضرورت ہے۔