ہاکی ایشیا کپ عرفان سینئرکو قیادت کے منصب پربٹھا دیا گیا

دورہ آسٹریلیااور نیوزی لینڈ میں ناقص کارکردگی کی پاداش میں عبدالحسیم خان قیادت سے فارغ،ٹیم سے باہر


Sports Reporter September 22, 2017
اوسط درجے کی 18 رکنی قومی ٹیم کا اعلان، دورہ آسٹریلیااور نیوزی لینڈ میں ناقص کارکردگی کی پاداش میں عبدالحسیم خان قیادت سے فارغ،ٹیم سے باہر فوٹو : فائل

پی ایچ ایف نے بنگلہ دیشں میں شیڈول 5 ویں ایشیا ہاکی کپ کیلیے اوسط درجے کی 18 رکنی قومی ٹیم کا اعلان کردیا، ہاکی ورلڈ لیگ میں شکست اور دورہ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں ناقص کارکردگی کی پاداش میں اولمپئن عبدالحسیم خان کو قیادت سے الگ کرکے اسکواڈ میں بھی شامل نہیں کیا گیا، محمد عرفان سینئر کو قیادت کے منصب پر بٹھا دیا گیا،بیرون ملک مقیم رضوان سینئر کو یقین دہانی پر ٹیم کا حصہ بناتے ہوئے نائب کپتان کی بھی ذمے داری سونپ دی گئی۔

کیمپ میں عدم شرکت کے باوجود راشد محمود کو بھی قومی ٹیم میں شامل کرلیا گیا، 6 کھلاڑی ٹیم سے باہر اور 6 نئے کھلاڑی شامل کرلیے گئے، اومان کے خلاف سیریز جیتنے والی پاکستان وائٹس کے 2 کھلاڑیوں عتیق احمد اور مبشر نے سلیکٹرز کا اعتماد حاصل کرلیا، قومی ٹیم کے ساتھ 9 ریزرو کھلاڑیوں اور 4 آفیشلز کے ناموں کا بھی اعلان کردیا گیا، قومی تربیتی کیمپ میں کھلاڑیوں کا فٹنس لیول بڑھانے والے نصراللہ کو قومی ٹیم کے ساتھ لے جانے کے قابل نہیں سمجھا گیا، تفصیلات کے مطابق مایوسی کا شکار پی ایچ ایف نے11 اکتوبر سے بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکہ میں شروع ہونے والے ایشیا کپ کیلیے قومی سلیکشن کمیٹی کی منتخب کردہ 18رکنی غیر مضبوط ٹیم ہیڈ کوچ اولمپئن فرحت خان کے حوالے کر دی، قومی سلیکشن کمیٹی نے پاکستان ٹیم کے انتخاب کے سلسلے میں عبدالستار ایدھی ہاکی کلب آف پاکستان اسٹیڈیم کی بلو ٹرف پر 2 روزہ ٹرائلز کے بعد بدھ کو منتخب کھلاڑیوں کے ناموں کو حتمی شکل دیدی تھی۔

سابق قومی کپتان اولمپئن حسن سردار سلیکشن کمیٹی کے چیئرمین جبکہ اولمپئن ایاز محمود اور اولمپئن مصدق حسین ارکان تھے، پی ایچ ایف کے صدر بریگیڈیئر (ر) محمد خالد سجاد کھوکر اور سیکریٹری اولمپئن شہباز جونیئر نے بھی کھلاڑیوں کی کارکردگی کا جائزہ لیا تھا، قومی فیڈریشن نے جمعرات کو لاہور سے منتخب ٹیم کا اعلان کیا، محمد عرفان سینئرکو ٹیم کی قیادت سونپی گئی ہے، رضوان سینئر ان کے نائب ہوں گے، دیگر کھلاڑیوں میں مظہر عباس اور امجد علی(گول کیپرز)، عاطف مصدق، مبشر علی، عماد شکیل بٹ، ابوبکر محمود، تصور عباس، راشد محمود، رضوان جونیئر، ارسلان قادر، اظفر یعقوب، عمر بھٹہ، علی شان، وقاص اکبر اور اعجاز احمد شامل ہیں، اسٹینڈ بائی کھلاڑیوں میں جنید کمال، علی حسن فراز، عرفان جونیئر، شان ارشاد، سلیم ناظم، قمر بخاری، خضر اختر، شجیع احمد اور حسان انوار کو رکھا گیا ہے۔

ٹیم آفیشلز میں اولمپئن فرحت خان قومی ہاکی ٹیم کے ہیڈ کوچ و منیجر، سابق قومی کپتان اولمپئن محمد سرور اور اولمپئن ملک شفقت کوچ جبکہ سابق قومی کپتان اولمپئن ڈاکٹر عاطف بشیر فزیو کے فرائض انجام دیں گے، حیرت انگیز طور پر قومی تربیتی کیمپ میں کھلاڑیوں کی فٹنس میں بہتری پیداکرنے والے نصر اللہ بنگلہ دیش نہ جاسکیں گے، واضح رہے کہ قومی اسکواڈ میں جگہ بنانے والے نائب کپتان عرفان سینئر اور راشد محمود قومی کیمپ کے دوسرے مرحلے میں شریک نہ ہوئے اور ان دنوں ہالینڈ میں عمر رسیدہ ڈچ ہاکی لیگ کھیلنے میں مصروف ہیں، قومی اسکواڈ سے 6 کھلاڑیوں کو ڈراپ کیا گیا، ان میں نواز اشفاق، علیم بلال، عمیر سرفراز، دلبر حسین، عرفان جونیئر اور سابق کپتان عبدالحسم خان شامل ہیں، دوسری جانب پاکستان ٹیم میں 6 کھلاڑی جگہ بنانے میں کامیاب ہوئے، ان میں محمد عرفان سینئر، راشد محمود، محمد رضوان سینئر، مبشر علی، وقاص اکبر اور عتیق ارشد شامل ہیں، یہ امر دلچسپی کا باعث ہے کہ پاکستان ٹیم میں سندھ، بلوچستان اور خیبر پختونخوا کا ایک بھی کھلاڑی شامل نہیں، تمام منتخب کھلاڑیوں کا تعلق پنجاب سے ہے، دوسری طرف ہاکی کے حلقوں کا کہنا ہے کہ ایشیا کپ کیلیے پاکستان ٹیم متوازن ہے، تاہم گول کیپرز پر کافی دباؤ رہے گا۔

ڈیفنس اوسط درجے کا ہے جبکہ فارورڈ لائن میں فنشنگ کا فقدان ہے، وہ ملنے والے مواقعوں سے فائدہ نہ اٹھاسکی تو پاکستان کے لیے مشکلات بڑھ جائیں گی، دوسری جانب پی ایچ ایف کی سلیکشن کمیٹی کے سربراہ و سابق قومی کپتان اولمپئن حسن سردار نے کہا ہے کہ سابق کپتان اولمپئن عبدالحسیم خان کو مایوس کن کارکردگی کی بنیاد پر ایشیا کپ کیلیے قومی ٹیم سے باہرکیا گیا ہے، ہاکی ورلڈ لیگ میں شکست اور دورۂ آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کی کارکردگی کو بھی سامنے رکھ کر انھیں ٹیم کا حصہ نہیں بنایا، اولمپئن حسن سردار نے کہا کہ حسیم خان میں گول اسکورنگ پاور نہیں رہی، سلیکشن کے وقت سابق اور موجودہ ٹیم مینجمنٹ کی رپورٹ کو بھی مدنظر رکھا گیا، انھوں نے کہاکہ ایشیا ہاکی کپ کیلیے ٹیم کا انتخاب مکمل میرٹ پر کیا گیا ہے، منتخب کردہ ٹیم جونیئر اور سینئرز پلیئرز کا بہترین امتزاج ہے۔

محمد عرفان سینئر، راشد محمود اور رضوان سینئر کی واپسی سے ٹیم مضبوط ہوئی ہے، ہم نے دستیاب بہترین کھلاڑیوں کا انتخاب کیا، ایک سوال کے جواب میں انھوں نے کہاکہ کیونکہ ملک میں ٹیلنٹ کی کمی ہے اور ہمارے پاس ایسے کھلاڑی نہیں جو سینئرزکی جگہ لے سکیں اس لیے سینئرز کو دوبارہ قومی ٹیم میں واپس لیا گیا ہے، انھوں نے کہا کہ امید ہے ٹیم ایشیا کپ میں شاندار کھیل پیش کریگی، بنگلہ دیش کے شہر ڈھاکا میں شیڈول ایشیا کپ کے گروپ میچ میں15 اکتوبر کو روایتی حریف بھارت کیخلاف میچ بہت اہمیت کا حامل ہے، اس میچ سے ہمیں اپنی ٹیم کی اہلیت کا اندازہ ہوجائے گا، توقع ہے کہ پاکستان کو حریف ٹیم کے خلاف کامیابی حاصل ہوگی، ایشیا کپ ڈھاکہ میں 11 سے 22 اکتوبر تک کھیلا جائے گا، ایشیا کپ 2017 میں8 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں، ان میں پاکستان، دفاعی چیمپئن بھارت، میزبان بنگلہ دیش، چین، جاپان، کوریا، ملائیشیا اور اومان شامل ہیں۔