نجی شعبے کاشرح سود10فیصدسے کم کرنے کامطالبہ

شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے ورنہ پاکستان کی معیشت مکمل تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے، چیئرمین کاٹی احتشام الدین


Business Reporter August 05, 2012
شرح سودمیںکمی نہ کی گئی تومعیشت مکمل طورپرتباہ ہوسکتی ہے،ایس ایم منیر

TOKYO: صنعتی اور تجارتی شعبوں نے حکومت سے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے آئندہ پیش کی جانے والی مانیٹری پالیسی میں شرح سود10 فیصد سے کم کرنے کا مطالبہ کردیاہے۔ کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری کے پیٹرن ان چیف ایس ایم منیر، چیئرمین احتشام الدین،صدر آل کراچی انڈسٹری الائنس میاں زاہد حسین، نائب صدر حشام اے رزاق اور صنعتکار سید جوہر علی قندھاری کاکہنا ہے کہ گورنر اسٹیٹ بینک یاسین انورکو چاہیے کہ وہ شرح سود کو کم کریں

جو اس وقت خطے میں سب سے زیادہ ہے۔ انھوں نے کہا کہ زائد شرح سودکے باعث صنعت بری طرح متاثرہورہی ہے جبکہ نان پرفارمنگ قرضہ جات کی شرح میںخطرناک حدتک اضافہ ہورہاہے۔ ایس ایم منیر نے کہاکہ اسٹیٹ بینک کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2011کے دوران بینکنگ انڈسٹری کے مجموعی نان پرفارمنگ قرضوں میں 56.54 ارب روپے کااضافہ ہوا اور 31 دسمبرتک مالیاتی اداروں اور بینکوں کے غیرفعال قرضے بڑھ کر 623.193 ارب روپے ہوگئے

جو31 دسمبر 2010 کو 566.645 ارب روپے تھے اور اس سے بینکنگ انڈسٹری کیلیے خطرناک صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے۔ انھوںنے کہاکہ اس ابتر صورتحال میںبھی صنعتی شعبہ بقاکی جنگ لڑ رہا ہے اورانتہائی زائد شرح سودبرداشت کررہا ہے، صنعتی شعبے کے نمائندگان نے گورنر اسٹیٹ بینک سے مطالبہ کیاکہ آئندہ مانیٹری پالیسی میں شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میںلایا جائے جووقت کی اہم ترین ضرورت ہے۔

چیئرمین کاٹی احتشام الدین نے کہاکہ جاپان اورامریکاسمیت کئی ممالک نے شرح سودا نتہائی کم سطح پررکھی ہوئی ہے تاکہ صنعت نقصانات سے بچ سکے۔ انھوںنے کہاکہ یہ صنعتکاروں کا پرانا مطالبہ ہے کہ شرح سود کو سنگل ڈیجٹ میں لایا جائے ورنہ پاکستان کی معیشت مکمل تباہی سے دوچار ہو سکتی ہے۔