کراچی بجلی کی مکمل بحالی میں15گھنٹے لگے بریک ڈاؤن کی تحقیقات کیلئے کمیٹی قائم ذمے دارون کو سزا دینے کا اع

بحران کے ذمے داروں کونہیں چھوڑیں گے،7 روز میں رپورٹ پیش کی جائے، وزیراعظم


Numainda Express February 26, 2013
اسلام آباد:وزیراعظم راجا پرویز اشرف بریک ڈاؤن کی صورتحال پرمنعقدہ اجلاس کی صدارت کررہے ہیں۔ فوٹو : ایکسپریس

ملک میں بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد پیر کو زیادہ تر علاقوں کو سپلائی بحال کردی گئی۔

تاہم تاحال خرابی کی واضح نشاندہی نہیں ہوسکی ہے ، کئی پیداواری یونٹوں کی تاحال بندش کے باعث شارٹ فال7 ہزار میگاواٹ تک پہنچ گیا ہے اور مختلف علاقوں میں بجلی کی فراہمی شروع نہیں ہوسکی، متعدد شہروں اور دیہات میں بجلی آنکھ مچولی بھی جاری ہے۔ وزارت پانی وبجلی نے بریک ڈائون کی تحقیقات کیلیے4 رکنی تحقیقاتی کمیٹی تشکیل دیدی ہے جو 7 روز میں اپنی رپورٹ پیش کرے گی جبکہ وزیراعظم راجا پرویز اشرف نے کہا ہے کہ جو بھی غفلت کا مرتکب پایا گیا اس کیخلاف سخت کارروائی ہوگی۔ کراچی میں15گھنٹے بعد بجلی کی مکمل فراہمی کا سلسلہ شروع ہوا۔

اسلام آباد سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق سیکریٹری پانی وبجلی رائے سکندر نے میڈیا کو بتایا کہ فنی خرابی نیشنل پاور کنٹرول سینٹر میںنہیں تھی بلکہ حبکو پاورپلانٹ کی اچانک بندش سے1200 میگاواٹ کاشارٹ فال اس بریک ڈائون کی وجہ بنا ، دوسرے پاور پلانٹس کو بچانے کیلیے پورے سسٹم کو ہی بندکرنا پڑا، اب سسٹم میں5 ہزار میگاواٹ سے زیادہ بجلی واپس آگئی ہے اورملک کے80 فیصد سے زائد علاقوں میں سپلائی بحال کردی گئی ہے۔ سیکریٹری نے کہا کہ ملک میں اتنے بڑے پیمانے پر بجلی کی بندش کا یہ تیسرا واقعہ ہے ، اس سے سے قبل 2005ء اور 2009ء میں بھی اس قسم کے بحران کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

تربیلاغازی سے نمائندہ ایکسپریس کے مطابق تربیلا ڈیم سے بجلی کی پیداوار دوبارہ شروع ہوگئی ہے، ٹرپنگ کی وجہ سے پیداواری یونٹوںکو نقصان نہیں پہنچا ،12یونٹ 1863 میگاواٹ بجلی پیدا کررہے ہیں جبکہ2 یونٹ بند ہیں ۔ ثنا نیوز کے مطابق نیشنل پاور کنٹرول سینٹر کے ترجمان نے بتایا کہ بحران کا سبب بننے والے حبکو پاور پلانٹ میںفنی خرابی کو تاحال دور نہیں کیا جا سکا۔ اسلام آباد، پنجاب ، خیبر پختونخوا، شمالی علاقوں میںمکمل طور پر جبکہ سندھ اور بلوچستان میں بجلی جزوی طور پر بحال کی جاچکی ہے۔

کے ای ایس سی کے ترجمان نے دعویٰ کیا ہے کہ کراچی شہر کو بجلی مکمل طور پر بحال کردی گئی ہے ، بجلی کے تعطل سے کلفٹن، ڈیفنس، نارتھ کراچی، گلش اقبال، گلستان جوہر، نارتھ ناظم آباد، پی ای سی ایچ اور کورنگی سمیت متعدد علاقوں میں14 گھنٹے بجلی بحال ہوئی۔ لیسکو ترجمان نے بتایا کہ لاہور میں بجلی کا بریک ڈائون 3 گھنٹے تک رہا۔ کیسکو ترجمان نے بتایا کہ کوئٹہ سمیت بلوچستان کے22 اضلاع کو بجلی کی فراہمی شروع کردی ہے۔ مانیٹرنگ ڈیسک کے مطابق بجلی کے بریک ڈائون کی وجہ کی تاحال نشاندہی نہیں ہوسکی ہے۔



پہلے بریک ڈائون کی وجہ نیشنل گرڈ میں فنی خرابی بتائی گئی تاہم بعد میں کہاگیا ہے کہ حبکو پاور پلانٹ میں خرابی کے باعث تعطل پیش آیا۔ ادھر وزارت پانی وبجلی نے وزیراعظم کے احکامات پربریک ڈائون کی تحقیقات کیلیے4 رکنی کمیٹی تشکیل دیدی ہے ، واپڈا کے ممبر پاور قاسم خان کمیٹی کے کنوینر جبکہ ڈائریکٹر ٹیکنیکل، این ٹی ڈی چیف انجینئر (سسٹم پروٹیکشن) اور وزارت پانی و بجلی کے جوائنٹ سیکرٹری ارکان ہوں گے، کمیٹی بجلی کے تعطل کی وجوہات اور ذمے داروں کا تعین کرکے 7 روز میں رپورٹ وزارت پانی وبجلی کو پیش کرے گی۔ دریں اثناوزیراعظم پرویز اشرف کی صدارت میں اعلیٰ سطح کا ہنگامی اجلاس ہوا جس میں وزیر پانی وبجلی چوہدری احمد مختار، وزیر خزانہ سلیم مانڈوی والا ، مشیر پٹرولیم ڈاکٹر عاصم حسین اور دیگر حکام نے شرکت کی۔

اجلاس میں بجلی کے تعطل کے بعد کی صورتحال کا جائزہ لیا ، وزیراعظم نے کہا کہ جو بھی غفلت کا مرتکب پایا گیا ، اس کو نہیں چھوڑا جائیگا،کراچی سے اسٹاف رپورٹر کے مطابق اتوارکی شب نیشنل گرڈ میں آنے والی خرابی کے سبب کراچی کے شہری مسلسل8 سے 15گھنٹے تک بجلی کی فراہمی سے محروم رہے۔ متعدد علاقوں میں پیر کی رات گئے تک بجلی کی فراہمی بحال نہیں کی جاسکی تھی۔ نیشنل گرڈاسٹیشن میں تعطل کی وجہ سے کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کے تمام بجلی گھر بھی بند ہوگئے اور پورا شہر مکمل طور پر تاریکی میں ڈوب گیا تھا۔

کے ای ایس سی ذرائع کے مطابق رات ساڑھے3 بجے نجی بجلی گھر ٹپال سے حاصل ہونے والی60 میگاواٹ بجلی کے ذریعے اپنے بجلی گھر چلانے کی کوشش کی گئی تاہم کے ای ایس سی کا پورا سسٹم ایک مرتبہ پھر ٹرپ کرگیا اور یہ سلسلہ پوری رات جاری رہا۔ واپڈا سے بجلی کی فراہمی شروع ہونے کے بعد پیر کی صبح 8 بجے کراچی میں بجلی کی بحالی کے کام کا آغاز کیا گیا جو کہ شام تک جاری تھا۔ ذرائع نے بتایا کہ بجلی نہ ہونے کی وجہ سے شہریوں کو شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔ رات بھر بجلی کی عدم فراہمی کی وجہ سے شہریوں نے رات جاگ کر گزاری، رات بھر بے آرام رہنے کی وجہ سے پیر کو اسکولوں، دیگر تعلیمی اداروں اور دفاتر میں حاضری معمول سے انتہائی کم رہی جبکہ شہر کے کاروباری سرگرمیاں ماند رہیں۔ شہر بھر کے اسپتالوں میں داخل مریضوں کو بھی شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔

متعدد ٹیچنگ اسپتالوں میں جنریٹر چلا کر بجلی بحال کی گئی۔ اسپتالوں میں رات بھر بجلی غائب رہنے کی وجہ سے داخل اور آنے جانے والے مریضوںکوشدید مشکلات کاسامنا کرناپڑا جبکہ مختلف اسپتالوں میں قائم نرسری کے انکیوبیٹرزاور وینٹی لیٹرز اورآئی سی یومیں داخل مریض بچوں اور بڑے افراد کی زندگیوں کوبھی خطرہ لاحق رہا، تحریری یقین دہانی کے باوجود کے ای ایس سی نے نیشنل گرڈ سے اچانک بجلی کی فراہمی میں تعطل کی صورت میں10 میگاواٹ کے جنریٹر اور فریکونسی بیلینسنگ سسٹم کی تنصیب نہیں کی۔

کے ای ایس سی شیئرز ہولڈرز ایسوسی ایشن کے سیکریٹری چوہدری مظہر نے ایکسپریس کو بتایا کہ2009 میں نیشنل گرڈ اسٹیشن میں آنے والے خرابی کی وجہ سے کے ای ایس سی کا پورا نظام بھی بیٹھ گیا تھا اور صارفین مسلسل 18 گھنٹے تک بجلی کی فراہمی سے محروم رہے تھے۔تحقیقات میں نیپرا نے بجلی کی فراہمی میں تعطل کا ذمے دار کے ای ایس سی انتظامیہ کو قراردیا تھا اور ٹوکن کے طور پر6 لاکھ روپے جرمانہ عائدکیا تھا۔کے ای ایس سی کی موجودہ انتظامیہ نے نیپرا کو تحریری یقین دہانی کرائی تھی کہ وہ مستقبل میں نیشنل گرڈ میں آنے والی خرابیوں کے دوران کراچی میں بجلی کی فراہمی جاری رکھنے کیلیے10میگاواٹ کا جنریٹر اوردیگر تکنیکی آلات نصب کرے گی، تاہم کے ای ایس سی نے تقریباً4 سال گذرجانے کے باوجود اپنے وعدے پر عمل نہیں کیا ۔

جس کی وجہ سے کراچی کے شہریوں کو ایک مرتبہ پھر مسلسل10 گھنٹے سے زائد بجلی کی فراہمی سے محروم رہنا پڑا۔دوسری جانب کراچی الیکٹرک سپلائی کمپنی کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اتوار کی شب این ٹی ڈی سی نیٹ ورک ، جس سے650میگا واٹ بجلی کے ای ایس سی حاصل کرتی ہے ، کے ای ایس سی سے اس کا ترسیلی رابطہ اچانک منقطع ہو گیا اور کے ای ایس سی کو بجلی کے حصول کی شرح صفر ہو گئی۔ پیر کی صبح کے ای ایس سی کا نیٹ ورک 100میگا واٹ کے ساتھ این ٹی ڈی سی سے دوبارہ ہم آہنگ ہوا اور دن کے12بجے تک کے ای ایس سی نے اپنے نیٹ ورک کے تمام رہائشی و تجارتی فیڈرز کو بجلی کی فراہمی بحال کر دی تھی ، اور دوپہر تک صنعتی علاقوں سمیت پورا نظام معمول پر آگیا اور شہر بھر میں بجلی کی فراہمی بحال ہو گئی۔