سیاسی جماعتیں نئے بحران پیدا کرنے سے گریز کریں

حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کے ایشو کو سیاست میں استعمال کر رہی ہے۔


Editorial February 26, 2013
ایک جانب سیاسی جماعتوں کا یہ جوڑ توڑ اور اتحاد و تعاون کا عمل جاری ہے تو دوسری طرف ملک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو صورتحال مایوس کن ہے۔ فوٹو: فائل

ملک میں سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ رہی ہے۔ سیاسی جماعتیں ایک دوسرے کے ساتھ کہیں سیٹ ایڈجسٹمنٹ کر رہی ہیں اور کہیں ایک دوسرے کے ساتھ اتحاد یا تعاون کے لیے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ اگلے روز پاکستان مسلم لیگ( ن) اور جمعیت العلمائے اسلام(ف) نے آیندہ انتخابات میں اکٹھے چلنے کا اعلان کیا ہے' اس طرح پیپلز پارٹی اور ق لیگ بھی اکٹھے چلنے کا اعلان کر چکی ہیں۔ یہ سب کچھ جمہوری نظام کا حصہ ہے اور ہر سیاسی جماعت کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی ہم خیال کسی بھی جماعت کے ساتھ اتحاد کرے یا تعاون کرے' اب اگلا مرحلہ مرکز اور چاروں صوبوں میں نگران سیٹ اپ کے قیام کا ہے' اگلے ماہ کے وسط تک نئے نگران سیٹ کے قیام کا امکان ہے' یوں ملک میں باقاعدہ الیکشن مہم کا آغاز ہو جائے گا۔

الیکشن میں جانے کے لیے ہر سیاسی جماعت عوام کے سامنے اپنا منشور یا پروگرام پیش کرتی ہے اور اس کے بل بوتے پر ووٹ کی طالب ہوتی ہے' اب چونکہ الیکشن سر پر آ گئے ہیں لیکن ملک کی بر سر اقتدار سیاسی جماعتوں سے لے کر اپوزیشن گروپوں اور تنظیموں تک کے طرز عمل کو دیکھتے ہیں تو صورتحال خوش کن نظر نہیں آتی۔ کسی سیاسی جماعت نے عوام کے سامنے اپنی اقتصادی پالیسی کے خد و خال پیش کیے نہ خارجہ پالیسی کی ترجیحات کا اعلان کیا۔ دہشت گردی کے خاتمے کے حوالے سے بھی کوئی ٹھوس حکمت عملی واضح نہیں کی گئی' سیاسی جماعتوں کا سارا زور ایک دوسرے پر الزام تراشی پر ہے یا پھر روایتی جوڑ توڑ کا عمل جاری ہے۔

پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ ق آیندہ الیکشن مل کر لڑیں گی ' وہ مرکزی حکومت میں بھی ایک دوسرے کے اتحادی ہیں' اس مقصد کے لیے سیٹ ایڈجسٹمنٹ ہو رہی ہے' اگلے روز مسلم لیگ ن اور جے یو آئی ف نے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کا اعلان کیا ہے۔ جے یو آئی کچھ عرصہ پہلے تک مرکز میں پیپلز پارٹی کے ساتھ حکومت میں شامل رہی ہے' اب مسلم لیگ ن اور جے یو آئی آیندہ الیکشن مل کر لڑیں گی۔ ادھر حکمران اتحاد کی سب سے بڑی جماعت پیپلز پارٹی پنجاب میں نیا صوبہ بنانے کے ایشو کو سیاست میں استعمال کر رہی ہے' ایک جانب سیاسی جماعتوں کا یہ جوڑ توڑ اور اتحاد و تعاون کا عمل جاری ہے تو دوسری طرف ملک کی صورتحال کا جائزہ لیں تو صورتحال مایوس کن ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ملک کی تمام بڑی جماعتیں کسی نہ کسی طرح گزشتہ پانچ برس سے اقتدار میں موجود ہیں۔

پیپلز پارٹی' مسلم لیگ ن' ایم کیو ایم' جے یو آئی(ف)' مسلم لیگ ق اور اے این پی اس فہرست میں شامل ہیں۔ جماعت اسلامی' تحریک انصاف یا چند علاقائی اور قوم پرست جماعتوں یا تنظیموں کے بارے میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ وہ اقتدار سے باہر رہی ہیں' گزشتہ پانچ برسوں میں ملکی معیشت پر غور کیا جائے تو اس معاملے میں حکومتی کارکردگی قابل رشک نظر نہیں آتی۔ افراط زر اور مہنگائی میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے' اس نے حکومت کے بہتر کاموں کو بھی گہنا دیا ہے۔ ملکی اور غیر ملکی قرضوں میں بہت زیادہ اضافہ ہوا۔ توانائی کے بحران پر قابو پانے کے لیے کوئی بڑا منصوبہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا' یوں توانائی کا بحران سنگین سے سنگین تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ اتوار اور پیر کی درمیانی رات بجلی کا ملک گیر بحران پیدا ہو گیا' ماضی میں کبھی ایسا نہیں ہوا' اس کا مطلب یہ ہوا کہ توانائی کا جو انفراسٹرکچر پہلے سے موجود ہے' اسے بھی ایمانداری اور پروفیشنل ازم سے نہیں چلایا جا رہا۔

ریلوے جیسا قومی ادارہ تقریباً مفلوج ہو گیا ہے' اس میں بہتری تو کیا لانی تھی' اسے پانچ برس پہلے کی حالت میں بھی برقرار نہیں رکھا جا سکا اور حیران کن امر یہ ہے کہ اس کے باوجود کسی نے اس کی ذمے داری تک قبول کرنا مناسب نہ سمجھا۔ دنیا کے شاید ہی کسی دوسرے ملک میں اس قسم کی سیاسی اخلاقیات کا مظاہرہ کیا گیا ہو گا۔ پانچ برس کے دوران جو سیلاب آئے اور ان کے نتیجے میں جو تباہی رونما ہوئی' اس قدرتی آفت سے نبٹنے کے لیے مرکزی اور صوبائی حکومتوں نے جو اقدامات کیے' وہ ناکافی رہے' المیہ یہ ہے کہ بلوچستان اور سندھ میں ابھی تک سیلاب متاثرین کی آباد کاری نہیں ہو سکی۔ زرعی شعبے کی حالت بھی تسلی بخش نہیں رہی' کسانوں کی حالت پہلے سے بھی خراب ہو گئی' زرعی مداخل کی مہنگائی نے کسان کی غربت میں اضافہ کیا' البتہ بڑے زمیندار اپنے اثر و رسوخ کے باعث خاصے خوشحال ہوئے ہیں' امن وامان کی صورت حال پر بات کریں تو اس میدان کی حالت بھی مثالی تو کیا تسلی بخش بھی قرار نہیں دی جا سکتی۔ پورے پانچ برس سے کراچی خون میں نہا رہا ہے' سندھ حکومت اس شہر کے لوگوں کو امن و امان نہیں دے سکی۔

اگر دہشت گردی کی بات کریں تو اس کی شدت میں بھی پہلے کی نسبت بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے' بلوچستان میں ایک جانب ہزارہ کمیونٹی کے افراد کو قتل کیا گیا اور دوسری جانب پنجابیوں کو بھی مارا گیا' بلوچ نوجوانوں کی لاشیں بھی ویرانوں سے برآمد ہوتی رہیں' خیبر پختونخوا میں تو سیکڑوں کے حساب سے دہشت گرد جیلیں توڑ کر فرار ہو گئے' صوبے کے سینئر وزیر بشیر بلور دہشت گردی کی واردات میں شہید ہو گئے' پشاور میں آئے روز بم دھماکے ہوتے ہیں اور جرائم ہوتے ہیں' پنجاب کی صورت حال کو قدرے بہتر کہا جا سکتا ہے لیکن اسے بھی مثالی قرار نہیں دیا جا سکتا' یہاں کے دیہی علاقوں میں جرائم کی بھر مار ہے' بہر حال اب موجودہ جمہوری سیٹ اپ کی آئینی مدت ختم ہونے والی ہے' سب سیاسی جماعتوں کو چاہیے کہ وہ نئے بحران پیدا کرنے کے بجائے پہلے سے موجودہ بحرانوں کو حل کرنے کی تجاویز کے ساتھ آیندہ الیکشن میں حصہ لیں تا کہ جب نئی حکومت وجود میں آئے تو اسے ہاتھوں سے دی ہوئی گانٹھیں دانتوں سے نہ کھولنا پڑیں۔