جامعہ کراچی کو مالی خسارے سے نکالنے کیلیے اقدامات پر عمل شروع

شام میں جامعہ میں کام کرنیوالے زائد عملے کو فارغ کیا،ماہانہ 14لاکھ بچ گئے


Staff Reporter October 13, 2017
 ہرماہ تقریباًایک کروڑ روپے کاپانی کااضافی بل ادا کرنا پڑتا تھا،3 میٹرلگائے۔ فوٹو : فائل

جامعہ کراچی کے وائس چانسلرپروفیسر ڈاکٹر محمد اجمل خان نے جامعہ کو مالی خسارے سے نکالنے کے لیے عملی اقدامات شروع کردیے ہیں۔

شیخ الجامعہ کی خصوصی ہدایت پر جامعہ کراچی میں پانی کے میٹر کی تنصیب کا کام شروع کردیا گیا، ابتدائی مرحلے میں گزشتہ ماہ 3میٹرز لگائے گئے ہیں جس کے نتیجے میں ایک ماہ میں 53 لاکھ روپے کی بچت ہوئی اور باقی ماندہ میٹروں کی تنصیب سے جامعہ کراچی کو ہرماہ ایک کروڑ روپے کی بچت ہوگی،پانی کے کل 6میٹرز لگائے جائیں گے۔

واضح رہے کہ اس سے قبل جامعہ کراچی میں پانی کی مد میں آنے والے بل کو سنجیدگی سے نہیں لیا گیا جس کی وجہ سے جامعہ کراچی کو ہر ماہ ایک کروڑ روپے کا اضافی بل اداکرنا پڑتاتھا لیکن ڈاکٹراجمل خان نے وائس چانسلرکا عہدہ سنبھالنے کے بعد پانی کی مد میں ا تنی خطیر رقم اداکرنے پر تشویش کا اظہار کیا، اس مسئلے پر ذاتی دلچسپی لیتے ہوئے فی الفور پانی کے میٹرزکی تنصیب کے احکام جاری کیے جس کے مثبت نتائج آنا شروع ہوگئے ہیں۔

علاوہ ازیں ایوننگ پروگرام میں کام کرنے والے ملازمین کو تنخواہوں کی مد میں 28 لاکھ روپے ماہانہ اداکرنے پڑتے تھے لہٰذا شیخ الجامعہ کی ہدایت پر ایوننگ پروگرام میں ضرورت سے زائد عملے کو فارغ کرنے سے اب یہ تنخوا ہیں14لاکھ ہوگئی ہیں۔

ایکسپریس سے گفتگوکرتے ہوئے ڈاکٹراجمل نے بتایا کہ پہلے سزا اور جزا کا نظام ختم ہو چکا تھا جامعہ میں جس کا جو دل چاہتا تھا وہ وہی کرتا تھا اسی لیے جامعہ میں کام کرنے والے زائد عملے کو فارغ کیا جارہا ہے، جس کے لیے کچھ لوگوں سے مخالفت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے،ان کا مزید کہناتھا کہ اس سال سے جامعہ کراچی میں آن لائن داخلوں کا نظام متعارف کرایاجارہاہے جس سے پراسپیکٹس چھپوانے کی مد میں خرچ ہونے والے تقریباً65 لاکھ روپے کی بچت ہوگی۔

اس کے علاوہ شیخ الجامعہ جامعہ کراچی میں دیگر مدوں میں خرچ ہونے والی رقم کا بھی باریک بینی سے جائزہ لے رہے ہیں تاہم جامعہ کراچی کو مالی بحران سے نکالنے کے لیے کوشاں ہیں۔