سری لنکا سے شکست

آل راؤنڈر کی طویل غیر موجودگی اور غلطیوں سے نہ سیکھنا پاکستانی کرکٹ ٹیم کے دیرینہ اور حل طلب مسائل ہیں


راشد عباس October 15, 2017
ٹیسٹ سیریز میں وائٹ واش کے بیک وقت کئی اسباب گنوائے جاسکتے ہیں۔ (فوٹو: انٹرنیٹ)

KARACHI: قومی کرکٹ ٹیم سری لنکا کے خلاف دو میچوں پر مشتمل کرکٹ سیریز دو صفر سے ہارگئی۔ سیریز شروع ہونے سے قبل مبصرین پاکستان کو فیورٹ قراردے رہے تھے کیونکہ بھارت کے ہاتھوں تینوں فارمیٹس میں کلین سویپ ہونے کے بعد سری لنکن ٹیم کا مورال بری طرح ڈاؤن تھا جبکہ دوسری طرف پاکستانی ٹیم گزشتہ سات سال سے اپنے متبادل ہوم گراؤنڈ متحدہ عرب امارات میں ناقابل شکست تھی۔ لیکن جب سیریز شروع ہوئی تو نتائج توقع کے خلاف برآمد ہوئے اور پاکستان کو ابوظہبی میں کھیلے گئے پہلے ٹیسٹ میں 29 جبکہ دبئی میں ٹیسٹ میں 68 رنز سے شکست کا سامنا کرنا پڑا۔

شکست کے اسباب کا جائزہ لیں تو اس کی سب سے بڑی وجہ غلط سلیکشن نظر آتی ہے۔ نہ صرف سلیکشن کمیٹی نے ڈومیسٹک کرکٹ میں تسلسل سے بہترین کارکردگی دکھانے والے بیٹسمین فواد عالم کو نظرانداز کیا بلکہ مستقبل پر نظر رکھنے کے نام پر محمد حفیظ کو بھی منتخب نہیں کیا گیا جن کا امارات کی وکٹوں پر نہ صرف بیٹنگ ریکارڈ شاندار ہے بلکہ وہ آف اسپنر کے طور پر بھی خاصے مؤثر ثابت ہوسکتے تھے۔ ایک اور اوپنر جو سلیکٹرز کی دوربین نگاہوں میں نہ سماسکے وہ احمد شہزاد ہیں۔ ایک روزہ کرکٹ کے برعکس ٹیسٹ میچوں میں ان کی کارکردگی تسلی بخش رہی ہے اور اب تک کے مختصر کیریئر میں ان کی بیٹنگ کی اوسط اکتالیس کی ہے مگر دلہن وہ جو پیا من بھائے اور پیا (انضمام الحق) کو تو ہر طرف شان مسعود اور سمیع اسلم کا ٹیلنٹ ہی نظر آتا ہے۔

دوسری طرف ٹور سلیکشن کمیٹی کا بھی برا حال رہا۔ ان وکٹوں پر مصباح الحق کے دو اسپنرز کھلانے کے کامیاب فارمولے کو تبدیل کرکے ایک اسپنر اور تین فاسٹ باؤلرز کو میدان میں اتارا گیا۔ چلیے ابوظہبی میں تو مینیجمنٹ سے غلطی ہوگئی مگر دبئی میں کھیلے جانے والے دوسرے ٹیسٹ میں تو دو اسپنرز کھلا کر اس کا مداوا ہو سکتا تھا۔ مگر کپتان و کوچ اپنی ضد پر اڑے رہے اور اس کا خمیازہ بھی بھگتا۔ دونوں میچوں میں فتح کے کم مارجن کو دیکھیں تو صرف ایک اضافی اسپنر کھلانے سے نتائج مختلف ہو سکتے تھے۔

امارات کی وکٹوں پر ٹاس بہت اہمیت کا حامل ہوتا ہے مگر یہاں پر بھی قسمت نے یاوری نہ کی اور کپتان سرفراز دونوں ٹاس ہار گئے۔

سری لنکا کی نسبتاً کمزور ٹیم سے شکست کے بعد کرکٹ بورڈ اور چیئرمین نجم سیٹھی کی آنکھیں اب کھل جانی چاہئیں۔ چیئرمین سلیکشن کمیٹی اور کوچ کو فری ہینڈ دے دینا تمام مسائل کا حل نہیں بلکہ اس شکست پر دونوں کی سرزنش ہونی چاہیے۔ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ آئندہ یہ غلطیاں سرزد نہ ہوں۔ بطور کپتان سرفراز احمد نے چند فیصلے غلط کیے مگر چونکہ یہ ان کی پہلی سیریز تھی اس لیے ان پر تنقید کے بجائے انہیں سنبھلنے کےلیے تھوڑا وقت دینا چاہیے۔

ایک اور مسئلہ جو قومی ٹیم کو کئی سال سے درپیش ہے وہ آل راؤنڈر کا نہ ہونا ہے۔ ڈومیسٹک سرکٹ میں بھی فی الحال کوئی ایسا کھلاڑی نظر نہیں آرہا جو تن تنہا اس خلا کو پر کر سکے۔ اس کا قلیل مدتی حل یہی ہوسکتا ہے کہ ٹیم میں بیک وقت انگلینڈ (بین اسٹوکس اور معین علی) کی طرح دو آل راؤنڈرز (ایک اسپنر اور ایک فاسٹ) کھلائے جائیں۔ اس سلسلے میں عامر یامین اور عماد وسیم بہترین آپشن ہوسکتے ہیں۔ ان کے ساتھ دو فاسٹ اور اسپنر یاسر شاہ کی صورت میں بہترین باؤلنگ کمبی نیشن بنایا جا سکتا ہے۔ بیٹنگ میں اظہر علی کو واپس اوپننگ پوزیشن پر لانا ہوگا جبکہ دستیاب آپشنز میں سے احمد شہزاد ان کے بہتر ساتھی ثابت ہو سکتے ہیں۔ تیسری پوزیشن حارث سہیل (اس دورہ کی واحد مثبت دریافت) کےلیے آئیڈیل ہے، چوتھے نمبر پر فواد عالم کو لانا ہوگا جبکہ پانچويں نمبر پر اسد شفیق اور چھٹے پر سرفراز کو خود کھیلنا چاہیے۔ ساتویں نمبر پر عماد اور آٹھویں پر عامر یامین کھیلیں تو نہ صرف بیٹنگ میں گہرائی آجائے گی بلکہ باؤلنگ میں بھی کپتان کے پاس زیادہ آپشنز ہوں گے۔

قومی ٹیسٹ ٹیم میں بہتری کےلیے یہ چند تجاویز تھیں جو ارباب اختیار میں سے کسی تک پہنچ بھی گئیں تو ان پر عملدرآمد بہت مشکل ہے کیونکہ پاکستان کی اگلی ٹیسٹ سیریز (کرکٹ بورڈ کی نااہلی کی بدولت) سات مہینے کے بعد ہے اور ہمارا قومی حافظہ ماشاءاللہ پہلے ہی بہت کمزور ہے اس لیے تب تک ون ڈے، ٹی ٹونٹی اور پی ایس ایل سے دل بہلائیے۔ ویسے بھی ٹیسٹ کرکٹ آج کل دیکھتا ہی کون ہے؟

نوٹ: ایکسپریس نیوز اور اس کی پالیسی کا اس بلاگر کے خیالات سے متفق ہونا ضروری نہیں۔
اگر آپ بھی ہمارے لئے اردو بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو قلم اٹھائیے اور 500 الفاظ پر مشتمل تحریر اپنی تصویر، مکمل نام، فون نمبر، فیس بک اور ٹویٹر آئی ڈیز اور اپنے مختصر مگر جامع تعارف کے ساتھ [email protected] پر ای میل کردیجیے۔