ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکولز کی عدم فعالیت اسکولوں کی من مانیاں جاری

محکمہ تعلیم کےطےکردہ مہینوں میں موسم گرما کی تعطیلات سےانکارکرنیوالےبااثراسکولوں نےفیسوں کاسہ ماہی نظام رائج کردیا.


Staff Reporter February 28, 2013
اسکول میں داخلے کے وقت ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کی ٹیوشن فیس کے مساوی داخلہ فیس وصول کی جارہی ہے۔ فوٹو: ایکسپریس/ فائل

STOCKHOLM: ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ اسکولزکی عدم فعالیت کے سبب نجی اسکولوں کی من مانیوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔

نجی اسکولوں نے''پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز رجسٹریشن ایکٹ'' کی دھجیاں بکھیرتے ہوئے اب ماہانہ فیسوں کے نظام کوسہ ماہی نظام میں تبدیل کردیا ہے،سہ ماہی بنیادوں پر یہ فیسیں ان نجی اسکولوں کی جانب سے وصول کی جارہی ہیں جنھوں نے گذشتہ سال جولائی اوراگست میں موسم گرما کی تعطیلات کرنے سے انکارکردیا تھا اور بلاآخر محکمہ تعلیم کو ان اسکولوں کے دبائو پر اپنا فیصلہ تبدیل کرنا پڑا تھا ، نجی اسکولوں کی جانب سے فیسوں میں مسلسل اور من مانے اضافے کاسلسلہ جاری ہے جبکہ داخلوں کے وقت 3 ماہ کی ٹیوشن فیس بیک وقت لیے جانے کا سلسلہ بھی نہیں روکا جاسکا ہے۔

'' ایکسپریس'' کو معلوم ہوا ہے کہ کراچی کے درجنوں بااثرنجی اسکولوں نے والدین سے ماہانہ فیسوں کے بجائے اب سہ ماہی بنیادوں پر فیسوںکی وصولی شروع کردی ہے اورہر تین ماہ پر ہزاروں روپے کا فیس وائوچر والدین کے حوالے کردیا جاتا ہے، ٹیوشن فیسوں میں من مانااضافہ توجاری ہے تھا تاہم اب کمپیوٹرفیس سمیت دیگر مدوں میں فیسوں کو ماہانہ ٹیوشن فیس سے علیحدہ کر کے اسے بھی ماہانہ بنیادوں پرفیس وائوچر میں شامل کردیاگیاہے ، ماہانہ کے بجائے سہ ماہی فیسوں کی وصولی سے والدین پر مالی بوجھ بڑھ گیا ہے۔



مزید براں جو اسکول ماہانہ فیسیں ہی وصول کررہے ہیں ان کی جانب سے اسکول میں داخلے کے وقت والدین سے ایک کے بجائے بیک وقت تین ماہ کی ٹیوشن فیس بھی وصول کی جارہی ہے، والدین سے کہا جاتا ہے کہ وہ تین ماہ بعد ماہانہ فیسیں جمع کرائیں، اسکول میں داخلے کے وقت ایک سال یا اس سے بھی زیادہ عرصے کی ٹیوشن فیس کے مساوی داخلہ فیس وصول کی جارہی ہے جس کی رجسٹریشن ایکٹ میں گنجائش ہی نہیں ہے۔

تاہم اس تمام صورتحال کوجاننے کے باوجود ڈائریکٹوریٹ پرائیویٹ انسٹی ٹیوشنز کے افسران خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں کیونکہ محکمہ تعلیم کے اعلیٰ حکام کی جانب سے ان افسران کو کئی بااثر اسکولوں کیخلاف کارروائی سے روکاگیا ہے اگرکسی اسکول کے خلاف کارروائی کی کوشش کی جاتی ہے تو محکمہ تعلیم کے حکام کی جانب سے ان افسران کی حوصلہ افزائی کے بجائے ان کی باز پرس کی جاتی ہے ، ڈائریکٹوریٹ کے افسران کا کہنا ہے کہ یہ وقت تونجی اسکولوں میں داخلے کرانے کاہے اس وقت ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جاسکتی کیونکہ اعلیٰ حکام کو بچوں کے داخلے انھی اسکولوں میں کرانے ہوتے ہیں۔