پٹرولیم مصنوعات کے نرخوں میں اضافہ

شرمناک بات یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئی تھیں۔


Editorial March 02, 2013
جمہوری حکومت نے اپنے 5 سالہ دور اقتدار میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 95 سے 98 فیصد تک اضافہ کیا ہے۔ فوٹو: کریٹیو کامنز/فائل

موجودہ حکومت نے جاتے جاتے ملک میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ساڑھے تین سے تقریباً ساڑھے چار روپے تک فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اوگرا نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نئی قیمتوں کا اطلاق یکم مارچ سے ہو گا جن کے مطابق پٹرول کی قیمت 3.53 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 106.60روپے، ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 4.35 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ 113.56 روپے، مٹی کے تیل کی قیمت3.93 روپے فی لیٹر اضافے کے ساتھ103.69 روپے فی لیٹر جب کہ لائٹ ڈیزل کی قیمت 3.93روپے اضافے کے ساتھ98.26 روپے فی لیٹر کر دی گئی ہے۔

یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جمہوری حکومت نے اپنے 5 سالہ دور اقتدار میں پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 95 سے 98 فیصد تک اضافہ کیا ہے، یعنی ان مصنوعات کی قیمتیں تقریباً دگنا ہو گئیں اور عالمی کساد بازاری اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں اضافے کا جواز بنا کر حکومت نے 2008ء میں 50 روپے کے قریب ملنے والے پٹرول کی قیمت 100 روپے سے بھی اوپر پہنچا دی اور اب جب اقتدار کے ختم ہونے میں 15دن بھی نہیں رہے، یہ الوداعی تحفہ عوام کے سر منڈھ دیا۔ اپوزیشن رہنمائوں کے نزدیک پیپلزپارٹی کی ''عوامی حکومت''نے اپنے الوداعی دنوں میں بھی پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کردیا ہے جس سے مہنگائی کا طوفان اٹھے گا۔ لہٰذا اضافے کو فوری واپس لیا جائے۔ اپوزیشن کو بخوبی علم ہے کہ وہ بھی مخالفت برائے مخالفت کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

شرمناک بات یہ ہے کہ عالمی مارکیٹ میں جمعرات کو خام تیل کی قیمتیں کم ہو گئی تھیں۔ نیو یارک میں لائٹ سویٹ کروڈ کی قیمت 27 سینٹ کمی کے ساتھ 92.49 بیرل پرآ گئی۔ خام تیل کی قیمتوں میں کمی یورو زون کے اہم ملک اٹلی کے مالی بحران کی وجہ سے ہوئی۔ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ صرف پٹرولیم مصنوعات تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس اضافے کی آڑ میں سب سے پہلے تو ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں اضافہ کیا جاتا ہے، جس کی پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافے سے کوئی نسبت نہیں ہوتی اور پھر جب ٹرانسپورٹیشن کا خرچہ بڑھتا ہے تو اس کے نتیجے میں نہ صرف ٹرانسپورٹ کی جانے والی اشیاء کی قیمتیں بڑھتی ہیں بلکہ وہ چیزیں بھی مہنگی کر دی جاتی ہے جو ٹرانسپورٹیشن کی ذیل میں ہی نہیں آتیں۔

انھی صفحات پر ہم بارہا یہ عرضداشت پیش کر چکے ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو نسبتاً ایک لمبے عرصے کے لیے منجمد رکھا جائے تا کہ اس کا اثر ضروریات زندگی کی دیگر اشیاء پر نہ پڑے لیکن شاید عوام کو ریلیف دینے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے حوالے سے حکومت کی کوئی ترجیحات ہی نہیں ہیں۔ پاکستان جیسے غریب اور پسماندہ ملک کی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے کسی حد تک منصوبہ بند معیشت کی ضرورت ہے۔پیڑولیم مصنوعات ، بجلی اور گیس کی قیمتیں سالانہ میزانیے میں ہی طے کردی جائیں تو اس سے افراط زر اور مہنگائی کی رفتار کو کم کیا جاسکتا ہے۔

بھارت میں ایسا ہی ہورہا ہے حالانکہ بھارت کے پاس تیل کے ذخائر انتہائی محدود ہیں اور اسے اپنی ضرورت کا سارا تیل درآمد کرنا پڑتا ہے، اس کے برعکس پاکستان میں اچھی خاصی مقدار میں تیل پیدا ہوتا ہے ،یہاں گیس بھی پیدا ہوتی ہے، اس کے باوجود پاکستان میں تیل کی قیمتیں مستحکم نہیں ہیں۔اگر پاکستان پر حکومت کرنے والے پالیسی ساز اپنی ترجیحات میں تبدیلی لائیں تو تیل اور توانائی کے دیگر ذرایع کی قیمتوں میں استحکام آ سکتا ہے جس سے ملکی معیشت کی صورتحال میں بھی خاصی بہتری آسکتی ہے۔