وزیر داخلہ دھماکوں کی اطلاع تو دیتے ہیں کارروائی نہیں کرتے آئی جی بلوچستان

حکومت عوام سے ٹیکس تووصول کرتی ہے لیکن تحفظ نہیں دیتی،جسٹس عظمت،عدالت کاحکومتی رپورٹ پرعدم اطمینان.


Numainda Express March 07, 2013
دوبارہ پیش کرنے کاحکم، صوبائی انتظامیہ دفاتر میں چھپ کر نہیں بیٹھی، وکیل بلوچستان حکومت، سماعت 2ہفتے تک ملتوی. فوٹو: فائل

سپریم کورٹ نے بلوچستان میں حالات کو بہتر بنانے کے حوالے سے حکومتی رپورٹ پر عدم اطمینان کااظہارکیا ہے اور آئندہ سماعت پر دوبارہ رپورٹ پیش کرنے کاحکم دیا ہے۔

بلوچستان بدامنی اور ہزارہ کمیونٹی کے قتل عام کے مقدمے کی سماعت کے دوران جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ حکومت عوام سے ٹیکس تو وصول کرتی ہے لیکن بدلے میں انھیں تحفظ نہیں دیا جاتا۔ انسپکٹر جنرل پولیس بلوچستان نے بھی رپورٹ جمع کرائی جس میں کہا گیا تھا کہ وفاقی وزیر داخلہ دھماکوں کے بارے میں پہلے ہی اطلاع دے دیتے ہیں لیکن روکنے کیلیے کوئی اقدمات نہیں کرتے۔جسٹس گلزار اور جسٹس عظمت سعید پر مشتمل دو رکنی بینچ نے مقدمے کی سماعت کی۔



عدالت کو بلوچستان پولیس کے سربراہ نے بتایا کہ دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن اقدمات کیے جارہے ہیں جبکہ پولیس اہلکاروںکو اس کیلیے تربیت بھی دی جارہی ہے۔ بلوچستان پولیس سربراہ کی رپورٹ کے مطابق اس تربیت کے جلد نتائج سامنے آئیں گے،انھوں نے بتایا ایک نئی فورس بھی تشکیل دیدی گئی ہے ۔

درخواست گزار نے عدالت کو بتایا کہ گزشتہ دن ایک صوبائی وزیرکو اغواء کیا گیا ہے اور تاوان کیلیے رقم مانگی جارہی ہے جبکہ پراسیکیوٹر جنرل بلوچستان بھی لاپتہ ہیں، جسٹس شیخ عظمت سعید نے ریمارکس دیے کہ ہم حکومت کو ٹیکس ادا کرتے ہیں لیکن ہمیں اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا ، شہریوں کو جان ومال کا کوئی تحفظ فراہم نہیں کیا جارہا۔ بلوچستان حکومت کے وکیل شاہد حامد نے کہا صوبائی انتظامیہ دفاتر میںچھپ کر نہیں بیٹھی، کھاد سمیت دہشتگردی کے واقعات میں استعمال ہونے کیمیکل کوکنٹرول کیا جارہا ہے۔عدالت نے سماعت 2 ہفتے کیلیے ملتوی کر دی۔