صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
فیکٹ چیک
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
بلاگ
رائے
آبنائے ہرمز صرف ایک سمندری راستہ نہیں بلکہ دنیا کی توانائی کی شہ رگ ہے۔
اسلام آباد کی بلند عمارتوں میں بیٹھے پالیسی سازوں کے قلم کی ایک جنبش سے اربوں روپے ادھر سے ادھر ہو رہے تھے۔
تاریخ کا پہیہ جب بھی مشرق وسطیٰ کی ریت پرگھومتا ہے، اس کے نشانات پاکستان کے غریب گھرانوں کے باورچی خانوں تک گہرے ہوتے چلے جاتے ہیں
جب تیل کی قیمت بڑھتی ہے تو ساتھ ہی ٹرانسپورٹ، بجلی، صنعت کی لاگت، خوراک سمیت مکانوں کے کرائے بڑھتے چلے جاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز کے تنگ سمندری راستے میں ذرا سی بھی رکاوٹ پیدا ہو جائے تو دنیا کی معیشت میں ہلچل مچ جاتی ہے۔
بیرونی تجارت سے متعلق تازہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ جولائی تا فروری 2006 کے پہلے 8 ماہ میں پاکستان کا تجارتی خسارہ 25 ارب ڈالر کی دہلیز پار کر چکا ہے۔
پاکستان اپنی تیل کی درآمدات کے لیے خلیجی ممالک پر بہت زیادہ انحصار کرتا ہے اور یہ تمام سپلائی ’’آبنائے ہرمز‘‘ کے راستے پاکستان پہنچتی ہے۔
پاکستان ترکیہ زرعی تعاون کو جب ہی چھوٹے کسانوں کے لیے فائدہ مند سمجھا جائے گا جب یہ معاملہ صرف ٹیکنالوجی کا نہ ہو بلکہ انصاف کا معاملہ ہو۔
آئی ایم ایف کے تیسرے اقتصادی جائزہ مشن کی آمد اب محض ایک سفارتی دورہ نہیں رہا۔