صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
ایک رسالے کے آنے پر جو خوشی، جو بےتابی اور جو چاشنی ہوتی تھی، وہ شاید ہی کسی اسکرین سے مل سکے
اسٹنگ ریز عام طور پر سمندر کے نسبتاً کم گہرے پانی میں ریت کے قریب رہتی ہیں
گلیشیئرز کا پگھلنا صرف برف کا پگھلنا نہیں، بلکہ یہ آنے والی نسلوں کے مستقبل کا پگھلنا ہے
ہر مقام پر اور ہر کام پر وزیر اعلیٰ کی تصویر لگا دینے سے عام آدمی کے مسائل حل نہیں ہوں گے
14 نومولود جل کر مر گئے۔۔۔ 14 ایسی قبریں جن میں سے کسی بچے کو یہ بھی معلوم نہیں تھا کہ آگ کیا ہوتی ہے؟
جس دن بلدیاتی ادارے فعال ہو گئے، اس دن سے انتظامیہ بھی بہتر ہو جائے گی اور بڑے شہروں پر بوجھ بھی کم ہو جائے گا
آخر ایک زرعی ملک کے عوام کو روٹی کے لیے کیوں پریشان ہونا چاہیے؟
عوام کا کیا ہے، آج پہلا دن سانحے کا، پرسوں سوئم اور چہلم کے بعد ویسے ہی بھول بھال جاتے ہیں
پاکستان کرکٹ کے انداز ہی نرالے ہیں یہاں کچھ بھی ممکن ہے
مسلمانوں کے خلاف نفرت کسی کا فطری تہذیبہ تصادم نہیں بلکہ طاقت کے بھوکے حکمرانوں کا سیاسی ہتھیار تھا
زندگی کے راستے ہمیشہ واضح نہیں ہوتے، کبھی رشتے، کبھی تعلیم، کبھی کاروبار، کبھی رہائش، کبھی ملازمت اور کبھی بڑے فیصلے انسان کو تذبذب میں ڈال دیتے ہیں
کسی ریاست میں انصاف کی فراہمی نہ ہو یا انصاف دیر سے ملے، تو اس کا وجود خطرے میں پڑ جاتا ہے
کائنات کی تخلیق کا مقصد اگر کسی ایک وجود میں سمٹ آیا ہو تو وہ حضرت محمدصلی اللہ علیہ وسلم کی ذات ہے
ایک بے جان فائل کے پیچھے ایک جیتا جاگتا انسان اور اس کا پورا خاندان ہوتا ہے
شاید یہی وہ مقام ہے جہاں علم معلومات سے، معلومات فہم سے اور فہم ذمے داری سے جڑتی ہے
علم کا سب سے بڑا خطرہ یہ نہیں کہ وہ ہمیں کیا بتاتا ہے، بلکہ وہ ہمیں ان سوالات تک پہنچادیتا ہے جن سے ہم پہلے ناواقف تھے
بزرگوں نے مل کر یہ طے کرلیا کہ ہم سب ہندوستان سے ہجرت کرکے ایک نئے ملک پاکستان میں آباد ہوں گے
دلچسپ بات یہ ہے کہ کم قیمت والی پرانی فرنچائز بھی یہی کہتی ہیں کہ نقصان میں ہیں تو نئی کی کیا بات کریں
مولانا جوہر نے مسلمانانِ ہند میں سیاسی شعور پیدا کرنےاور آزادی کی جدوجہد میں اہم کردار ادا کیا
کیا ہم آج بھی اُن مقاصد کی طرف بڑھ رہے ہیں جن کے لیے یہ وطن حاصل کیا گیا تھا؟
ماہرین کے نزدیک خوشی کا تعلق صرف مسلسل مسکراتے رہنے یا ہر وقت خوشگوار کیفیت میں رہنے سے نہیں
جن کے ہاتھ میں اقتدار ہے وہ اپنا رعب و دبدبہ اور پروٹوکول کسی دوسرے کے ساتھ تقسیم کرنا ہی نہیں چاہتا
ہمارے حکمران دل پر ہاتھ رکھ کر سوچیں کیا یہ وہی پاکستان ہے جس کا خواب 1947 میں دیکھا گیا تھا؟
ہم کب تک ایسی خوراک کھاتے رہیں گے جس کے بارے میں ہمیں خود یقین نہیں کہ یہ ہماری صحت کے لیے محفوظ ہے؟
8 اگست 2016 بلوچستان کی تاریخ کا ایک سیاہ اور الم ناک باب ہے
ہمارے ہاں سسٹم بیٹھنے کی بہت ساری دیگر وجوہات بھی ہیں
آبپاشی کے نظام میں صرف پانی کی مقدار ہی نہیں بلکہ اس کا بروقت دستیاب ہونا بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے
ایسے یونٹ قائم کیے جائیں جو اقتدار کو تقسیم کریں، قوم کو نہیں
ورلڈ وائیڈ ویب ڈے، وہ انقلاب جس نے دنیا کو ایک کلک کی دوری پر لاکھڑا کیا
انصاف کی عدم موجودگی میں معاشرہ تباہی، ظلم اور افراتفری کا شکار ہوجاتا ہے
ماضی میں ریگل چوک کا علاقہ احتجاج، مظاہروں اور مطالبات کے اظہار کی سب سے نمایاں جگہوں میں شمار ہوتا تھا
جمہوریت دراصل ایک ایسا نظامِ حکمرانی ہے جس میں اقتدار کا سرچشمہ عوام ہوتے ہیں
جب مزاج دین کے مطابق ہوجائیں گے تو اجتماعی سطح پر یہ ایک تحریک کی صورت میں نمودار ہوگا
آخر نوجوان کب فیصلہ کرتے ہیں کہ اب خاموش نہیں رہنا؟
کھیل کے میدانِ پر تمام ٹیمیں برابر، لیکن وی آئی پی لاؤنجز اور ایگزیکٹو بورڈ رومز میں کچھ لوگ دوسروں سے ’برتر‘ ہیں
بعض اوقات خاموشی سے محنت کرنے والے لوگ ہی صحیح وقت آنے پر سب کو حیران کر دیتے ہیں
یہ دن ہر سال 22 جولائی کو منایا جاتا ہے، جس میں دماغی صحت کے مختلف پہلوؤں پر توجہ مرکوز کی جارہی ہے
سوال کرنا کوئی برائی نہیں، بلکہ سیکھنے کی پہلی سیڑھی ہے
CAR-T خلیے جسم میں رہ سکتے ہیں، بڑھ سکتے ہیں، دوبارہ سرگرم ہوسکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر دوبارہ حملہ بھی کر سکتے ہیں
یہ جملہ اس سوچ کی عکاسی کرتا ہے جو قربانی اور ملازمت کے فرق کو سمجھنے سے قاصر ہے
’ستلج‘ محض ایک فلم نہیں بلکہ ایک سوال ہے کہ کیا قانون سب کے لیے برابر ہے؟
کسی ایک عمارت کی کمزوری کی قیمت لاکھوں نوجوانوں کے روزگار سے وصول کرنا انصاف نہیں
بورڈ نے پلیئرز پاور ختم کرنے کے چکر میں ٹیم کی یکجہتی ہی ختم کر دی تھی
کم از کم اجرت کا مقصد محض سرکاری ہندسہ مقرر کرنا نہیں، بلکہ محنت کش کو باوقار زندگی گزارنے کے قابل بنانا ہے
رشتے کے وقت بھی دیکھا جاتا ہے کہ لڑکا اچھا تو ہے لیکن کماتا کتنا ہے؟
پاکستان میں کارپوریٹ کلچر اور نجی اداروں میں ڈاؤن سائزنگ اور رائٹ سائزنگ کا رجحان ایک فیشن بن چکا ہے
محرم کا پیغام صرف ایک مہینے تک محدود نہیں، بلکہ یہ پورے سال کے لیے ہمارے لیے ایک لائحہ عمل ہے
ہر مریض دوسرے سے مختلف ہے، ادویات، امکانات اور انسان کی انفرادیت اہم ہے
جو شخص خواتین کے ساتھ بدتمیزی کا مرتکب پایا جائے اس کے خلاف سخت ایکشن لیا جائے
کیا اس کارکردگی پر جشن منایا جائے یا پھر اس پر تشویش کا اظہار کیا جائے؟