صفحۂ اول
تازہ ترین
کھیل
خاص خبریں
پاکستان
انٹر نیشنل
ٹاپ ٹرینڈ
انٹرٹینمنٹ
لائف اسٹائل
فیکٹ چیک
صحت
دلچسپ و عجیب
سائنس و ٹیکنالوجی
بزنس
رائے
’’جب تم ذبح کرو تو اچھے طریقہ سے ذبح کرو اور تم میں سے کوئی اپنی چُھری بھی تیز کرلے تاکہ ذبیحہ کو ذبح کے وقت آرام پہنچے۔‘‘ (رواہ مسلم)
’’جس شخص میں قربانی کرنے کی وسعت ہو پھر بھی وہ قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب نہ آئے۔‘‘ (ابن ماجہ)
’’میری نماز اور میری قربانی اور میرا جینا میرا مرنا سب اﷲ کے لیے ہے جو تمام دنیا کا پروردگار ہے۔
حج کے لغوی معنی کسی عظیم الشان مقصد کی طرف قصد کرنا ہے۔
’’اﷲ تعالیٰ کا پہلا گھر جو لوگوں کے لیے مقرر کیا گیا ہے وہی ہے جو مکہ مکرمہ میں ہے اور جو تمام لوگوں کے لیے ہدایت و برکت والا ہے۔‘‘
خدا سے محبت کرنے والے نرم دل ہوتے ہیں، وہ اس کی مخلوق سے بھی محبت کرتے ہیں
’’جائز طریقے سے نفع کمانے والے تاجر کو برکت والا رزق ملتا ہے جب کہ ذخیرہ اندوزی کرنے والا اﷲ کی رحمت سے خود کو دُور کر نے والا (لعنتی) ہے۔‘‘
لغو و فضول باتوں سے پر ہیز کریں کہ ان سے عبادت کا نُور جاتا رہتا ہے۔
رمضان الکریم کی آمد سے ذرا پہلے ہم سب ایک ناقابل بیان روحانی کیفیت میں مبتلا اس ماہِ مقدس کا انتظار کرتے ہیں، پھر رمضان آتے ہیں
صدقۂ فطر سے عید کے دن ناداروں اور مسکینوں کی خوراک و پوشاک کا انتظام ہوجاتا ہے
کم بولنا زیادہ غور کرنے سے عبارت ہے۔ روزے کے دوران، شدید بھوک اور پیاس ہمیں خود بہ خود خاموش کرا دیتی ہے۔
’’اے اﷲ! بے شک آپ معاف کرنے والے، کرم فرمانے والے ہیں، معافی کو پسند فرماتے ہیں لہٰذا مجھے معاف فرما دیں۔‘‘ (جامع ترمذی)
شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ اس رات میں فرشتے اور روح القدس
’’یہ ایک ایسا مہینہ ہے کہ اس کا پہلا عشرہ اﷲ کی رحمت، درمیانی عشرہ مغفرت اور آخری عشرہ جہنم کی آگ سے آزادی کا ہے۔
آپؓ نے فرمایا: ’’ملک کفر سے تو چل سکتا ہے لیکن ظلم سے نہیں چل سکتا۔‘‘ ’’میں نے کوئی وافر دولت ایسی نہیں دیکھی جس کے پہلو میں غصب شدہ حق نظر نہ آئے ہوں۔‘‘
آپ کا نام علیؓ ہے اور القاب اسد اﷲ، حیدرِ کرار اور مرتضی تھے۔ ابوالحسن اور ابُوتراب آپؓ کی کنیت تھی۔
مسلم دنیا جو اس وقت مصائب و آلام میں گرفتار ہے، علیؓ کی زندگی اختیار کرکے مصائب و آلام پر قابو پا سکتی ہے اور دنیائے شیطانی کو شکست سے دوچار کر سکتی ہے
’’علیؓ سے محبت، اﷲ اور رسول کریم ﷺ سے محبت رکھنا ہے اور علیؓ سے عداوت اﷲ اور رسول اکرمؐ سے عداوت رکھنا ہے۔‘‘
بچوں نے بھی میدانِ جنگ میں کارنامے انجام دیے
آپ زہد و اتقاء، محبّت و خشیت الٰہی سے معمور تھیں، فقہی امور میںجلیل القدر صحابہ کرامؓؓ آپ سے مشورہ و راہ نمائی حاصل کرتے تھے
ارشادِ باری تعالیٰ کا مفہوم ہے: ’’یتیم کا مال ناحق کھانا کبیرہ گناہ اور سخت حرام ہے۔‘‘ (الدھر)
فتنہ یہی ہے کہ ہم مال و دولت جمع کریں اور دوسروں کو بھول جائیں اور نجات یہی ہے کہ ہم مفلسین کو دیں اور اﷲ پر بھروسا کریں
خود اپنے لیے تو پکوان سجے ہوئے ہوں اور دوسروں کو صرف شربت یا لسّی کے دو گھونٹ پر افطار کروایا جا رہا ہے تو یہ پسندیدہ عمل نہیں ہے
اسلام نے عورتوں کو استحصال سے نجات دلانے اور ان کی منزلت بتانے کے لیے دختر رسول کریم ؐ خاتون جنت حضرت فاطمہ زھراؓ کا انتخاب کیا
حضور ﷺ نے خود قبر میں اتر کر ام المؤمنین حضرت سیدہ خدیجۃ الکبرٰیؓ کی تدفین فرمائی۔ رسول کریم ﷺ ہمیشہ آپؓ کو یاد کر کے آبدیدہ ہوجایا کرتے تھے
ماہ رمضان بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ اسے تین عشروں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ پہلا عشرہ رحمت، دوسرا مغفرت اور تیسرا عشرہ جہنم سے آزادی کا ہے
ماہ رمضان کے فیضان کے کیا کہنے! اس کی تو ہر گھڑی رحمت بھری ہے
چشم ما روشن دل ماشاد: رمضان المبارک ہماری روحانی شخصیت کی خوب صورتی اﷲ کی ذات کے لیے کیے گئے اعمال سے ہے
رمضان المبارک وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں اﷲ تعالیٰ نے قرآن حکیم نازل فرمایا۔
گزرا وقت واپس نہیں آتا … مگر آنے والا ہر لمحہ اور ہر صبح کو طلوع ہونے والے سورج کی کرنوں سے پھوٹنے والی روشنی امید کا پیغام ضرور دیتی ہے
صرف زبان ہی سے نہیں بلکہ ہاتھ آنکھ اور اشاروں سے بھی غیبت ممکن ہے اور یہ بھی حرام اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے
’’ اﷲ جو چاہے مٹاتا ہے اور ثبت کرتا ہے اور اصل لکھا ہوا، اسی کے پاس ہے۔‘‘
نبی کریم ﷺ نے فرمایا: ’’بے شک! تمہارا رب بڑا حیادار ہے۔ وہ شرم کرتا ہے کہ بندہ اس کی طرف دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور وہ انھیں خالی ہاتھ واپس کردے۔‘‘
اس رات میں گناہوں سے ترک تعلق کرنے کا عہد کرنا ہے، اسے یوم تجدید عہد کہتے ہیں۔ اگر ہم نے اس کے تقاضے پورے کیے تو یہ بخشش اور نجات کی رات ہے
’’اے اﷲ! مجھے ایسا پاکیزہ دل عطا فرما جس میں شرک کا شائبہ بھی نہ ہو اور نہ بدکار ہو اور نہ بدبخت ہو۔‘‘
ساری قوم اجتماعی طور پر اﷲ تعالیٰ کی بارگاہ میں مغفرت طلب کرے اور اس رات کو شبِ توبہ اور شبِ دعا کے طور پر منائے
’’جس دل میں علم حقیقی کا نُور ہو، اس دل میں گم راہی کا اندھیرا جگہ نہیں بنا سکتا۔‘‘
اسلامی ریاست میں تمام شہریوں کو عقیدے، مذہب، جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفّظ کی ضمانت حاصل ہے
پاک ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے کو، ایک رات میں مسجد الحرام سے مسجد اقصیٰ تک سفر کرایا
واقعہ معراج انسانیت کے لیے اپنے حبیب ؐ کی شان و مقام اور اپنی قدرت کو عیاں کرنے کا ایک مظہر تھا
رسول کریمؐ نے سود کھانے والے، دینے والے، لکھنے والے اور اس پر گواہی دینے سب پر لعنت فرمائی
’’تمہارا رب بڑی وسیع رحمت کا مالک ہے۔‘‘ ’’میری رحمت ہر چیز کو محیط ہے۔‘‘ ’’تمہارا رب بہت بخشنے والا بڑی رحمت والا ہے۔‘‘
اسلامی حکومت کی عمارت اخوّت اور مساوات کی بنیادوں پر اُٹھائی گئی، اس کی قوت کا انحصار دل کی محبت اور روح کی اطاعت پر تھا۔
’’یہ ایک بڑی خیانت ہے کہ تم اپنے بھائی سے ایسی بات بیان کرو، جس حوالے سے وہ تمہیں سچا سمجھتا ہے، حال آں کہ تم اس سے جھوٹ بول رہے ہو۔‘‘
شرعی حدود میں کیا گیا ہنسی، مذاق انسیت و مودت کا ذریعہ ہے
دنیا بھر کے مفکرین اور دانش ور اس حیرت میں مبتلا ہیں کہ رسول کریم ﷺ نے مختصر ترین دور میں اتنا بڑا انقلاب کیسے برپا کر دیا
آپ ؓ کو اﷲ تعالیٰ اور بارگاہِ رسالت مآب صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم میں خصوصی اہمیت و فضیلت حاصل تھی
سیدنا حضرت ابوبکر صدیقؓ فیصلے کرنے اور فصاحت و بلاغت میں کمال رکھتے تھے
مہاجرین مکہ اور انصار مدینہ کے درمیان مثالی بھائی چارہ چشم فلک نے انقلابات زمانہ تو کئی دیکھے لیکن رسول کریم ﷺ کے انقلاب جیسا انقلاب نہیں دیکھا