شہر میں کچرا اٹھانے کا کام بند کر دیا گیامہلک امراض پھوٹنے کا خطرہ

شہر کی کچرا کنڈیاں بھرگئیں، تعفن بھی پھیلنے لگا،کچرا لوگوں کے گھروں کے آگے جمع ہوگیا ہے، فوری نوٹس لیا جائے، شہری


Staff Reporter March 12, 2013
سی آئی اے سینٹرکے سامنے گلی کچرے کے ڈھیرسے بندنظرآرہی ہے ۔ فوٹو : ایکسپریس

شہر کے بلدیاتی اداروں نے شہر سے کچرا اٹھانا بند کردیا جس کے باعث شہر کی کچرہ کنڈیاں بھرگئی ہیں اور شہر میں مہلک امراض پھوٹ پڑنے کا خطرہ پیدا ہوگیا۔

تفصیلات کے مطابق بلدیاتی اداروں نے شہر سے کچرا اٹھانا بند کردیاجس کی وجہ سے شہر کے مختلف علاقوں رنچھوڑ لائن، محمد بن قاسم روڈ، برنس روڈ، پاکستان چوک، سی آئی اے سینٹر، ایمپریس مارکیٹ، نارائن پورہ سمیت مختلف علاقوں میں کچرہ کنڈیاں کچرے سے بھرگئیں، شہر کے بعض علاقوں خصوصاً نارائن پورہ رنچھوڑ لائن میں بیس بیس فٹ اونچے کچرے کے ڈھیر لگ گئے ہیں اور پورے علاقے میں سخت تعفن پھیل گیا ،جس کی وجہ سے لوگوں کا اس کچرہ کنڈی کے قریب سے گزرنا مشکل ہوگیا،علاقے میں مکھی اور مچھروں کی بھرمار ہوگئی، گٹر کی لائن بھی چوک ہوگئی ہے۔

جس کی وجہ سے نارائن پورہ اور اس کے اطراف کی گلیوں میں گٹر کا پانی جمع ہوگیا، نمازیوں کیلیے علاقے کی مسجد میں داخل ہونا بھی مشکل ہوگیا، شہر کے اہم علاقے محمد بن قاسم روڈ جہاں اہم دفاتر واقع ہیں اس علاقے میں ایس ایم لا کالج کے سامنے کچرا کنڈی کے باہر کچرے کے ڈھیر لگ گئے اور کچرہ گذشتہ دس روز سے نہیں اٹھایا گیا،کچرا کنڈی کے باہر جمع ہونے والا کچرہ اس قدر زیادہ ہے کہ کچرہ کنڈی سے گزرنے والی سڑک بھی بند ہوگئی۔



سندھ سیکریٹریٹ کے عقب میں واقع کچرہ کنڈی بھی بھرجانے کے بعد کچرہ سڑک پر جمع ہوگیا ہے اور اس قدر پھیل گیا ہے کہ قریب واقع گھروں کے آگے بھی جمع ہوگیا ہے اور مکینوں کا اس سڑک سے گزرنا مشکل ہوگیا، علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ کچرا گذشتہ پندرہ روز سے نہیں اٹھایا گیا،علاقے میں بڑا نالہ بھی کھلا پڑا ہے جس کی وجہ سے کسی بھی وقت کوئی خطرناک حادثہ پیش آسکتا ہے، پاکستان چوک پر بھولو پہلوان کے اکھاڑے کے نزدیک واقع کچرہ کنڈی کی صفائی بھی کئی ہفتوں سے نہیں ہوئی اور کچرہ لوگوں کے گھروں کے آگے جمع ہوگیا ہے۔

علاقے کے لوگوں نے بتایا کہ متعلقہ محکمہ کو شکایت کی گئی ہے لیکن اس کے باوجود صفائی ستھرائی کے کاموں پر توجہ نہیں دی جارہی ہے، شہر کے مختلف علاقوں کھارادر، بوہرہ پیر، گارڈن، پاک کالونی، سولجربازار، جمشید ٹائون سمیت شہر کے دیگر علاقوں میں بھی کچرہ کنڈیاں کچرے سے بھری ہوئی ہیں اور متعلقہ محکمے کی جانب سے کچرہ اٹھانے کا کام مکمل طور پر بند ہے۔

دوسری جانب کے ایم سی اور ٹائونز کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ کچرہ اٹھانے والی گاڑیاں کھڑی کردی گئی ہیں اور کچرہ اٹھانے کا کام بند ہے کیونکہ گاڑیوں کو چلانے کیلیے فیول دستیاب نہیں ہے، فیول کی ادائیگی گزشتہ ایک ماہ سے نہیں کی گئی ہے اور کروڑوں روپے کے واجبات اب تک ادا نہیں کیے گئے ہیں۔