بینظیر بھٹو کے نام پر جاری اسکیموں میں کروڑوں کی لوٹ مارکا منصوبہ

20کروڑ کے ٹھیکے من پسند ٹھیکیداروں کو دینے کیلیے ٹینڈرز سکھر میں کھولے گئے


Staff Reporter December 04, 2017
ٹینڈر کراچی میں کھولنے سے مقابلے پر حکومت کو کروڑوں کی بچت ہوتی، کنٹریکٹرز فوٹو : فائل

SYDNEY, AUSTRALIA: شہید بے نظیر بھٹو ٹاؤن پروگرام کے تحت سندھ بھر میں ترقیاتی منصوبے جاری ہیں۔

بے نظیر بھٹو ٹاؤن کا مرکزی دفتر کراچی میں قائم ہے ایس ایم بی بی ٹی کے افسران نے بے نظیر بھٹوکے نام پر سرکاری خزانے کو بھاری نقصان پہنچاکر کروڑوں کی لوٹ مار کا منصوبہ بنا لیا۔ کنٹریکٹرز نے حکومتی سرپرستی میں ترقیاتی کاموں کی لوٹ مار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ عدلیہ سے ازخود نوٹس لینے کی اپیل کر دی۔

تفصیلات کے مطابق شہید بے نظیر بھٹو ٹاؤن کے تحت سندھ کے مختلف اضلاع میں 20کروڑ سے زائد لاگت کے 4ٹھیکے من پسند کنٹریکٹرز کو دے کر نوازنے کیلیے ان کے ٹینڈر کراچی میں موجود ہیڈ آفس میں کھولنے کے بجائے سکھر سائٹ آفس میں کھولے جارہے ہیں۔ کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ پیپلز پارٹی کی سندھ حکومت کے دور میں بے نظیر بھٹو شہید کے نام پرکروڑوں کے ترقیاتی کام کھلے عام ٹھکانے لگائے جارہے ہیں، سندھ حکومت کے حکام پراسرار طور پر خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

کنٹریکٹرز کا کہنا ہے کہ مذکورہ کاموں کے ٹینڈر کراچی میں کھولے جاتے تو حکومتی خزانے کو مقابلے کی صورت میں کروڑوں روپے کی بچت ہوسکتی تھی تاہم حکومت کو کروڑوں روپے کا نقصان پہنچانے اور اپنے ذاتی ریونیو میں کروڑوں کا اضافہ کرنے کیلیے افسران نے ٹینڈر اوپن کرنے کا مقام کراچی کے بجائے سکھر سائٹ آفس کو بنا لیا۔