بلدیہ کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر کی لاکھوں روپے یومیہ کرپشن

نشاندہی پر صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی (اینٹی کرپشن) نے نوٹس لے لیا ہے۔


Staff Reporter January 15, 2018
نشاندہی پر صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی (اینٹی کرپشن) نے نوٹس لے لیا ہے۔ فوٹو: فائل

لاہور: عدالتی احکام کے خلاف پل اور فلائی اوورز کے نیچے چارجڈ پارکنگ کے نام پر لاکھوں روپے یومیہ کی لوٹ مار پر اینٹی کرپشن نے نوٹس لے لیا۔

غیرقانونی چارجڈ پارکنگ اور قبضے کے مبینہ سرپرست بلدیہ کراچی کے ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل کے خلاف تحقیقات کا آغاز کر دیا گیا، اینٹی کرپشن کی ٹیم کا لیاقت آباد 10 نمبر فلائی اوور اور کریم آباد پل کے نیچے قائم چارجڈ پارکنگ کا دورہ کیا،غیرقانونی پارکنگ قائم کرنے والوں نے ڈپٹی ڈائریکٹر خواجہ عبدالحلیم کی سرپرستی کا بھانڈا پھوڑ دیا۔

شہری حلقوں نے وزیر بلدیات، میئر کراچی سمیت دیگر حکام سے فوری کارروائی کا مطالبہ کردیا۔ بلدیہ کراچی کے محکمہ چارجڈ پارکنگ کے ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل نے عدالتی احکام کے خلاف پل اور فلائی اوورز کے نیچے مبینہ بھاری نذرانوں کے عوض چارجڈ پارکنگ اور قبضہ کرا کے وزیر بلدیات، سیکریٹری لوکل گورنمنٹ اور میئر کراچی کو توہین عدالت کا مرتکب بنادیا ہے، ذرائع ابلاغ میں نشاندہی پر صوبائی محکمہ انسداد رشوت ستانی (اینٹی کرپشن) نے نوٹس لے لیا ہے۔

محکمہ چارجڈ پارکنگ کے ذرائع کے مطابق اینٹی کرپشن کی ٹیم نے گزشتہ دنوں کریم آباد، لیاقت آباد، ڈاک خانہ فلائی اوور کے نیچے قائم چارجڈ پارکنگ اور قبضہ کیے جانے والے مقامات کا دورہ کیا اور معلومات حاصل کیں۔ ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ چارجڈپارکنگ مافیا اور قابضین نے اپنے سرپرست کا نام ٹیم کو بتادیا۔

ذرائع کے مطابق بتایا گیا ہے کہ ڈپٹی ڈائریکٹر سینٹرل خواجہ عبدالحلیم نے مذکورہ جگہ کو بطور پارکنگ استعمال کرنے کی اجازت دی ہے جس پر اینٹی کرپشن نے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے کہ عدالتی احکام کے باوجود کس طرح یہ پارکنگ الاٹ کی گئیں اور چالان جاری کر کے انھیں قانونی تحفظ فراہم کرنے کی کو شش کی گئی ہے جب کہ شہری حلقوں نے انتہائی دیدہ دلیری سے جاری افسران کی لوٹ مار پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اعلیٰ حکام بالخصوص وزیر بلدیات اور میئر کراچی سے فوری نوٹس اور ملوث افسران کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کردیا ہے۔