الیکشن کے موقع پر سندھ میں فوج بلانا ضروری نہیں وزیر اعلیٰ

کراچی کے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں، رینجرز اور پولیس کو کھلی چھوٹ دیدی ہے .


Numainda Express April 13, 2013
میرے خیال میںحلقہ بندی کا اب کوئی مسئلہ نہیں،ہر امیدوار کو 5 سیکیورٹی اہلکار دیے جائینگے فوٹو: فائل

نگراں وزیر اعلی سندھ جسٹس (ر) زاہد قربان علوی نے کہا ہے کہ وہ 2 سال سے کراچی میں ٹارگٹ کلنگ دیکھ رہے ہیں۔

حیدرآباد میں بھی اگر ٹارگٹ کلنگ ہوتی ہے تو وہ اس کو بھی دیکھ لیں گے، کراچی میں رینجرز اور پولیس کو کھلی چھوٹ دی ہے کہ وہ میدان میں جائیں اور وہ اقدام کریں کہ اچھی فضا بنے اورایسا ہی حیدرآباد میں بھی کریں گے اور حیدرآباد میں بھی ماحول اچھا پیدا کریں گے۔ حیدرآباد کے دورے کے دوران ضلعی سیکریٹریٹ میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھاکہ الیکشن اور امن وامان کے حوالے سے حیدرآبادکی سیاسی جماعتوں کے مسائل حل کرنے کی کوشش کریں گے، ہمارا وعدہ ہے کہ الیکشن اپنے وقت پر ہوںگے اور حیدرآباد ڈویژن میں بھی امان وامان کا مسئلہ حل کریں گے۔

انھوں نے کہا کہ تقرر وتبادلوں کا سلسلہ اب ختم ہوگیا ہے، بعض افراد نے کہا کہ چند مخصوص افراد کو ہٹایا اور لگایا جائے لیکن ہم نے میرٹ پر تبادلے کیے کیونکہ ڈپٹی کمشنرز اور پولیس وہ مرکزی افراد ہیں جوکہ ووٹ پر اثرانداز ہوسکتے ہیں، اس وقت ہماری ترجیح صرف امن وامان اور الیکشن کا پرامن انعقاد ہے۔ انھوں نے کہا کہ وہ یہ نہیں بتاسکتے کہ الیکشن کے موقع پر امن وامان کو یقینی بنانے کے لیے کیسے اقدامات کیے جائیں گے۔ کراچی اور سندھ کے مختلف علاقوں میں حالات خراب ہونے اور ایک امیدوار کے قتل کے پیش نظر الیکشن کے موقع پر سندھ بھرمیں فوج بلانے کے متعلق سوال پر نگراں وزیر اعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ فوج کو بلانا ضروری نہیں ہے۔



کراچی کے حالات پہلے سے زیادہ خراب ہیں تاہم اگر وہ کہیں گے توہم ضرور فوج کو بلائیں گے تاہم انھوں نے یہ نہیں بتایا کہ کون کہے گا کہ تو فوج بلائیں گے۔ کراچی میں نئی حلقہ بندی کے متعلق پوچھے گئے سوال پر انھوں نے کہا کہ میرے خیال میںحلقہ بندی کا اب کوئی مسئلہ نہیں ہے۔ انھوں نے کہ کہا کہ ہر امیدوار کو 5 سیکیورٹی اہلکار دیے جائیں گے، ہماری کوشش ہے کہ ماحول ایسا ہوکہ عوام پولنگ بوتھ تک پہنچ کر ووٹ کاسٹ کرسکے۔ سندھ میں 10 جماعتی انتخابی اتحاد کی جانب سے نگراں وزیراعلی پر لگائے جانے والے الزامات اور تحفظات کے متعلق سوال پر نگراں وزیر اعلیٰ کا کہنا تھاکہ اگر مجھ پر کوئی الزام یا تحفظات کا اظہار کرسکتا ہے تو وہ کسی کو نہیں روک سکتے۔