گھروں میں کام کرنے والوں کیلیے قانون سازی کی جائے زہرا

قانون نہ ہونے کے باعث ورکرز تسلیم جاتا نہ ہی کوئی مراعات حاصل ہیں


Numainda Express May 01, 2013
زہرا خان نے کہا کہ چوڑی کی صنعت سے وابستہ خواتین اور بچے گھروں میں 50سے زائد توڑے دن بھر میں بناتے ہیں، لیکن انہیں معاوضہ صرف 50روپے دیا جاتا ہے.

شکاگو کے مزدروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلیے ہوم بیسڈ وومن ورکرز فیڈریشن کے تحت حیدرآباد پریس کلب کے سامنے مظاہرہ کیا گیا اور شکاگو میں مزدروں کیلیے کی جانے والی جدوجہد میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے مزدوروں کو خراج تحسین پیش کرنے کیلیے شمعیں بھی روشن کی گئیں۔

اس موقع پر زہرا خان، شہلا رضوان و دیگر نے کہا کہ آج بھی خواتین محنت کش ان ہی مسائل کا شکار ہیں، جس کے لیے شکاگو کے مزدوروں نے جدوجہد کا آغاز کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ایک اندازے کے مطابق گھروں میں کام کرنے والے محنت کشوں میں خواتین اور بچوں کی تعداد 70فیصد سے زائد ہے اور وہ دن رات محنت کر کے ملک کی معیشت کو بڑھانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہے۔



لیکن اس کے باوجود گھروں میں کام کرنے والی خواتین، بچوں کو نہ تو ورکرز تسلیم کیا جاتا ہے اور نہ ہی انھیں حکومتی سطح پر کوئی مراعات حاصل ہوتی ہیں، جس کے باعث یہ خواتین اور بچے اپنے جائز حقوق سے محروم رہتے ہیں اور دن رات محنت کر کے بھی معاشی مشکلات کا شکار رہتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ چوڑی کی صنعت سے وابستہ خواتین اور بچے گھروں میں 50سے زائد توڑے دن بھر میں بناتے ہیں، لیکن انہیں معاوضہ صرف 50روپے دیا جاتا ہے جو اس مہنگائی میں نہ صرف ناکافی ہے بلکہ ا سمیں ایک وقت کا آٹا بھی نہیں آتا ہے۔ انھوں نے نگراں حکومت سے مطالبہ کیا کہ گھروں میں کام کرنے والے مزدوروں کو قانوناً ورکرز تسلیم کیا جائے اور ان کے لیے قانون سازی کر کے لیبر قوانین کے تحت انہیں حقوق دیے جائیں۔