حیدرآباد سرکاری اسکولوں میں مفت کورس فراہم نہ ہوسکا

تعلیمی سال شروع ہوئے 2ماہ گزرچکے، طلبہ کی پڑھائی متاثرہورہی ہے،خالد آفریدی


Numainda Express May 20, 2013
اسکولوں میں تدریسی عمل کو شروع ہوئے 2 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال کئی اسکولوں میں مفت کورس فراہم نہیں کیا گیا. فوٹو: فائل

حیدرآباد کے سرکاری تعلیمی اداروں میں تعلیمی سال شروع ہوئے دوماہ گزرجانے کے باوجود متعدد اسکولوں میں زیر تعلیم طالب علموں کو تاحال مفت کورس فراہم نہیں کیا جاسکا ہے جس کے نتیجے میں ان اسکولوں میں تاحال تدریسی عمل شروع نہیں ہوسکا ہے جب کہ ایس ایم سی فنڈز جاری نہ کیے جانے کے باعث سرکاری اسکولوں کے صدر مدرسین اور اساتذہ چندہ کرکے اپنی درسگاہوں کو چلانے پر مجبور ہیں۔

سابق ضلع حکومت نے تعلیمی معیار کو مزید بہتر بنانے کے لیے حیدرآباد کے مختلف سرکاری پرائمری اسکولوں کو انگلش میڈیم کا درجہ دیا تھا جس میں 124لڑکوں اور47 لڑکیوں کے پرائمری اسکول سمیت دس گرلز مڈل اسکول بھی شامل ہیں اسکولوں میں تدریسی عمل کو شروع ہوئے 2 ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے لیکن تاحال کئی اسکولوں میں مفت کورس فراہم نہیں کیا گیا جس کے باعث ان اسکولوں میں زیر تعلیم بچوں کا نہ صرف پڑھائی کا حرج ہورہا ہے بلکہ کورس نہ ملنے کے باعث بچوں کے والدین بھی شدید ذہنی اذیت سے دوچار ہیں جب کہ ریفارم سپورٹ یونٹ کی جانب سے اسکولوں میں صفائی ستھرائی سمیت دیگر امور کی انجام دہی کے لیے کڑروں روپے کے فنڈز متعلقہ اے ڈی اوزکو دیے گئے تھے لیکن فنڈز بندر بانٹ کی نذر ہوگیا۔



اس حوالے سے جمعیت المدرسین کے رہنماوں خالد آفریدی کے ایم فیصل ،شازیہ اعظم ودیگر نے بھی مختلف اسکولوں میں کورس نہ فراہم کرنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے اپنے بیان میں کہا ہے کہا سکولوں میں کورس کی عدم فراہمی کے باعث طالبلعموں کی پڑھائی متاثرہورہی ہے جب کہ ریفارم سپورٹ یونٹ کے تحت مخصوص بجٹ جاری ہوچکا ہے۔ انھوں نے نگراں وزیر اعلیٰ ، سیکریٹری تعلیم ودیگر حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ درسی کتابوں کی تقسیم کا نوٹس لیتے ہوئے کتابوںکی تقسیم کو یقینی بنوائے اور ایس ایم سی فنڈز متعلقہ تعلیمی افسران کو دینے کے بجائے صدر مدرسین کے اکاؤنٹ میں منتقل کیے جائے تاکہ اسکولوں کے معمالات کو بہتر انداز میں چلایا جاسکے۔