چوہدری نثارمیری تقرری چیلنج نہیں کرسکتےچیئرمین نیب

سابق اپوزیشن لیڈرکی پارٹی کے سربراہ کاریفرنس زیرالتوا ہے،درخواستگزار کے سیاسی مقاصد تھے.


Numainda Express May 26, 2013
ججز اورچیئرمین نیب کوہٹانے کاآئینی طریقہ ہے،سپریم کورٹ میں جواب ،سماعت کل ہوگی فوٹو: فائل

KARACHI: چیئرمین نیب ایڈمرل(ر)فصیح بخاری نے اپنی تقرری کے خلاف چوہدری نثار کی درخواست کا جواب سپریم کورٹ میں جمع کرادیا ہے۔

اس کیس کی سماعت کل سپریم کورٹ میں ہوگی۔ انھوں نے لطیف کھوسہ کے ذریعے اپنے جواب میںموقف اختیارکیاکہ درخواست گزاراب قائد حزب اختلاف نہیں رہے، ان کی درخواست غیرموثر ہوچکی ہے۔ حالیہ عام انتخابات میں درخواست گزار پر عوام نے عدم اعتمادکا اظہارکیا اور وہ قومی و صوبائی اسمبلی کی ایک ایک نشست سے منتخب ہونے میں ناکام ہوئے۔



درخواست دائرکرنے کے سیاسی مقاصد تھے تاکہ صدر مملکت کو بدنام اورعام انتخابات میں فائدہ حاصل کیا جا سکے۔ درخواست گزارکی پارٹی کے سربراہ کے خلاف بدعنوانی کے الزام میں ریفرنس زیرالتوا ہے، وہ چیئرمین نیب کی تقرری کوچیلنج نہیں کرسکتے،جواب میں کہاگیاہے کہ چیئرمین کو عہدے سے ہٹانے کیلیے وہی طریقہ کار ہے جو اعلیٰ عدلیہ کے جج کو ہٹانے کیلیے آئین میں مقرر ہے،چیئرمین نیب کی تقرری کو سپریم کورٹ میں چیلنج نہیں کیا جا سکتا کیونکہ ہائیکورٹ کی صورت میں فورم موجود ہے۔