ملک بھر میں یوم دفاع و شہداء بھرپور جوش و جذبے سے منایا گیا
یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب جی ایچ کیو میں ہوئی جس میں وزیر اعظم عمران خان نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی
وطن کا دفاع کرنےوالے غازیوں اورشہداء کوسلام عقیدت پیش کرتے ہیں،وزیراعظم ۔
لاہور:
ملک بھر میں یوم دفاع و شہداء بھرپور جوش اور جذبے کے ساتھ منایا گیا، مرکزی تقریب جی ایچ کیو میں منعقد ہوئی جس میں وزیراعظم عمران خان اور آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے شرکت کی۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب منعقد ہوئی جس میں وزیر اعظم عمران خان، وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر خزانہ اسد عمر، تینوں مسلح افواج کے سربراہان نے شرکت کی۔
یوم دفاع کی تقریب میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف اور پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری سمیت دیگر رہنما شامل تھے جب کہ تقریب میں کھلاڑیوں اور فنکاروں کی بھی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
یاد رہے کہ 6 ستمبر 1965ء کو بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تھا جس کا پاکستان نے بھرپور جواب دیتے ہوئے دشمن کے دانت کھٹے کر دیے تھے، اسی دن کی یاد میں آج یوم دفاع و یوم شہداء پاکستان بھرپور انداز میں منایا گیا۔
یوم دفاع و شہداء کا آغاز نمازِ فجر کے بعد مساجد میں ملکی سلامتی و ترقی کے لیے خصوصی دعاؤں سے ہوا۔ اس کے علاوہ دیگر مذاہب کی عبادت گاہوں میں ملک کی بقا اور سلامتی کے لیے دعائیہ تقریبات کا انعقاد ہوا۔
قوم نے اپنے شہداء کو خصوصی خراج عقیدت پیش کیا جب کہ شہیدوں کے ساتھ ساتھ غازیوں کو بھی سلام پیش کیا گیا۔

یوم دفاع و شہداء کی مناسبت سے خصو صی تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ کراچی میں یومِ دفاع کے سلسلے میں مزارِ قائد پر گارڈز کی تبدیلی کی پُر وقار تقریب ہوئی، جہاں پاکستان ایئرفورس اصغر خان اکیڈمی کے کیڈٹس نے مزارِ قائد پر گارڈز کے فرائض سنبھال لیے، جن میں 5 لیڈی کیڈٹس بھی شامل ہیں۔

یوم دفاع کے حوالے سے مزار اقبال پر پروقار تقریب ہوئی جس میں پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے سلامی پیش کی۔ پاک فوج کے گیریژن کمانڈر میجر جنرل محمد عامر نے مزار اقبال پر پھول چڑھائے اور فاتحہ خوانی کی، میجر جنرل محمد عامر نے مہمانوں کی کتاب میں اپنے تاثرات درج کیے۔
یوم دفاع و شہداء کے موقع پر نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد میں بھی پُر وقار تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں سربراہ پاک بحریہ کا پیغام پڑھ کر سنایا گیا۔

آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے یوم دفاع و شہداء کے موقع پر شہداء کے لواحقین کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا کہ شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے خصوصی پروموز تیار کیے جس میں شہداء جدوجہدِ آزادی کشمیر کو بھی سلام پیش کیا گیا۔
یومِ دفاع کے سلسلے میں افواجِ پاکستان کی جانب سے مختلف شہروں میں ہتھیاروں کی نمائش کی گئی جب کہ ریلوے اسٹیشنز اور ایئرپورٹس سمیت نمایاں مقامات پرشہداء کی تصاویر آویزاں کی گئیں۔
پاکستان اب کسی اور کی جنگ میں شریک نہیں ہوگا، وزیر اعظم
جی ایچ کیو میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ پاکستان کسی اور کی جنگ میں نہیں پڑے گا اور خارجہ پالیسی بھی صرف عوام کی بہتری کے لیے ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ سول ملٹری تعلقات میں کوئی مسئلہ نہیں ہے، ہم سب اکٹھے ہیں ہمارا جینا مرنا ایک ہے۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ پاکستان اسلام کے نام پر بنا ہے اور اللہ نے پاکستان کو سب کچھ دیا ہے، جنگ و بمباری کسی ملک کو تباہ نہیں کرتی بلکہ جس ملک کے ادارے تباہ ہوتے ہیں وہ ملک تباہ ہوتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں اپنےادارے مضبوط کرنے ہیں، سیاسی مداخلت سےادارے تباہ ہوجاتے ہیں، پاک فوج ایک مضبوط ادارہ ہے، فوج میں میرٹ کا سسٹم ہے اور کوئی سیاسی مداخلت نہیں، اب باقی کمزور اداروں کو بھی مضبوط بنائیں گے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ آج کے بڑے مسائل پانی وبجلی کے ساتھ ساتھ قرضوں جیسے مسائل ہیں، ملک قرضوں میں ڈوبا ہوا ہے لیکن یہ ملک اٹھے گا، ہم ایک قوم بنیں گے اور ایسا تب ہوگا جب کمزور طبقہ اور پسے ہوئے لوگوں کو برابری کے حقوق ملیں گے۔
جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی، آرمی چیف
پاک فوج کے جنرل ہیڈ کوارٹر (جی ایچ کیو) میں یوم دفاع پاکستان کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ 6 ستمبرملکی تاریخ کا اہم دن ہے، آج کا دن شہدا پاکستان سے یکجہتی کا دن ہے، اس دن پوری قوم نے متحد ہوکر دشمن کے دانت کھٹے کردیے، قوم کا ہر فرد سپاہی کے ساتھ کھڑا رہا، ہمارے جوانوں اور شہریوں نے جنگ میں قربانیاں دیں۔
آرمی چیف نے کہا ہے کہ دہشت گردی کے خلاف ہم نے کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ختم نہیں ہوئی بلکہ ابھی جاری ہے، ہماری جنگ اب بھوک افلاس اور ناخواندگی کے خلاف ہوگی جسے جیتنے کے لیے ہمیں متحد ہونے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ 65ء اور 71ء کی جنگوں سے ہم نے بہت کچھ سیکھا، پاک فوج کی دفاعی صلاحیتوں کو بڑھایا، نامساعد حالات اور معاشی مسائل کے باوجود ایٹمی صلاحیت کے حامل ملک بنے، بعدازاں دنیا بھر میں غیر روایتی جنگ کا آغاز ہوا، دہشت گردی کی لہر اٹھی جس میں جنگ کی ساخت اور اس کے انداز بدل گئے۔
جنرل قمر جاوید باجوہ کا کہنا تھا کہ پاکستان بھی اس غیر روایتی جنگ کا نشانہ بنا تاہم ہماری افواج نے قربانیاں دیتے ہوئے اس جنگ سے لڑنا سیکھا، ہماری عبادت گاہوں اور تفریح گاہوں پر حملے کیے گئے مگر سلام ہے ہماری قوم اور فوج پر جو اس جنگ کے آگے ڈٹی رہی اور دہشت گردی کے اس ناسور کا سب نے مل کر مقابلہ کیا اور اس جنگ میں 70 ہزار سے زائد پاکستانی شہید اور زخمی ہوئے جب کہ قومی خزانے پر بوجھ الگ ہے۔
پاک فوج کے سربراہ نے کہا کہ تمام پاکستانیوں کو افواج کا شکر گزار ہونا چاہیے جن کے بغیر یہ جنگ جیتنا ممکن نہیں تھا، قربانیاں دینے والوں میں فوج، پولیس، رینجرز، ایف سی سمیت سویلین بھی شامل ہیں اسی لیے یوم دفاع کے ساتھ آج یوم شہدا بھی مناتے ہیں کیوں کہ جو قومیں شہدا کو بھول جاتی ہیں وہ مٹ جاتی ہیں۔
جنرل قمر باجوہ نے کہا کہ ہم سابقہ دو دہائیوں میں بہت مشکل دور سے گزرے اور کامیابیاں حاصل کیں لیکن جنگ ابھی جاری ہے، ملکی و تعمیر و ترقی کو یقینی بنانا اور ملک کو کسی مقام پرپہنچانے کے لیے دفاعی ترقی کے ساتھ ساتھ ملکی تعمیر ہمارے لیے اہمیت کی حامل ہے، ہماری جنگ بھوک افلاس اور ناخواندگی کے خلاف بھی جاری رہے گی لیکن اس مقصد کو پانے کے لیے متحد ہونے کی ضرورت ہے کیوں کہ اسی صورت میں ہی ہمیں کامیابی ملے گی۔
آرمی چیف نے مزید کہا کہ ملکی ترقی کے لیے جمہوریت کا تسلسل بہت ضروری ہے اور جمہوریت اداروں کی مضبوطی کے بغیر نہیں پنپ سکتی، آج ہم اس مقام پر موجود ہیں کہ جمہوریت میں ہر مکتبہ فکر کے نمائندے موجود ہیں۔