اے این پی نے اپنی قیادت اور وزرا کو شکست کا ذمے دار قرار دیدیا

حکومت میں جاتےہی پارٹی تنظیموں اور ورکروں کونظر انداز کردیا گیا،شکست کےذمے داروں کو پارٹی سے فارغ کیاجائے،ورکنگ کمیٹی.


Numainda Express June 05, 2013
قیادت نے شکست کی وجوہ جاننے کیلیے کمیٹی بنارکھی ہے،رپورٹ آنے پرمن وعن عمل درآمد کیا جائیگا،صوبائی صدر افراسیاب خٹک۔ فوٹو: فائل

عوامی نیشنل پارٹی کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کے ارکان نے عام انتخابات کے دوران پارٹی کی شکست کے حوالے سے پارٹی قیادت،سابق وزراء اور اراکین اسمبلی پر شدید تنقید کرتے ہوئے ان پرالزام عائد کیاکہ وہ حکومت میں جاتے ہی پارٹی تنظیموں اور ورکروں سے دور ہوگئے اور انھوں نے رابطے ختم کردیے جو پارٹی شکست کی بڑی وجہ ہے جبکہ الیکشن مہم کو بھی مناسب طریقہ سے نہیں چلایاجاسکا۔

اس لیے پارٹی ان ذمے داروں کیخلاف کارروائی کرے تاہم پارٹی قیادت نے الیکشن میں شکست کی وجوہ جاننے کیلیے بشیر مٹہ کی سربراہی میں کام کرنیوالی حقائق کی تلاش پر مامور کمیٹی کی رپورٹ تک انتظار کرنے اور اس رپورٹ پر من وعن عمل درآمد کا اعلان کیا۔عام انتخابات کے بعد اے این پی کی صوبائی ورکنگ کمیٹی کا پہلا اجلاس پارٹی کے صوبائی صدر سینیٹر افراسیاب خٹک کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں سابق وزیراعلیٰ امیر حیدر ہوتی اور پارٹی کے دیگر رہنمائوں سمیت 250 ارکان نے شرکت کی جس میں عام انتخابات اور اس کے نتائج ،ضمنی اور بلدیاتی انتخابات کی تیاری اور پارٹی کی تنظیم سازی کے حوالے سے غورکیا گیا ۔



اجلاس کے دوران ورکنگ کمیٹی کے ارکان نے پارٹی قیادت ،سابق وزراء اور اراکین اسمبلی کو اس حوالے سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا کہ پانچ سالہ دوراقتدار میں انھوں نے خود کو پارٹی ورکروں اور تنظیموں سے دور رکھا اور الیکشن کے دوران بھی ان رابطوں کو مناسب طریقہ سے بحال نہیں کیا جاسکا اور نہ ہی امن وامان کی صورتحال کو مد نظر رکھتے ہوئے پارٹی کی انتخابی مہم کو چلانے کے سلسلے میں موثر منصوبہ بندی کی گئی جس کے نتیجے میں پارٹی کو بدترین نتائج کا سامنا کرنا پڑا۔