کیمرون میں علیحدگی پسندوں نے 79 طلبا کو پرنسپل سمیت اغوا کرلیا

شدت پسندوں نے تاوان کے بجائے اسکول کی بندش کا مطالبہ کیا ہے، ترجمان حکومت


ویب ڈیسک November 06, 2018
علیحدگی پسندوں نے بورڈنگ اسکول پر دھاوا بول کر طلبا اور اساتذہ کو لے گئے۔ فوٹو : فائل

افریقی ملک کیمرون میں علیحدگی پسندوں نے ایک بورڈنگ اسکول پر دھاوا بول کر پرنسپل، استاد اور ڈرائیور سمیت 79 طلبا کو اغوا کرلیا۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق افریقی ملک کیمرون کے شمال مغربی شہر بامیندا میں شدت پسند مسلح افراد نے بورڈنگ اسکول پر حملہ کرکے پرنسپل اُن کے ڈرائیور، ایک استاد اور 79 طلبا کو اپنے ہمراہ لے گئے۔ اسکول کے بچوں کے عمریں 10 سے 14 سال ہیں۔

اغواکاروں کی جانب سے مغویوں کی ویڈیو بنا کر سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ہے جس میں تمام بچوں کو ایک چھوٹے سے کمرے میں سہما ہوا دیکھا جا سکتا ہے، خوفزدہ بچے بلبلا کر رو رہے تھے جب کہ ویڈیو بنانے والا شخص انہیں زوردار آواز سے دھمکا رہا تھا۔ ویڈیو بنانے والے شخص نے آخر میں موبائل کیمرہ اپنی جانب کرلیا جس سے اس کی شکل بھی ویڈیو میں آگئی۔

Cameron

سوشل میڈیا پر جاری کی گئی ویڈیو میں اغوا کاروں نے کوئی مطالبہ نہیں کیا ہے تاہم کیمرون کی وزارت داخلہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ اغوا کاروں نے بچوں کی رہائی کے بدلے تاوان کے بجائے اسکول کو مکمل طور پر بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ حکومت اور اغوا کاروں کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

واضح رہے کہ جس علاقے سے بچوں کو اغوا کیا گیا ہے وہاں کئی علیحدگی پسند مسلح گروہ سرگرم ہیں جو فرانسیسی بولنے والے علاقوں سے علیحدگی چاہتے ہیں اور حال میں مسلح گروہوں نے اسکولوں کو بند کرنے کے لیے انتظامیہ کو دھمکیاں بھی دی تھیں۔