دہشت گردی کیخلاف قومی پالیسی بنائی جائے فاروق ستار مزار قائد پر شمعیں روشن

رہنماایم کیوایم،حیدرآباد،سکھر،نوابشاہ،گلگت بلتستان،آزادکشمیرسمیت ملک بھرمیں مظاہرے،لندن میں بھی احتجاج


کراچی :مزار قائد کے احاطے میں متحدہ قومی موومنٹ کی جانب سے امن کے لیے شمعیں روشن کی جارہی ہیں۔ فوٹو: ایکسپریس

متحدہ قومی موومنٹ کے زیراہتمام حق پرست رکن سندھ اسمبلی ساجدقریشی اوران کے صاحبزادے وقاص قریشی کے قتل کیخلاف کراچی،حیدرآباد،سکھر، نوابشاہ، میرپور خاص سمیت پاکستان بھرمیں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

مختلف شہروں میں پریس کلبوں اوراہم شاہراہوں پر مظاہروں کاانعقاد کیا گیا،کراچی میں قائداعظم محمدعلی جناح کے مزار پر ''شب امن برائے کراچی اورامن برائے پاکستان'' کے عنوان سے بڑی تقریب منعقدہوئی جس میں ہزاروںکی تعداد میں نوجوانوں، بزرگوں،خواتین،طلبا و طالبات ، علمائے کرام ، تاجر ، صنعتکار ،وکلا،صحافیوں، فنکاروں،کھلاڑیوں، عمائدین ومعززین شہرنے شرکت کی ۔ تقریب کاآغازتلاوت کلام پاک سے ہوااور بعدمیں قومی ترانے کی ریکارڈنگ بھی بجائی گئی۔تقریب ے شرکاء نے ساجد قریشی ،ان کے صاحبزادے وقاص قریشی اورپاکستان بھر میں دہشت گردی کا نشانہ بننے والے شہداکی یاد میں ہزاروں شمعیں روشن کیں اور شہداکوزبردست خراج عقیدت اورسلام تحسین پیش کیا۔اس سے قبل متحدہ کے رہنمائوں نے قائد اعظم محمد علی جناح کے مزارپرحاضری دی اور پھولوں کی چادر چڑھائی۔

تقریب میں صرف پاکستان کے سبزہلالی پرچم لہراتے دیکھائی دیے۔شرکانے اپنے ہاتھوں میں پلے کارڈ ز بھی اٹھا رکھے تھے جن پردہشت گردی کے خلاف کلمات تحریرتھے ۔تقریب سے خطاب کرتے ہوئے قومی اسمبلی میں ایم کیوایم کے پارلیمانی لیڈرڈاکٹرفاروق ستارنے کہاہے کہ پاکستان اوردہشتگردی ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے یاتوپاکستان رہے گا یا پھردہشتگردی رہے گی،اب مصلحت سے کام نہیں چلے گا ملک کے عوام کومتحد ہونا ہوگااورپاکستان کے ریاستی اداروں ، سیاسی جماعتوں کو پاکستان بچانے کیلیے اپنی ذمے داریوں کو پورا کرناہوگا،گزشتہ چنددنوں سے خاص طور پردہشتگردی کے واقعات میں جس تیزی سے اضافہ ہوا ہے ، چاہے کوئٹہ ، پشاور یا کراچی ہو جبکہ آج پاکستان کے سب سے پرامن خطہ گلگت بلتستان میں بھی دہشت گردی کاایک سنگین واقعہ ہوا ہے جس میں بیرونی سیاحوں کو سفاکی کے ساتھ قتل کیا گیاہے۔

ان حالات میں جب ہمیں کہیں امان نہ ملی تو آج ہم نے قائداعظم محمد علی جناح ؒ کے مزار کا رخ کیا اور مزار قائد ؒ کے احاطے میں جمع ہوکراہالیان پاکستان،محبان جمہوریت اور محبان امن سمیت ملک کے عوام کودعوت فکردی ہے کہ پاکستان کی معاشرت ، شہریت میں قائد اعظم ؒ کے ویژن کو ہم اجاگر کریں گے ۔انھوں نے کہاکہ ساجدقریشی اوران کے جواں سال بیٹے کی شہادت جمہوریت پر کاری ضرب لگانے کی غمازی ہے،عوام کو طے کرنا ہے اور میدان عمل میں آناہے،یہ پاکستان قائد اعظم کا پاکستان ہے، ہمارے تیسرے ایم پی اے کواس لیے شہید کیاگیاکیونکہ ایم کیوایم طالبانائزیشن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔انھوں نے کہاکہ سیاسی اکابرین کو بہت سنجیدگی کے ساتھ ایک قومی انسداد ہشت گردی پالیسی پرمتفق ہونے کی ضرورت ہے۔حیدرعباس رضوی نے کہاکہ پاکستان کی صورتحال یہ ہے کہ ایک طرف دہشت گرد ہیں اور دوسری طرف وہ تمام لوگ جو دہشت گردی کا شکار ہیں۔



دہشتگردپورے ملک میں دندناتے پھر رہے ہیں،اگر کوئی متحد ہے تو وہ دہشت گردہیں اور منتشرافراددہشت گردی کا شکارہیں،اس وقت دہشتگردی کے خلاف متحد ہونے کی ضرورت ہے۔معروف فنکار عمر شریف نے کہا کہ آج جوشمعیں روشن کی گئیں ہیں وہ بجھ نہیں سکتی کیونکہ یہ روح سے جلی ہیں جو بجھتی نہیں۔تقریب سے اصلاح الدین ،آرٹس کونسل کے سیکریٹری پروفیسر اعجاز فاروقی،فورم آف فریڈم آف ایکسپریشن ابرارحسن،معروف مذہبی رہنما شاہ سراج الحق ،فیڈرل بی ایریا اندسٹریل زون کے ہارون شمسی،چیئرمین سندھ تاجر اتحاد جمیل احمد پراچہ،معروف عالم دین علامہ علی کرار نقوی نے بھی خطاب کیا۔تقریب کے اختتام پر معروف عالم دین علامہ جمیل راٹھورنے خوش و خضوع کے ساتھ دعا کرائیساجد قریشی اور ان کے جواں سال صاحب زادے وقاص قریشی کے قتل کے خلاف حیدرآباد،جیکب آباد،شکارپوراور نوشہروفیروز اور اندرون سندھ کے دیگرشہروں میں بھی احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔

وہاڑی میں بھی پر یس کلب کے سا منے ایم کیو ایم کے کارکنوں کااحتجاجی مظاہرہ کیا۔سندھ کی طرح بلوچستان ،پنجاب ، خیبرپختونخواسمیت گلگت بلتستان اورآزادکشمیرمیں ایم کیوایم کے ذمے دوران وکارکنان کی جانب سے پریس کلبوں کے باہرپرامن احتجاجی مظاہرے کیے گئے جن میں بزرگوں ،خواتین ،بچوں،نوجوان طلبا و طالبات سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افرادنے بڑی تعدادمیں شرکت کی ،مظاہرین نے ہاتھوں میں پلے کارڈز،بینرزاورقومی پرچم اٹھارکھے تھے۔علاوہ ازیں آئی این پی کے مطابق اسلام آباد میں میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے فاروق ستار نے کہا ہے کہ حکومت فوری طور پر انسداد دہشت گردی کی قومی پالیسی تشکیل دے' دہشت گردی وفاقی یا صوبائی مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک قومی مسئلہ بن چکا ہے،کراچی میں متحدہ قومی موومنٹ کو الیکشن جیتنے کی سزا دی جارہی ہے، انھوں نے نانگا پربت سانحے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ تحریک طالبان کا گروپ جند اﷲ بتائے کہ وہ ان واقعات سے کون سے اسلام کی خدمت کررہے ہیں، انھوں نے کہا کہ میں چوہدری نثار علی خان سے ہاتھ جوڑ کر اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس حوالے سے تمام سیاسی جماعتوںکو اعتماد میں لے کر متفقہ پالیسی تشکیل دیں۔

نواز شریف کو پنجاب میں امن و امان کی صورتحال پر اطمینان کرنے کے بجائے دیگر تین صوبوں کی صورتحال پر خصوصی توجہ دینا ہوگی کیونکہ اگر دیگر تین صوبے اسی طرح دہشت گردی کا شکار رہے تو خدشہ ہے کہ دہشت گردی کہیں پنجاب کو اپنی لپیٹ میں نہ لے لے۔علاوہ ازیں لندن میں برطانوی وزیراعظم کی سرکاری رہائش گاہ 10ڈاؤننگ اسٹریٹ پر بھی ایک بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں سینیٹر نسرین جلیل نے بھی شرکت کی۔ دیگر شرکا میں رابطہ کمیٹی کے ارکان طارق جاوید، مصطفیٰ عزیز آبادی، ایم کیو ایم یو کے کے آرگنائزر ڈاکٹر سلیم دانش، جوائنٹ آرگنائزر فیض احمد اور یوکے کی آرگنائزنگ کمیٹی کے ارکان بھی شامل تھے۔

مظاہرین نے مقتول رکن سندھ اسمبلی ساجد قریشی، وقاص قریشی، و دیگر مقتولین کی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، مظاہرین نے پلے کارڈز بھی اٹھا رکھے تھے جن پر مہاجروں کی نسل کشی بند کرو، ایم کیو ایم پر ظلم بند کرو، کے نعرے درج تھے، نسرین جلیل نے خطا ب کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں لیکن انھیں گرفتار کرنے والا کوئی نہیں مصطفیٰ عزیز آبادی نے کہا کہ مہاجروں کی نسل کشی کی جارہی ہے، ہمیں تحفظ فراہم کرنے والا اور ہماری آواز سننے والا کوئی نہیں ہے۔ اس موقع پر برطانوی وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون کے نام ایک پٹیشن بھی پیش کی گئی جس میں ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی و دیگر کارکنوں کے بہیمانہ قتل اور تشدد کے واقعات کی تفصیلات درج تھیں۔